سیاحت کی تنزلی،بے روزگاری اور گریجویٹس

Posted on Updated on

Imageوزیراعلیٰ چیف سیکریٹری اور صوبائی وزراء نے گزشتہ دنوں مختلف بیانات میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں بیروزگار گریجویٹ کو جلد بلاسود قرضے فراہم کئے جائیں گے۔ تاکہ اس رقم سے بے روزگار نوجوان بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی کر سکے اور ان میں پائی جانے والی احساس محرومی کا خاتمہ ہو سکے اس مقصد کے لئے صوبائی حکومت نے ایک خاص رقم بھی مختص کر رکھی ہے
گلگت بلتستان میں ملک کے دیگر حصوں کی طرح پرائیویٹ سیکٹر نہ ہونے سے غربت کی شرح انتہائی زیادہ ہے اور ملازمتوں کا سارا انحصار گورنمنٹ ملازمتوں پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے گلگت بلتستان میں بے روزگاری کی شرح بھی انتہائی تیزی سے بڑھ رہی ہے قراقرم یونیورسٹی اور ملک کے دیگر یونیورسٹیوں سے سالانہ ہزاروں کی تعداد میں طلباء اعلیٰ تعلیم سے فارغ ہو رہے ہیں اور جب ڈگریاں لیکر مارکیٹ میں آجاتے ہیں تو نہ صرف ان کی تمام امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے بلکہ ان کے ساتھ والدین بھی انتہائی مایوس ہو جاتے ہیں کیونکہ والدین ہی اس مہنگائی میں اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے پیسے بھیج رہے ہوتے ہیں اور یہ پیسے وہ اس امید سے بھیجتے ہیں کہ کل اس کا بچہ فارغ ہو کر کسی اچھے ادارے میں ملازمت کرے گا۔ معاشرے کا ایک مفید شہری بننے کے ساتھ ساتھ والدین کی امیدوں پر بھی پورا اترے گا۔ لیکن ایسے ہزاروں طلباء امیدیں لیکر جب روزگار کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ تعلیمی میدان میں ان کی سوچ اور عملی میدان کی سوچ میں بہت فرق ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر روزگار کے مواقع کیوں محدود ہیں؟روزگار کے مواقعے کیوں پیدا نہیں کئے جا رہے ہیں؟یہ سوال اعلیٰ تعلیم سے فارغ التحصیل ایک بیروزگار کے ساتھ ساتھ یہاں کا ہر باسی پوچھ رہا ہے مگر اب تک اس کا کوئی خاطر خواہ جواب نہیںمل سکا ہے۔ جو صورتحال کئی دہائیوں سے چلی آرہی ہے وہ اب بھی جاری ہے اگر اب تک حکومت دیگر تمام شعبوں کو چھوڑ کر صرف سیاحت اور معدنیات کے شعبے میں ہی توجہ دیتی تو یہاں روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا کئے جا سکتے تھے ان دونوں اہم شعبوں کو ہمیشہ نظرانداز کیا گیا گلگت بلتستان میں کئی لوگ گزشتہ سالوں تک سیاحت کے شعبے سے وابسطہ تھے۔ مگر علاقے کی خراب صورتحال اور حکومت کا اس فیلڈ پر توجہ نہ دینے سے یہ شعبہ روبہ زوال ہے جس کی وجہ سے ہوٹل انڈسٹری بھی بیٹھ چکی ہے ہوٹل مالکان اور سیاحت سے وابسطہ لوگ دیوالیہ ہو چکے ہیں سابقہ حکومت اور موجودہ حکومت کی طرف سے سیاحت کے شعبے کی بحالی اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو علاقے کی طرف راغب کرنے کیلئے اقدامات بالکل نہ ہونے کے برابر ہیں جب بھی سیاحتی تنزلی کی بات کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ گلگت میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہے۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاحت کیلئے مختص فنڈز کہاں خرچ ہوتا ہے؟اگر گلگت شہر میں حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کی سزا دیگر اضلاع کو بھی کیوں دی جاتی ہے؟کیا خراب صورتحال کو آڑ بنا کر سیاحتی شعبے کی ترقی کیلئے کام نہ کرنے میں کوئی سمجھداری ہے؟ کیا سیاحت معدنیات و دیگر شعبوں کو ہمیشہ پس پشت ڈال کر وفاق سے پیکجز کی صورت میں بھیک مانگنے کا سلسلہ یونہی جاری رہیگا؟ان تمام سوالات کا جواب اور ان کا حل حکومت کے پاس موجود ہے مگر جان بوجھ کر لعل و نہار سے کام لے رہی ہے اس شعبے کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت خود ہی اس شعبے میں ترقی اور لوگوں کو روزگار کے مواقعے میسر کرنے میں مخلص نہیں ہے ورنہ آج اس جنت نظیر گلگت بلتستان میں جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے سرمایے سے پکنک سپاٹس بنتے۔کلچر رسوم و ثقافت کو پروان چڑھا کر پوری دنیا کو راغب کیا جاتا ۔ کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا شاہراہ قراقرم کی مرمت کے ساتھ ساتھ آل ویدر اور اضافی پروازوں پر توجہ دی جاتی ۔آثار قدیمہ کی حفاظت دیکھ بھال اور انہیں بہتر طریقے سے دنیا کے سامنے پیش کرنے اور تشہیر کیلئے اقدامات اٹھائے جاتے مگر ایسا اب تک نہیں ہو سکا لیکن پھر بھی اس حوالے سے جب پوچھا جاتا ہے امن و امان کی خراب صورتحال سمیت درجنوں بہانے سامنے رکھ کر اصل مسئلے کو غائب کردیا جاتا ہے۔
سیاحت کے شعبے کی بحالی،اور نوجوان تعلیم یافتہ بے روزگاروں کو روزگار اور بلا سود قرضوں کی فراہمی ناگریز ہو چکی ہے وقت معاشی بحران اور خزانہ خالی ہے کارٹ لگانے سے باہر نکلنا ہوگا صوبائی حکومت کی تین سالہ کارکردگی عوام کے سامنے ہے اگر بقیہ دو سال بھی پچھلے تین سالوں کی طرح گزار دئیے تو آئندہ ان نمائندوں کا اقتدار میں آنا محض ایک خواب بن کر رہ جائیگا۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے سنجیدگی سے اقدامات اٹھائے جائیں۔ اگر گلگت کے خراب صورتحال میں نوجوانوں کا زیادہ ہاتھ ہے تو نوجوانوں کو معاشرے کا مفید شہری بنانے کیلئے باوقار روزگار فراہم کرنا بھی تو حکومت کا ہی فرض ہے انہیں ہم روزگار بھی نہ دیں اور یہ تقاضا بھی کریں کہ معاشرے کا مفید شہری بن کر حکومتی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے رہے ۔ تو یہ ناممکن ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے بے روزگاروں کو قرضوں کی فراہمی کے وعدے کئے جا رہے ہیں مگر ان کو آئے روز طول دیا جارہا ہے سیاحت کی ترقی ہو، بلا سود قرضوں کی فراہمی یا پھر روزگار کے مواقع جتنا انتظار کرکے اسے طول دیا جائے اتنا ہی یہ مسئلہ پیچیدہ ہو جاتا جائے گااور آخر کار ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب انتہائی مشکل مرحلہ سامنے آجاتا ہے لہذا انتہائی مشکل مرحلے کے انتظار کے بجائے ان تینون مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s