خودی کیا ہے؟

Posted on Updated on

خودی وہ اصطلاح ہے جو علامہ اقبال کے صرف اُردو کلام میں کم و بیش ایک سو پچیس مرتبہ استعمال ہُوئی ہے ۔ ‘بالِ جبریل [ سے اس فکر و فلسفہ کی اُٹھان ہوتی ہے اور ‘ضربِ کلیم ‘ میں تو گویا یہ اپنی معراج پر پہنچ گیا۔اقبال کی نظر میں یہ ایساگوہر ہے جو فرد اور قوم و اجتماعیت دونوں ہی کو تابدار بناتا اور آدمیت کو چار چاند لگاتا ہے ۔یہ نہ ہو تو فرد ہو یا قوم بے مایہ و بے حیثیت ہو کر رہ جاتے ہیں۔آج ہم بحیثیتِ قوم و مِلت جس ذِلت و ادبار میں ہیں اور جو زوال و پستی ہمارا مقدر ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی خُودی کو یا تو کھو بیٹھے ہیں یا پھر ا سے بیچ چکے ہیں۔اب نہ ہمیں چشمِ باطن کی بینائی نصیب ہے کہ خُودی کی کبریائی کا نظارہ کر سکتے اور وہ نگاہ روشن میسر ہے کہ خُودی کی جلوتوں میں مُصطفائی ۖکا مشاہدہ کر تے۔نہ وہ ہمت و ذوقِ شناوری ہے کہ خُودی کے بحر میں اترتے جس کا بقول اقبال کوئی کنارہ نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہمیں یہ علم ہی نہیں کہ خُودی در اصل ہے کیا ؟آئندہ سطور میں خُودی کے کچھ گوشوں کا جائزہ لیا جائے گا لیکن اس سوال پر غور کرنے سے پہلے کہ خُودی کیا ہے ،ضروری ہے کہ یہ دیکھ لیا جائے کہ وہ انسان کیا ہے جس کے اندر جوہرِ خُودی مطلوب ہے؟
اللہ سُبحانہ و تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کے قصے کو اپنی کتابِ حکیم میںبہت سے مقامات پر بیان فرمایا ہے۔اس کے اوّلین مادّے کے بارے میں چار بار فرمایا کہ یہ صَلْصٰلٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ یعنی سڑی ہُوئی مٹی کے سُوکھے گارے سے بنایا گیا۔(الحجر: ٦٢، ٨٢، ٣٣،الرّحمٰن : ٤١)یہ خمیر اُٹھی ہوئی مٹی کا ڈھانچا تھا جو بننے کے بعد خُشک ہُوا اور پھر اس میں خالق نے اپنی رُوح سے کچھ پھونکا (السّجدة :٩ ، الحجر: ٩٢، ص: ٢٧) اور یہ اس جیتے جاگتے اس انسان کی صورت میں وجود میں آگیا جس کو وہ بارِ امانت اُٹھانا تھا جس کو اٹھانے سے بڑے بڑے مظاہرِ فطرت نے عاجزی اور معذوری ظاہر کر دی تھی،اسے عبدیت کا نمونہ بن کر دکھانا تھا جو اس کی تخلیق کا مقصدِ اوّلین تھا اور خلیفةُ اللہ کی حیثیت سے اس رُوئے ارضی پربندگیِ رب کا ایک پورا نظام قائم کرنا تھا۔یہ وجودِ خاکی، جو صلصال یعنی خمیر اُٹھی ہُوئی مٹی کے خُشک ڈھانچے سے جنابِ آدم کی صورت گری کے بعد آگے ان کی نسل میں ایک خاص طبعی قانون ( physical law )کے تحت عورت اور مرد کے جنسی اتصال کے نتیجے میں نُطفے سے رحمِ مادر میں متشکل ہو کر ولادت پانے لگ گیا، اپنی اصل کے لحاظ سے بڑا کمزور ہوتا ہے۔وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعَیْفاً(النّسائ: ٨٢) ایک مُرغی کا چُوزا بھی انڈے سے نکلتے ہی اپنے پائوں پر کھڑا ہو جاتا ہے۔دانہ دنکا چُگنے لگ جاتا ہے۔چیل کوّے کو اوپر اُڑتا ہُوا دیکھتا ہے تو دوڑتا ہُوا اپنی ماں کے پروں کے نیچے پناہ ڈھونڈ لیتا ہے۔سارے چوپائیوں اور دیگر جانوروں کا بھی یہی حال ہے کہ ان کی جبلّت ان کی استاد اور رہنما ہوتی ہے ، جو ان کو پیدا ہونے کے بعد بتاتی ہے کہ ان کی خوراک کیا ہے، کیا ان کے لیے مفید ہے اور کس چیز میں ان کے لیے ضرر ہے اور ان کو ممکنہ حد تک اپنی جان کی حفاظت کس طرح کرنی ہے۔اس کے برعکس یہ صاحبِ شرف و کرامت انسان اپنی پیدائش کے کئی برس بعد تک بھی دوسروں کا محتاج رہتا ہے۔نہ اپنی خوراک خود کھا سکتا ہے، نہ حوائجِ ضروریہ سے از خود فراغت اور صفائی ستھرائی اس کے بس میں ہوتی ہے۔نہ خطرے کو بھانپ سکتا ہے اور نہ اس سے بچنے کی کوئی تدبیر کر سکتا ہے۔نہ اسے زہر کا پتا ہوتا ہے اور نہ یہ تریاق کی کوئی خبر رکھتا ہے۔دہکتا ہُوا کوئلہ ہو ،رینگتا ہُوا سانپ اور بِچھوہویا تیز دھار آلہ یہ اس کو پکڑنے اور اس سے کھیلنے کی کوشش کرتا ہے۔
بچپن کایہ جسمانی و عقلی ضُعف بڑی عمر میں ایک نفسیاتی مرض بن کر اس سے چمٹ جاتاہے۔اپنی سرشت کے اعتبار سے یہ بڑاکم ظرف،کم حوصلہ اور تھُڑ دلا ہے۔مصیبت میں جلدی گھبرا اُٹھتا ہے اور فراخی و خُوش حالی میں پھول جاتا اور حرص و بُخل کا شکار ہو جاتا ہے۔اس طبعی کمزوری کا ذِکر اللہ تعالیٰ نے سورہ المعارج میں ان الفاظ میں فرمایا ہے : اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ھَلُوْعاً ٭ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوْعاً ٭ وَّ اِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوعاً (انسان بڑا تھُڑ دِلا پیدا کیا گیا ہے، جب اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اُٹھتا ہے اور جب اسے خُوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بُخل کرنے لگتا ہے) اکثراندیشہ ہائے دور دراز کا اسیر، مغلوبِ خواہشات اور شہوات ، یقینِ مُحکم سے عاری اور عزمِ بلند سے خالی، فکرِ امروز و فردا میں ڈُوبا ہُوا،حاجات و ضروریات کا غلام اور عادات کی زنجیروں میں جکڑا ہُوا۔یہ ہے وہ انسان جس کواقبال اس صفت سے متصف دیکھنا چاہتے ہیں جس کے لیے انہوں نے لفظ ‘خُودی’ کو ایک عظیم جوہر اور خصوصیت بنا کر پیش کیا۔یہ اصطلاح اقبال کے عظیم فلسفے کا مغز بن گئی۔اقبال کے دور سے کچھ ہی عرصہ قبل کے اردو شعر و ادب میں خُود پسندی اور غرور و تکبر کے معنی دینے والے لفظ خُودی نے کلامِ اقبال میں آ کر ایک بلند اخلاقی قدر اور اعلیٰ انسانی وصف کی صورت میں نیا لباسِ معانی و مفہوم پہن لیا۔تعمیرِ خُودی کا اہم ترین پہلو خُود آگہی اور شعورِ ذات ہے۔’ میں کیا ہوں اور میں کیوں ہوں؟’ دو سوالوں کے درست جواب اس ِ خُودی کی بنیاد ہیں جس میں سِرِّ زندگانی پوشید ہ ہے۔ خُودی میں ڈوب کر ہی زندگی کا سراغ ملتا ہے ۔’جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے گویا اپنے رب کو پہچان لیا’ خُودی کے اسی پہلو کی ایک تعبیر ہے ۔خودی میں ڈوب کر ہی اس پیکرِ خاکی پر معرفتِ حق کا راز آشکارا ہو تا ہے اور پھر وہ اپنی حیثیت اور مرتبے سے آگاہ ہوتا ہے کہ وہ اس کائنات میں خُدا کا نائب و خلیفہ ہے ۔اس راز سے آگاہ ہو کر یہ خُودی کا رازداں اور خُدا کا ترجمان بن کر جاتاہے۔یہی خُود شناسی اس کے اوپر سے نفسانی کمزوریوں کے جالے صاف کرتی ہے۔انسانی مزاج کی وہ کمزوری جسے سورہ المعارج میںھَلَع کا نام دیا گیا ہے،جس میں بز دِلی و بے صبری ،اضطراب اور گھبراہٹ اور افسردگی و نا امیدی جیسی ساری منفی کیفیات شامل ہیں ، خُودی سے بے گانہ ہونے ہی کا نتیجہ ہیں۔ خُودی ضبطِ نفس کی آبیاری کرتی ہے تو ھَلَع کے روگ سے اسے چھٹکارا ملتا ۔
خُودی سے آراستہ ہونے کے بعد و ہ خاکی ہو تے اور خاک کے سارے اوصاف اپنے اندر رکھتے ہُوئے بھی حرص و ہوس ، خواہشات و شہوا ت اورلذّاتِ بدنی کی زنجیریں توڑ کر روح کا ہمسفر بن جاتا ہے جو بلندی مانگتی ہے۔خُودی کا سرِّ نہاں لا اِلٰہ اِلّا اللّٰہہے ۔ یہی لَا اِلٰہ جوہرِ توحید ہے ، اس لیے وہ حُبِ مال اورکششِ دولتِ دنیا سے بے نیاز ہو کر اور طلسمِ رنگ و بُو کو توڑ کر لا اِلٰہ میں ڈوب جاتااور خلافتِ اِلٰہیہ کے تقاضوں میں سرگرم ہو جاتا ہے۔خُودی خود داری اور عزتِ نفس کی دولت بخشتی ہے ۔عجز و درماندگی اوردست نگری و محتاجی ایک احساس کا نام ہے جو خُود داری اور عزتِ نفس سے محرومی کی صورت میں پھُوٹتا ہے۔خُودی اس احساس سے نکال کر بندہِ مؤمن کو ایک طرف تو شانِ بے نیازی و استغنا عطا کرتی ہے اور دوسری طرف اس میںجلال و جمال ِ پادشاہی کی نمو کرتی ہے۔
کمالِ خُودی جن اوصاف کا مرکّب ہے ان میں خُود اعتمادی کی بڑی اہمیت ہے۔اس وصف سے عاری افراد ہُوں یا کوئی قوم اپنی ہی نظر میں ایک بے مقدار ذرّہ اور ایک بے وزن تنکا بن کر رہ جاتی ہے۔اپنی کمتری اور بے وقعتی کا احساس ا س کو نمونۂِ عجز و درماندگی بنا کر رکھ دیتا ہے۔تعمیری جذبے سرد پڑ جاتے ہیں، تخلیقی صلاحیتیں مُرجھا جاتی ہیں، پیش قدمی کے ولولے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں، حرکت و عمل کی توانائیاں بے ثمر ہو جاتی ہیں۔ کوئی بڑی مُہم ِ جستجو تو درکنار اپنا وجود ہی بوجھ بن جاتا ہے۔ خُود اعتمادی سے محرومی انسان کو اپنی ہی نظر میں رائی سے بھی حقیر و کمتر بنا دیتی ہے لیکن جب اسی انسان میں خُودی کا جوہر پروان چڑھتا ہے تو خُود اعتمادی کی سوئی ہوئی قوتیں بیدار اور خُشک پڑے ہُوئے سوتے دوبارہ پھُوٹ پڑتے ہیں۔خُود تحقیری کی جگہ عزتِ نفس ابھرتی ہے، ذرّہ خُورشید اور قطرہ گوہر بن کر نمودار ہوتا ہے۔ اس رائی کے دانے کوپہاڑوں کی سی شانِ بلندی نصیب ہو جاتی ہے :
رائی زورِ خُودی سے پربت پربت ضُعفِ خُودی سے رائی
خُودی کے اجزائے ترکیبی میںضبطِ نفس کی بڑی اہمیت ہے۔یہ وصف فروغ پاتا ہے تو صاحِبِ خُودی نہ غم سے ٹُوٹ کر اور نہ خُوشی سے پھول کررہ جاتا ہے۔نہ غُصے میں وہ بے قابو ہوتا ہے اور نہ کسی جذبۂِ انتقام سے مغلوب۔نہ ہی وہ ایسا بے حِس ثابت ہوتا ہے کہ اس کے اندر کسی حال میں کوئی احساس ہی نہ پھُوٹے۔اس کا کوئی رویہ غیر متوازن اور وقار اور شائستگی سے خالی نہیں ہوتا۔حق و راستی کی کھینچی ہوئی لکیروں سے وہ کسی حال میں بھی تجاوز نہیںکرتا۔حالات سازگار ہوں یا نا مساعد، اس کی نظر ہر حال میں اپنے نصب العین پر رہتی ہے۔خُودی کردار میںشجاعت و بسالت اور جُرأت و ہمت کی بجلیاں دوڑا دیتی ہے ،اسی لیے صاحِبِ خُودی کو اقبال ‘شیرِ مَولا ‘ کا نام دیتے ہیں۔مکتبِ خُودی سے جو زرّیں درس ملتاہے اس میں غیرت و حمیت اور عزتِ نفس کا بڑا مقام ہے۔مؤمن خُودی کا نگہبان ہوتا ہے۔وہ جاہ و منصب اور وسیلۂِ ر زق اس کے لیے زہر کا درجہ رکھتا ہے جو اس کی خُودی کی قیمت بن کر ملے ۔
خُودی کے نگہباں کو ہے زہر ِ ناب وہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آب
پاکیزہ نفسی کمالاتِ خُودی کا ایک تابناک گوشہ ہے۔خُودی کی صیقل گری میں تزکۂِ نفس اور اصلاحِ ذات کا مسلسل عمل مطلوب ہے ۔ خُود احتسابی اور محاسبہ نفس اس عمل کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔ زمانے میں جھوٹا ہے اس کا نگیں جو اپنی خُودی کو پرکھتا نہیں۔انبیاء کے بعد عالمِ بشریت میں جنابِ محمد مُصطفےٰ ۖ کے صحابہ سے بلند کردار اور کون ہوں گے؟ ان میں بھی حضرت عُمر رضی اللہ عنہ جیسی تصویرِ خُودی تھے وہ اس سے قبل اور بعد آج تک کہاں کسی کو دیکھنے کو ملی ہے۔آنجناب کا مشہور قول ہے کہ اپنا محاسبہ کر لو اس سے قبل کہ کوئی اٹھ کر تمہارا محاسبہ کرے یا یومِ حشر تمہارا حساب کتاب ہو۔جوہرِ خُودی کی آب محاسبہ ہی سے قائم رکھی جا سکتی ہے ، نہیں تو یہ دھندلا اور کُملا جاتی ہے۔محاسبہ اس کو جلا بخشتا اور اس کو فروغ دیتا ہے۔ضروری ہے کہ صاحِبِ خُودی خُود گیر و خُود نگر ہو۔
ہو اگر خُود نگر و خُود گر و خُودگیر خُودی یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s