چیف سیکریٹری کا مختلف دفاتر کے دورے،عوامی حلقوں کا اظہار مسرت اور چند گزارشات

Posted on Updated on

Image چیف سیکریٹری گلگت بلتستان سجاد سلیم ہوتیانہ نے ضلع غذر کے دورے کے ساتھ ہی مختلف سرکاری اداروں میں اچانک چھاپے لگانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ غذر میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال میں اچانک دورے کے دوران ڈیوٹی سے غیر حاضر دو ڈاکٹروں کو موقع پر معطل کرنے کا حکم دیدیا۔ ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا اس دوران مریضوں نے مسائل کے انبار لگا دئیے۔ انہوں نے مریضوں کے مسائل پر فوری ایکشن لینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا ۔ اس دوران انہوں نے غذر کے تمام مسائل حل کرنے، ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی نہ کرنے، ضلع میں سکائوٹس تعینات کرنے، تحصیل پھنڈر کا جلد نوٹیفکیشن جاری کرنے اور گندم کی ترسیل 25فیصد تک بڑھانے کا بھی حکم دیا۔
چیف سیکریٹری نے گلگت میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس جوٹیال کا اچانک دورہ کیا مقررہ وقت تک دفتر نہ پہنچنے والے 55ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا حکم دیدیا چیف سیکریٹری صبح مقررہ وقت پر دفتر پہنچے، اور تمام داخلی دروازے بند کر دئیے اور سیکریٹری محمد علی یوگوی کو حکم دیدیا کہ تمام55غیر حاضر ملازمیں کے خلاف فوری نوٹس جاری کئے جائیں چیف سیکریٹری نے محکمہ ایکسائز کے فوری بعد محکمہ معدنیات کا دورہ کیا جہاں صبح 10بجے تک آفس نہ پہنچنے والے تین ملازموں کو معطل کرنے کے احکامات جاری کر دئیے۔ چیف سیکریٹری نے اس موقع پر دونوں محکموں کے سربراہان کو حکم دیا کہ دفاتر میں حاضری اور چھٹی کے اوقات کار میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے۔ چیف سیکریٹری نے اس سے اگلے روز ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال گلگت اور ڈگری کالج گلگت کا بھی دورہ کیا۔ گلگت ہسپتال کے مختلف شعبوں کا تفصیلی دورہ کیا جبکہ ڈگری کالج کیلئے واٹر فلٹریشن پلانٹ اور زیر تعمیر عمارت فوری مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے گلگت اور غذر کے مختلف اداروں کے اچانک دوروں کے بعد چلاس کا بھی تفصیلی دورہ کیا۔ جہاں انہوں نے مختلف اداروں کے دورے کئے مسائل سنے اور فوری حل کیلئے احکامات بھی جاری کئے۔گلگت بلتستان کے مختلف سرکاری اداروں میں چیف سیکریٹری کے اچانک دوروں ،ملازمین کو معطلی اور شوکاز نوٹسز جاری کرنے سے دیگر تمام اداروں میں بھی تمام متعلقہ آفسران نے ملازمین کو بروقت ملازمین کو دفاتر میں حاضری اور عوامی مسائل کے حل کیلئے زیادہ سے زیادہ وقت دینے کی ہدایات جاری کر دئیے ہیں اس سے قبل ہسپتالوں میں ڈاکٹروں سمیت مختلف سرکاری اداروں میں ملازمین اپنی مرضی کے مالک تھے۔ دفاتر میں حاضری اور چھٹی کے اوقات کار پر کسی بھی طرح سے عمل درآمد نہیں ہو رہا تھا۔ جس کی وجہ سے مریضوں اور مسائلوں کو شدیدقسم کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ملازمین دس گیارہ بجے آفس پہنچنے کے بعد بھی سائیلوں سے ایسے پیش آرہے تھے جیسے کہ وہ عوام پر کوئی احسان کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے عوام کا اداروں سے اعتماد اٹھتاجارہا تھا۔ جبکہ تمام اداروں کی کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہو رہی تھی۔ایک طرف متعلقہ اداروں کے وزراء کا بھی زیادہ تر وقت اسلام یاترا یا پھر اپنے آبائی علاقوں کے دوروں پر گزار رہے ہیں۔ جبکہ سیکریٹریز بھی اپنے محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور ملازمین کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکے تھے۔ ایسے میں چیف سیکریٹری کی طرف سے اچانک مختلف سرکاری اداروں کے دوروں کو خطے کے سیاسی سماجی و عوامی حلقوں کی طرف سے مذیرائی مل رہی ہے۔ اور اسے سرکاری اداروں کی بہتری کی طرف ایک اہم قدم قرار دی جارہی ہے۔
گلگت بلتستان کے سرکاری دفاتر میں انتظامی کنٹرول نہ ہونے سے حالات انتہائی ابتر ہیں۔ دفاتر میں چوردروازے سے بھرتیاں ،رشوت اور سفارش کی بھی شکایات آرہی ہیں۔ ایسے میں چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کو چاہیے کہ وہ تمام محکموں کے سیکریٹریز کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں رکھے اس سے پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے کہ تمام محکموں کے سیکریٹریز پر چیف سیکریٹری کی مکمل گرفت نہ ہونے اور چیک اینڈبیلنس کا نظام نہ ہونے سے پورا نظام خراب ہورہا تھا اب چیف سیکریٹری نے حالیہ اچانک مختلف دفاتر کے دورے کرکے متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز سے پوچھ گچھ اور اسی وقت احکامات جاری کرنے سے نظام پھر سے بہتری کی طرف آتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس لئے چیف سیکریٹری کو چاہیے کہ وہ تمام محکموں کی مکمل مانیٹرنگ کرے کم از کم ماہانہ کی بنیاد پر تمام محکموں کے متعلقہ سیکریٹری سے کارکردگی رپورٹ طلب کرے۔ نئی بھرتیوں اور تبادلوں کے حوالے سے قانون وضع کرے اور ان پر شفاف طریقے سے عملدرآمد کروائے۔ بہترین کارکردگی دکھانے والے سیکریٹریز و دیگر آفیسران کو ترقی، پروموشن اور ایوارڈز کا بندوبست کرے۔ جبکہ خراب کارکردگی کے مرتکب سیکریٹریز اور آفسران کو وارننگ کے ساتھ ساتھ سخت سے سخت ایکشن لے۔ عوام کی طرف سے محکموں کے بارے میں سامنے آنے والی شکایات پر توجہ دیں اور فوری حل کیلئے ہدایات دیں جن محکموں کے بارے میں زیادہ شکایات ہوں یا حالت روز بروز ابتر ہوتی جارہی ہو، انہیں راہ راست پر لانے کیلئے عملی اقدامات کریں۔جناب چیف سیکریٹری صاحب! اب سے پہلے بھی اس منصب پر کئی آفیسرز آئے ہیں اور ایک مخصوص مدت کے بعد چلے گئے اب صرف وہ ماضی کا حصہ بن چکے ہیں اب آپ جس منصب پر فائز ہو چکے ہیں آپ کے کاندھے پر بھی بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ کہ جتنے دورانیہ تک بھی آپ یہاں رہتے ہیں اس نظام کی بہتری کیلئے اپنا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ڈالیں۔ اگر یہاں کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے حالیہ کوششوں کو جاری رکھا تو یقینا بہت کم وقت میں تبدیلی آئیگی اور یہاں کے عوام کی دعائیں آپ کے ساتھ ہونگے۔ اب یہ سب کچھ آپ ہی کے ہاتھ میں،دیکھنا یہ ہے عوام کی آپ سے وابسطہ توقعات کس حد تک پوری ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s