صدر زرداری کا ممکنہ دورہ گلگت بلتستان

Posted on Updated on

Image
Asif Ali Zardari

گورنر پیر کرم علی شاہ سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ یکم نومبر جشن آزادی گلگت بلتستان کے دوران گلگت کا تفصیلی دورہ کروں گا۔جس میں کونسل ،عمائدین اور منتخب نمائندوں سے وسیع مشاورت کے بعد خطے کی انتظامی و سیاسی اصلاحات اور مالی بحران کے خاتمے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔اسلام آباد میں صدر مملکت سے پیر کرم علی شاہ نے ون ٹو ون ملاقات کی ۔جس میں گورنر نے صدر کو گلگت میں امن و امان کی صورتحال اور مالی بحران پر تفصیلی بریفنگ دی ۔جس کے بعد آصف علی زرداری نے ہدایت جاری کی کہ گورنر گلگت بلتستان کی طرف سے پیش کیئے گئے مسائل اور انکے حل کے لئے بریفنگ کا اہتمام کیا جائے تاکہ گلگت بلتستان کے دورے کے موقع پر ان سب پر عمل درآمد اور اعلان کو ممکن بنایا جاسکے ۔صدر مملکت نے شاہراہ قراقرم پر سیکورٹی کو موثر بنانے اور تعمیراتی کام کو تیز کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا اور عطا آباد جھیل سے متاثرہ خاندانوں کی مستقل آباد کاری کے لئے بھی وفاق سے مکمل مدد فراہم کرنے کا وعد ہ کیا ۔بعد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر پیر کرم علی شاہ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری یکم نومبر کو کونسل اور اسمبلی کے مشترکہ اجلا س سے خطاب کرینگے۔انہوں نے مالی اور سیاسی مسائل حل کرنے کے لئے دلچسپی لینے پر صدر مملکت کا شکریہ ادا کیا اور توقع ظاہر کی گئی کہ موجودہ حکومت گلگت بلتستان کے مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے گی ۔
وزیر عظم کے حالیہ دورہ سے گلگت بلتستان کے عوام نے بڑی امیدیں وابسطہ کر رکھی تھی مگر وزیر اعظم اپنے دورے کے دران عوام کی امیدوں پر پورا اتر نے میں بڑی حد تک ناکام رہے ۔امن و امان معاشی و سیاسی مسائل کے حل کے لئے عوام بڑی آس لگا کر بیٹھے تھے مگر وزیر اعظم نے اپنی دورے کے دوران جو اہم اعلانات کیئے ہیں ان میں پی آئی اے کی اضافی پروازیں اور دو ادب کا پیکج شامل تھے مگر ان دونوں بڑی اعلانات پر اب تک عمل درآمد نہ ہوسکا ہے ۔دو ارب کے گرانٹ کی منظوری اب تک سرد خانے کی نذر ہوچکی ہے ۔جبکہ گلگت بلتستان کا مالی بحران جوں کے توںہے۔ اس کے حل کے لئے اب تک کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا ہے ۔جبکہ اضافی پروازوں کے اعلان پربھی عمل درآمد نہ ہوسکا ہے ۔شاہراہ قراقرم پر سیکورٹی مسائل کے ساتھ ساتھ تعمیراتی کام میں مسلسل تاخیر ہورہی ہے ۔جس شاہراہ میں کسی وقت سفر میں چودہ گھنٹے لگتے تھے ۔اب اسی شاہراہ کی خستہ حالی کی وجہ سے یہ سفر چو بیس گھنٹوں میں طے ہورہا ہے ۔
صدر مملکت نے اپنے دورے سے قبل ہی کہا ہے کہ میرے دورے کے لئے انتظامات سے قبل تمام اعلانات پر عمل درآمد ہونے کی رپورٹ اور بریفنگ دی جائے اور امید کی جارہی ہے کہ صدر مملکت اپنے اعلان کے مطابق یکم نومبر کو اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرینگے اور پندرہ ارب صدارتی گرانٹ کے ساتھ ساتھ دیگر اہم اعلانات بھی کرینگے ۔وزیراعظم کے دورے اور اعلانات پر عمل درآمد نہ ہونے سے گلگت بلتستان کے شہری بڑے تذبذب کا شکار ہیں کہ ایک حکومت کا سربراہ گرانٹ کے فوری ریلیز کرنے کا حکم دے اور دو ہفتے گزرنے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہ ہو ۔آخر اس کی کیا وجہ ہے ۔یعنی وزیر اعظم نے اپنے دورہ گلگت میں جتنے بھی عوامی مفاد کے اعلانات کیئے تھے ان پر عمل درآمد نہ ہوسکا ہے ۔
وزیر اعظم کے دورے کے بعد اب یہاں کے عوام صدر مملکت کے دورے پر ایک ہی جیسے تاثرات رکھتے ہیں ۔انھیں خدشات لاحق ہیں کہ کہیں صدر مملکت کیااعلانات بھی وزیر اعظمکی اعلانات کی طرح نہ ہوں ۔ دو ہفتے گزرنے کے باوجود اس کے کسی بھی اعلان پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے ۔اس حوالے سے صدر مملکت سے کبھی ہماری گزارش ہے کہ گلگت کا دورہ آپ ضرور کریں لیکن اپنے دورے کے دوران بے شک چند ہی اعلانات کریں مگر وہ ایسے اعلانات ہوں جن پر عمل درآمد ممکن ہو ۔آپ بھی وزیر اعظم کی طرح ایسے اعلانات نہ کریں جن پر کئی ہفتے گزرنے کے باوجود بھی کسی قسم کا عملدرآمد نہ ہو ۔اس طرح کے اعلانات سے عوام میںنہ صرف حکومت کے خلاف غلط تاثر ابھر رہا ہے بلکہ حکومتی کارکردگی بھی کھل کر عوام کے سامنے آرہی ہے ۔گورنر پیر سید کرم علی شاہ کے ساتھ ملاقات کے دوران جو بھی باتیں ہوئی ہیں وہ گلگت بلتستان کے حوالے سے خوش آئند ہے مگر ان تمام اعلانات کو صرف اعلانات ہی کرنا ہے تو گلگت آنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔کیونکہ سابق وزیر اعظم گیلانی اور موجودہ وزیر اعظم پرویز اشرف نے بھی بڑے اعلانات کیئے ہیں مگر تاحال ان پر عمل درآمد نہ ہوسکا ہے ۔لہذا عوام کو کچھ وقت کے لئے خوش کرانے کے لئے ہوائی اعلانات سے بہتر یہ ہے کہ اعلانات بے شک چھوٹی ہوں مگر ان پر عمل درآمد ہو ۔یعنی ان کے اعلانات کے ثمرات ایک عام آدمی تک پہنچ سکیں ۔صدر مملکت کا یکم نومبر کو دورے کو یہاں کے عوام کو شدت سے انتظار ہے اور امید ہے کہ تمام اعلانات عملی ہونگی اور بروقت ان پر عمل درآمد ہوسکے گا۔

 

One thought on “صدر زرداری کا ممکنہ دورہ گلگت بلتستان

    Ghaznavi said:
    December 5, 2012 at 7:58 pm

    Dil ko Behlanay K liye Khayal Acha Hai Ghalib.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s