گلگت بلتستان میں بڑھتی بے روزگاری اور ملازمتوں پر پابندی

Posted on

Imageوفاقی کابینہ کی طرف سے چاروں صوبوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ایک سال کیلئے سرکاری ملازمتوں پر پابندی عائد کرنے سے گلگت بلتستان میں جاری بے روزگاری کی شرح مزید اضافے کا امکان ہے۔ گزشتہ دنوں چیف سیکریٹری گلگت بلتستان سجاد سلیم ہوتیانہ کے زیر صدارت سیکریٹریز کے اجلاس میں بھی نئی بھرتیوں پر عائد پابندیوں پرسختی سے عمل درآمد کرانے کی ہدایت کی گئی چیف سیکریٹری نے دوران اجلاس سیکریٹریز کو احکامات بھی دئیے کہ کسی بھی محکمے میں نئی بھرتیاں نہیں ہونگی اگر باوجود اس کے کسی بھی محکمے میں بھرتیاں ہوئیں تو متعلقہ سیکریٹری ذمہ دار ہوگا۔ اور اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔وفاقی اور صوبائی حکومت کے حالیہ فیصلوں کے بعد گلگت بلتستان کے بے روزگاروں میں شدید بے چینی کی لہر دوڈ گئی ہے گلگت بلتستان واحد علاقہ ہے جہاں بے روزگاری کی شرح دیگر ملک کے دیگر علاقوں اور صوبوں کی نسبت زیادہ ہے پرائیویٹ سیکٹر کا وجود نہ ہونے سے روزگار کا تمام دارومدار صرف اور صرف گورنمنٹ نوکریوں پر ہے اور یہاں پر گورنمنٹ میں بھی نوکریاں نہ ہونے کے برابر ہیں پرائیویٹ اور نجی ادارے نہ ہونے اور بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع محدود ہونے سے علاقے کے پڑھے لکھے نوجوان صرف اور صرف گورنمنٹ نوکریوں کے انتظار میں رہتے ہیں مگر اب ایسی صورتحال میں جہاں کے ہزاروں بے روزگار نوجوان مزید کئی سالوں تک اس بے روزگاری اور غربت کی چکی میں پستے رہیں گے۔بھرتیوں کے حوالے سے دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ وفاق کے حکم پر صوبائی حکومت بھرتیوں پر پابندی عائد کرنے کے احکامات تو جاری کرتی ہے مگر علاقے کے مختلف سرکاری اداروں میں چور دروازے سے بھرتیاں ہوتی رہتی ہیں حق داروں کو ان کا حق نہیں مل رہا مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے رہنمائوں نے گزشتہ دنوں بھرتیوں میں ہونے والے گھپلوں کے حوالے سے کہا تھا کہ مختلف اداروں میں نوکریاں سیل پر لگی ہوئی ہیں رشوت اور سفارش پر لوگوں کو کھپایا جارہا ہے خاص کار محکمہ تعلیم کے اندر تین لاکھ روپے لیکر سکیل9اور سکیل14پر ایسے لوگوں کو ادارے میں تعینات کیا جارہا ہے جنہوں نے بمشکل کئی بار ایگزامز دیکر میٹرک اور ایف اے کا امتحان پاس کیا ہے۔دنیا کی تمام مہذب اور تعلیم یافتہ قومیں سب سے زیادہ اہمیت تعلیم کو دیتی ہیں اور وہ اس شعبے میں سب سے قابل تیز ترین اور ذہانت والے لوگوں کو بھرتی کرتے ہیں انہیں اس بات کا علم ہے کہ اگر سکولوں میںان کا استاد اچھا نہیں ہے تو پھر ان کی پوری نئی مستقبل اچھی نہیں ہوگی۔ وہ سب سے زیادہ تنخواہیں بھی اساتذہ کو ہی دیتے ہیں اور اس معاشرے میں اساتذہ کوانتہائی قدر اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے انہیںمعلوم ہے کہ جب تک ان کے تعلیمی اداروں میں اچھے اساتذہ ہیں ان کے بچوں اور نئی نسل کا مستقبل کبھی خراب نہیں ہو سکتا ۔اس کے برعکس ہمارے یہاں سب کچھ الٹا ہورہا ہے ہم کھلے عام میرٹ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے صرف تین لاکھ کے عوض کسی کوبھی معلم بنا دیتے ہیں ہم ذہانت قابلیت ،تعلیم اور میرٹ کے بجائے یہ دیکھتے ہیں کہ اس کے پاس سفارش ہے ،پیسہ ہے،رشوت ہے۔۔۔۔۔ہم اپنے بچوں اور نئی نسل کو ایسے لوگوں کے حوالے کر دیتے ہیں جنہوں نے بڑی مشکل سے میٹرک یا ایف اے کرلیا ہو۔ کیا ایسی صورتحال میں ہماری نئی نسل آنے والے چیلنجر کا مقابلہ کرسکے گی۔کیا ہمارا مستقبلدیگر اقوام کے مستقبل کی طرح تابناک ہو سکے گا۔یہ صورتحال صرف محکمہ تعلیم ہی کی نہیں بلکہ دیگر اداروں کی بھی ہے۔ چور دروازوں سے بھرتیوں کے ساتھ ساتھ ان اداروں میں ایسے لوگوں کو کھپایا جارہا ہے جو کسی صورت ٹیسٹ انٹرویو پاس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اگر یہی صورتحال آئندہ بھی رہی تو اس علاقے میں مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گلگت بلتستان حکومت کو چاہیے کہ گلگت بلتستان کو سرکاری اداروں میں بھرتیوں سے مشتثنیٰ قرار دلوائے کیونکہ اس علاقے میں غربت کی شرح پہلے ہی آسمان کو چھو رہی ہے نوجوان ڈگریاں بغل میں دبائے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں بے روزگاروں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کے بڑے بڑے دعوے تو ہو رہے ہیں مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہو پا رہا گورنر وزیراعلیٰ سمیت تمام ذمہ داروں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف گلگت بلتستان کو ہر قسم کی بھرتیوں پر پابندی سے مشتنیٰ قرار دلوانے کیلئے کردار ادا کریں۔ بلکہ یہاں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مدعو کرنے اور علاقے میں ہی یہاں کے موجود ریسورسز کو عمل میں لاتے ہوئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اگر غربت کے ساتھ ساتھ خطے سے بے روزگاری کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے گئے تو یہ بات مکمل یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ علاقے میں امن و آمان کے مسئلے کے ساتھ ساتھ دیگر کئی اہم مسائل خود بخود حل جائیں گے۔لہذا ان مسائل پر حکومت کو سنجیدگی سے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ علاقے سے غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو سکے۔

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s