معاشی بحران بائونس چیکس

Posted on Updated on

Image
Bounced Cheques

سپیکر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی وزیر بیگ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت مالی بحران سے دوچار ہے، جس کی وجہ سے ہماری تنخواہوں کے چیکس بھی بائونس ہو چکے ہیں اور ہمیں بھی تنخواہیں نہیں ملی ہیں گلگت بلتستان اسمبلی میں ممبران کی تعداد45کی جار ہی ہے جس میں ہنزہ سے دو ممبران منتخب ہو سکیں گے۔ اسکے علاوہ صوبائی حکومت کی خواہش ہے کہ ہر ضلع سے ایک خاتون ممبر بھی منتخب ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی مسائل کا ہمیں ادراک ہے یہ معاملہ جلد حل ہوجائے گا اور انشاء اللہ معاشی خوشحالی آئیگی۔ وزیراعظم کے دورے پر تنقید بلاجواز ہے عطاء آباد جھیل میں 17کلومیٹر ٹنل ایک عجوبہ ہوگا جسے دیکھنے دنیا بھر کے سیاح یہاں کا رخ کر ینگے حکومت گلگت بلتستان میں یونیورسٹی کے قیام کے بعد میڈیکل کالج کے قیام کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے جبکہ ٹیکنکل کالج پر کام پر جاری ہے۔
وزیراعلیٰ،گورنر ،چیف سیکریٹری، وزراء ،سپیکر و دیگر ممبران اسمبلی معاشی مسئلے سے جلد باہر نکلنے کی بیانات تو دے رہے ہیں لیکن دوسری طرف یہ صورتحال آئے روز گھمبیر ہوتی جارہی ہے،سپیکر قانون ساز اسمبلی کا حالیہ بیان کہ صوبائی حکومت شدید مالی بحران کا شکار ہے جس کی وجہ سے ہماری تنخواہ کے چیکس بھی بائونس ہو چکے ہیںاس صورتحال کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں کہ واقعی صورتحال کس حد تک گھمبیر ہو چکی ہے اور خودمنتخب ممبران اسمبلی بھی کس حد تک بے بس ہو چکے ہیں اور خود ان کی اپنی تنخواہوں کے چیکس بائونس ہو رہے ہیں جب یہ ممبران اپنی تنخواہوں کے حصول میںناکام ہوتے ہیں تو ایسے ممبران سرکاری ملازمین اور ٹھیکیداروں کو کیسے ادائیگیاں کراسکیں گے۔ جبکہ آئے روز وہ بیانات دے بھی رہے ہیں کہ بائونس چیکوں کا مسئلہ جلد حل کیا جائیگا۔ ایسے میں عوام ان منتخب نمائندوں اور ان کے ایسے کھوکھلے بیانات پر کیسے یقین کرینگے۔ یہ معاشی بحران کوئی ایک دو دن سے نہیں ہے بلکہ گزشتہ کئی دنوں سے جاری ہے اس مسئلے کے حل کیلئے نہ ہی کوئی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی عملی اقدامات دیکھنے کو ملے ہیں گلگت بلتستان کی تاریخ میں نہ صرف پہلی بار چیکس بائونس ہوگئے بلکہ چیکس بائونس ہونے کی ہیٹرک بھی مکمل ہو چکی ہے۔اور یہ بات بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ سلسلہ تھم جائیگا یا اسی طرح جاری رہیگا۔
بائونس چیکس صوبائی حکومت کی کارکردگی پر ایک بدنما داغ کی حیثیت رکھتے ہیںچیکس بائونس ہونے کی وجہ سے ٹھیکیدار برادری نے تمام ترقیاتی کاموں کو روک دیا ہے۔ جس کی وجہ سے تمام ترقیاتی کام منجمد ہو چکے ہیں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرکے گھر کے چولہے جلانے والے سینکڑوں مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں اور گھروں میں حالت فاقوں تک آ پہنچی ہے۔ خطے میں گرتی ہوئی معاشی صورتحال سے غربت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیراعظم کے حالیہ دورہ گلگت کے دوران صوبائی حکومت کو سب ٹھیک ہے کی رپورٹ پیش کرنے کے بجائے علاقے کی معاشی صورتحال اور ترقیاتی کاموں کے حوالے سے آگاہ کرنا چاہئے۔صرف دو ارب کے پیکج کے اعلان پر خوشی کے ترانے بجائے جارہے ہیں جبکہ حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ دو ارب روپے اس معاشی بحران سے نجات دلانے کیلئے بالکل ناکافی ہیں یہ دو ارب روپے بائونس چیکس اور ٹھیکیداروں کی ادائیگیوں کیلئے بھی کافی نہیں ہے۔ دوسری طرف سابق وزیراعظم گیلانی نے اپنے دورہ گلگت کے دوران14ارب کے پیکج کا اعلان کیا تھا جس میں اب تک ایک اندازے کے مطابق صرف تین ارب موصول ہو چکے ہیں حالیہ دو ارب کا اعلان بھی کہیں ایسا ہی اعلان ثابت نہیں ہونا چاہیے حکومت کو چاہیے کہ وفاقی حکومت پر دبائو ڈال کر وزیراعظم کے اعلان کردہ ان دو ارب روپوں کے حصول کے لئے کوششیں کریں گے۔تاکہ کسی حد تک اس معاشی بحران سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔
بائونس چیکوں اور معاشی بحران کے بعد اب گلگت بلتستان کے عوام غذر تاجکستان روڈ ہاتھ سے نکل جانے اور جگلوٹ تا سکردو روڈ پر کام شروع نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں۔چھوٹے موٹے ترقیاتی کام تو پہلے ہی سے التواء کا شکار ہیں کہیں ٹھیکیدار ادھا کام چھوڑ کر فرار ہوچکے ہیں تو کہیں محکمہ پی ڈبلیو ڈی اور ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے نہ صرف ترقیاتی کاموں کیلئے مختص فنڈز غائب ہو چکے ہیں بلکہ ان ترقیاتی منصوبوں کا نام و نشان تک غائب ہو چکا ہے۔ باقی رہی سہی کسر بائونس چیکوں نے پوری کر دی ہے۔
گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کو حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے صرف باری باری بیانات دینے کے بجائے اس اہم مسئلے کے حل کیلئے سنجیدگی سے اقدامات کرنے ہونگے اگر صوبائی خزانہ خالی ہے تو وفاق کو کسی بھی طرح قائل کرکے خصوصی گرانٹ حاصل کرنا ہوگا ترقیاتی کام منجمد ہونے چیکس بائونس ہونے، غریب مزدوروں کے بے روزگار ہونے سے علاقہ ترقی کے بجائے مزید تنزلی کی طرف جارہا ہے۔ اس صورتحال پر جتنا ہو سکے اتنی ہی جلدی سے کنٹرول کرنا ہوگا۔ اگر حالات یہی رہے اور کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوا تو یہ عوام،علاقہ سمیت موجودہ حکومت کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ثابت ہو گی۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s