شندور کا تنازع،خیبر پختون خوا حکومت کی ہٹ دھرمی اور گلگت بلتستان حکومت کا مایوس کن رویہ

Posted on Updated on

صوبائی وزیر بہبود آبای خیبر پختونخواہ سلیم خان کے دعوئوں سے نہ صرف گلگت بلتستان کے عوام کو حیرانگی ہوئی ہے بلکہ گلگت بلتستان کی قیادت کا کردار بھی عیاں ہو چکا ہے کہ ہماری قیادت نے اتنے اہم مسئلے کو نہ صرف نظر انداز کیا ہے بلکہ عوام سے حقائق بھی چھپائے اور اب سلیم خان نے اپنے بیان کے ذریعے تمام حقائق سے پردہ فاش کر دیا ہے ۔سلیم خان سے کوئی گلہ اور شکوہ اس لئے نہیں کہ ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی  مٹی اور اپنے علاقائی مفادات کیلئے جرات مندانہ موقف اپنائیں تو ان کا حق بنتا ہے ۔ ہمیں گلہ اور شکوہ ہے تو اپنی قیادت سے ہی۔ ایک طرف دیامر ڈیم کے نام پر گلگت بلتستان کی جغرافیائی سرحدوں کو پامال کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف شندور جو گلگت بلتستان کا تاریخی اور جغرافیائی حصہ ہے پر قبضہ کیا گیا ہے اور ہماری قیادت جرات مندانہ موقف اپنا کر اپنے علاقائی اور قومی مفادات کا تحفظ کرنے کے بجائے درباری بیانات کے ذریعے عوام کو بے وقوف بنا رہی ہے ۔ہماری قیادت کا مدعا ہے کہ مرکزی حکمران بھی خوش ہوں ،اقتدار بھی قائم، ہو اور عوام بھی مطمئن ہوں ۔معذرت کے ساتھ۔ ایسا ممکن نہیں ۔کسی بھی قوم کی قیادت کیلئے ایسی شخصیات اہل ہوتی ہیں جو اپنی قوم او خطے کے مفادات کیلئے ہر قربانی دینے کیلئے تیارہوں اور اپنے قومی مفادات کو اقتدار سے زیادہ عزیز نہیں رکھتی ہوں ۔بدقسمتی سے حکمرانی کے اطوار ہی بدل چکے ہیں۔ صحیح حکمرانی وہ ہوتی ہے جو عوام کی خدمت کیلئے کی جائے لیکن اب حکمرانی صرف اپنے ذاتی مفادت کیلئے ہو رہی ہے صحیح حکمران وہ ہوتا ہے جو حکمران عوام کیلئے اقتدار بھی قربان کر دے ۔لیکن اب تو اقتدار کیلئے عوام اور عوامی مفادات قربان کئے جا رہے ہیں۔ اب یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عوام باشعور ہو چکے ہیں اور سیاہ اور سفید کے فرق کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ حکمرانوں کے طرز حکمرانی کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ لاٹھی بھی نہ ٹوٹے اور سانپ بھی مرے والا فارمولا پرانا ہو چکا ہی۔ اب عوام نعروں اور دعوئوں سے آگے عملی اقدامات کو پرکھتے ہیں ۔عوام کے دلوں پر وہی حکمران اور سیاستدان راج کر سکتا ہے جس کیلئے اقتدار نہیں عوام کا مفاد عزیز ہو۔ اب دوغلی پالیسی اور نعروں سے عوام مطمئن نہیں ہوتے ہیں اور نہ ہی عوام کی نظر صرف روز گار اور بنیادی ضروریات پر ہے بلکہ عوام کا ایک ایک فرد اپنے اجتماعی حقوق سے بھی آگاہ ہے اور اپنی مٹی سے محبت کرتا ہے ۔اس صورتحال میں گلگت بلتستان کے عوام بھی دیکھ رہے ہیں کہ صوبہ خیبر پختون خواہ کے حکمران ایک طرف دیامر بھاشا ڈیم اور دوسری طرف شندور کے حقوق غصب کرنا چاہتے ہیں اور گلگت بلتستان کے حکمران اور سیاستدان، لاٹھی بھی نہ ٹوٹے اور سانپ بھی مرے ،والے فارمولے پر عمل پیرا ہیں۔ ہمارے حکمران اور سیاستدان مرکز کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتے ۔اقتدار کے مزے بھی لینا چاہتے ہیں اور عوام کو بھی خوش رکھنے کے خواہشمند ہیں ۔جبکہ آج کے دور میں ایسا عملاً ممکن نہیں ہے ۔جو رویہ شندور کے حوالے سے صوبائی حکومت نے  اپنایاہے اس سے بھی کمتر رویہ دیامر ڈیم پر اپنایا ہے اس لئے نظریہ آ رہا ہے کہ شندور کی طرح دیامر ڈیم پر بھی صوبہ خیبر پختون خواہ اپنی ہٹ دھرمی اور زیر زبردستی کے ذریعے  رائلٹی اور حقوق چھین لے گا ۔ اس وقت بھی ہمارے حکمران بیان دیں گے کہ ’’برابری کا رویہ چاہتے ہیں ۔ اور بائیکاٹ کرتے ہیں ۔شندور پر بائیکاٹ کرنے کا کیا حاصل ہوا ہے تو دیامر ڈیم پر بائیکاٹ اور صرف اخباری بیان  دینے سے کوئی ہمیںہمارے حقو ق دینے ہمارے دروازے پر آئے گا ۔ یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ صوبائی قیادت علاقے کی ترقی کیلئے دن رات کوشاں ہے لیکن یہ حقیقت بھی کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ شندور اور دیامر ڈیم والے تنازع پر ان کے معذرت خواہانہ رویہ کی وجہ سے گلگت بلتستان کے عوام اور آنے والی نسلوں کا مستقبل تاریک ہونے کے خطرات پیدا ہو چکے ہیں کیونکہ جو قوم اپنی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کا تحفظ نہیں کر سکتی ہے وہ کسی بھی میدان میں ناکام ہے اور تاریخ سے اس کا نام حرف غلط کی طرح مٹ جاتا ہی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی قیادت  سیاستدان اور عوام مل کر اپنے حقوق اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کیلئے پرامن تحریک کا آغاز کریں اور حکمرانوںسے درخواست ہے کہ خدا را عوام اور علاقے کے مفاد کو اقتدار سے زیادہ عزیز رکھیں ۔جب بات علاقائی مفادات کی بات آئے اور اقتدار کی قربانی دینی ہو تو  دیں ، تاریخ اور آنے والی نسلوں کے دلوں میں زندہ رہنے کا ساماں کر لیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبائی حکومت شندور اور دیامر ڈیم تنازعہ پر معذرت خوانہ رویہ ترک کرتے ہوئے جرات مندانہ موقف اپناے گی اور اپنے عوام اور علاقے کے حقوق کیلئے موثر جدوجہد کرے گی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s