غذر تاجکستان روڈ۔۔۔۔۔ صوبائی حکومت کی ایک اور ناکامی

Posted on Updated on

صدر پاکستان آصف علی زرداری نے حالیہ دورہ تاجکستان کے دوران تاجکستان روڈ کو گلگت بلتستان کے بجائے چترال سے لنک کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دئیی۔ گلگت بلتستان کے حکمرانوں نے شروع سے ہی عوام کو سبز باغ دکھائے تھے کہ پاک چین شاہراہ قراقرم کے بعد غذر تاجکستان روڈ کی تعمیر سے پورے خطے میں تعمیر و ترقی کا ایک نیا باب شروع ہوگا۔ اور عوام معاشی خوشحالی کے ایک نئے دور میں داخل ہونگی۔ گورنر پیر سید کرم علی شا5سالوں سے اس حلقے سے قانون ساز کونسل اور اسمبلی کے ممبر منتخب ہوتے آئے ہیں اپنے ہر انتخابی منشور میں غذر تاجکستان روڈ کو سرفہرست رکھا اور عوام سے ممبر منتخب ہونے کے بعد ہی شاہراہ کو عملی طور پر تعمیر کرنے کا بھی وعدہ کیا اپنے دور اقتدار میں پیپلزپارٹی کے اہم عہدوں میں رہنے کے ساتھ ساتھ علاقے کے پہلے ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو بھی منتخب ہوئی۔ اسی وقت بھی عوام سے وعدہ کیا کہ ہمارے ہوتے ہوئے غذر تاجکستان روڈ کو گلگت بلتستان سے کوئی نہیں چھین سکتا اب یہی پیر کرم علی شاہ گلگت بلتستان کے گورنر کے عہدے پر فائزہیں اور اس اہم میگاپراجیکٹ کے چھن جانے کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ گورنر اپنی کمزور اور ناکام پالیسیوں کی وجہ سے اس اہم پراجیکٹ کے حوالے سے لب کشائی کرنے سے یکسر قاصر ہیں۔ اگروہ اس اہم پراجیکٹ کے حوالے سے کچھ بولنا چاہیں تو آخر کس منہ سے بولیں گے کیونکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اسی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانی، خطے کے عوام کی زندگیوں کو تبدیل کرنے کے وعدے کرتے آرہے ہیں ۔یقینا آج وہ بہت کوشش کے باوجود بھی کچھ کہنے سے محروم ہیں اور عوام بھی بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ صوبائی حکومت عوام کے حقوق کے دفاع میں کس حد تک کامیاب ہوئی ہی۔

 تاجکستان روڈ کو غذر سے تعمیر کرنے کے وعدے صرف پیر کرم علی شاہ نے ہی نہیں کئے ہیں بلکہ یہاں کے وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ نے غذر کے حالیہ ضمنی انتخابات کے دوران بھی حکومتی امیدوار کو جتوانے کیلئے کئی اہم وعدے کئے جن میں غذر تاجکستان روڈ سرفہرست تھا۔ اس انتخابی مہم کے دوران وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ نے کئی انتخابی جلسوں کے دوران بار ہا یہ اعلان کیا تھا کہ پیپلزپارٹی کے دور اقتدار میں ہی تاجکستان روڈ غذر سے تعمیر ہوگا۔ اور اسی پراجیکٹ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے صوبائی حکومت ٹھوس اقدامات اٹھائے گی۔ اس حلقے سے حکومتی امیدوار کے ناکامی کے ساتھ ہی کئی دوسرے وعدوں اور اعلانات کی طرح غذر تاجکستان روڈ کی تعمیر کے اعلان کے حوالے سے بھی مہدی شاہ حکومت نے چپ سادھ لی اور اب آخر کار یہ اہم میگا پراجیکٹ گلگت بلتستان سے چھن گیا۔غذر تاجکستان روڈ کو گلگت بلتستان کے ہاتھ سے نکلنے کا ذمہ دار بجا طور پر گورنر پیر کرم علی شاہ اور وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ کو ٹھہرایا جا سکتا ہی۔ کیونکہ دنوں رہنمائوں نے اس منصوبے کے حوالے سے بلند وبانگ دعوے کئے ۔صدر زرداری کی حالیہ دورہ چین میں وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ ان کے ہمراہ تھے دورہ چین کے بعد صدر زرداری تاجکستان کے دورے پر چلے گئے  جہاں انہوں نے تاجکستان روڈ کو چترال سے لنک کرنے کے معاہدے پر دستخط کرکے گورنر اور وزیراعلیٰ کو پیغام دیا ہے کہ وفاقی حکومت کوگلگت بلتستان کی حکومت سے زیادہ خیبر پختونخواہ کی حکومت عزیز ہی۔ پیپلزپارٹی کی حکومت مرکز میں اپنی اتحادی جماعت کو کسی بھی صورت ناراض نہیں کرانا چاہتی۔ اور انہیں گلگت بلتستان سے زیادہ خیبرپختون خواہ کے مفادات عزیزہیں۔

ماہرین کی رپورٹس کے مطابق تاجکستان تک زمینی راستے کیلئے غذر ہر حوالے سے محفوظ اور قریب ترین ہی۔ اور غذر سے تاجکستان تک روڈ کی تعمیر کیلئے کئی بار فزیبلیٹی رپورٹس بھی بنائی جا چکی ہیں۔ اس حوالے سے یقین کیا جارہا تھا  کہ یہ روڈ غذر کی تحصیل اشکومن کے راستے تاجکستان سے منسلک ہوگا۔ غذر اور تاجکستان کے درمیان افغانستان کے علاقے واخان کی ایک پٹی ہے جس کیلئے افغانستان سے بھی اجازت لے لی گئی تھی مگر اچانک اس روڈ کا گلگت بلتستان کے بجائے چترال کے راستے تعمیر ہونا نہ صرف معنی خیز ہے بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کیلئے دھچکے سے کم نہیں ہی۔ غذر تاجکستان شاہراہ کی تعمیر کے بعد اس روڈ کو باآسانی شاہراہ قراقرم سے منسلک کیا جاسکتا تھا جو سیکیورٹی کے حوالے سے بھی انتہائی محفوظ ترین راستہ ہی۔ جبکہ چترال کے راستے تعمیر ہونے والے نئے بین الاقوامی شاہراہ کیلئے اضافی سیکیورٹی بڑھانی ہوگی۔ جبکہ حالیہ دنوں افغانستان کے علاقے سے چترال پر شدت پسندوں کا حملہ اور0سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں کا شہید ہونا اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ تاجکستان روڈ کو چترال سے لنک کرنا کسی بھی خطرے سے خالی نہیں ہی۔ جو مستقبل میں کسی بڑی دہشت گردی کا سبب بن کر نہ صرف تجارت کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ پاکستان کے دیگر ہمسائیہ ممالک سے بھی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔گورنر پیر کرم علی شاہ وزیراعلیٰ مہدی شاہ سمیت صوبائی حکومت کے تمام ذمہ داروں کو اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کا برملا اعتراف کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے سامنے اس اہم منصوبے کے چھن جانے پر جاندار انداز میں احتجاج ریکارڈ کرانی ہوگی۔ اور اس اہم منصوبے سے دستبردار ہونے کے بجائے اپنے جائز حقوق کے حصول کیلئے کوششیں جاری رکھیں اور صدر آصف علی زرداری اور وفاقی حکومت کو یہ باور کرائیں کہ تاجکستان روڈ کیلئے گلگت بلتستان ہر حوالے سے موزوں ہی۔ اس کے ساتھ ساتھ قانون ساز اسمبلی کے تمام ممبران بھی یک جان ہو کر اس مسئلے پر آواز اٹھائے اور قرارداد پاس کرنے کے ساتھ ساتھ اس اہم میگا پراجیکٹ کے حصول کیلئے کوششیں جاری رکھیں، وزیراعلیٰ اور گورنر کو بھی چاہیے کہ اپنے وعدوں اور دلاسوں کے مطابق تاجکستان روڈ کو گلگت بلتستان کے راستے تعمیر کرنے کی کوششیں جاری رکھیں

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s