An Interview from Provincial Minister KPK Saleem Khan Regarding Shandoor Issue in July 2011.

Posted on Updated on

برابری کی سطح پر شندور میلے کا انعقاد کرنے کے دعوئوں میں کوئی حقیقت نہیں ‘ گلگت بلتستان انتظامیہ اپنے چند مطالبات پیش کر دے جنہیں سپاسنامے میں شامل کرنے کی کوشش کرینگی

 

سیکورٹی و دیگر انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی ہے شندور کی ملکیت پر کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کرینگی‘ بطور مہمان گلگت پولو ٹیم کا میلے میں شرکت خوش آئند ہی

 

شندور کے حوالے سے مہدی شاہ بڑھکیں نہ ماریں‘ بحیثیت پارٹی رہنما ان کی قدر کرتے ہیں سرحد ٹورازم ڈویلپمنٹ نے میلے کے انعقاد کیلئے اب تک پچاس لاکھ روپے خرچ کئے ہیں

 

بائونڈری کمیشن بنانے کی کوئی ضرورت نہیں مہدی شاہ کو وی آئی پی مہمان کی حیثیت دیں گی‘ صوبائی وزیر بہبود آبادی خیبر پختونخواہ سلیم خان 

 

 

 

صوبائی وزیر بہبود آباید خیبر پختونخواہ سلیم خان نے کہا ہے کہ شندور میلے کیلئے سکیورٹی سمیت تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے چترال حسب سابق میلے کی میزبانی کر رہا ہے جبکہ گلگت بلتستان کی پولو ٹیم جنہوںنے پچھلے سال بائیکاٹ کیا تھا اس سال انہوںنے میلے میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے جوکہ خوش آئند ہے اگر گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ میلے میں شرکت کرے تو انہیں بطور مہمان وی آئی پی کارڈ دیکر خصوصی نشستوں پر بٹھائیں گے گلگت بلتستان کی انتظامیہ کوکہا ہے کہ وہ پہلے کی طرح چند مطالبات ہمیں ارسال کر دیں تاکہ ہم اپنی مرضی سے ان کے کچھ مطالبات کو سپاسنامے میں پیش کریں شندور کی ملکیت کے حوالے سے چترال اور خیبر پختونخواہ حکومت کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کرے گی شندور چترال کا حصہ تھا ہے اور رہے گا اس حوالے سے غذر اور گلگت بلتستان کے دعوئوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے ان خیالات کا اظہار انہوںنے صدائے گلگت سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ چترال انتظامیہ اور سرحد ٹورازم ڈویلمپنٹ اس میلے کے کامیاب انعقاد کیلئے ہر سال بھرپور منت کرتی ہیں اس سال بھی اس میلے کے کامیاب انعقاد کیلئے اب تک پچاس لاکھ روپے خرچ کئے جا چکے ہیں جبکہ گلگت بلتستان انتظامیہ کے ہاتھوں میں ہاتھ دھرے بیٹھ کر آخر میں برابری کی سطح پر میلے کا انعقاد کا مطالبہ کرنا سمجھ سے بالا تر ہے میلے کا انعقاد کسی بھی صورت برابر کی بنیاد پر نہیں ہو گا ہم نے ہر سال کی طرح اس سال بھی گلگت بلتستان کی حکومت کو میلے میں شرکت کا دعوت نامہ بھیجا ہی۔ ہم پرامید ہیں کہ گلگت بلتستان کی پولو ٹیم اور عوام بطور مہمان میلے میں شریک ہونگے صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ ہم نے صدر وزیراعظم مختلف ممالک کے سفیروں اور دیگر اہم مہمانوں کو دعوت نامے ارسال کر دیئے ہیں تاکہ علاقے میں آئے اور یہ تاثر ختم کرنے کا موقع ملے کہ یہ علاقے جنگ زدہ اور سیاحوں کیلئے خطرناک ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ شندور کے حوالے سے گلگت بلتستان کے عوام اور قائدین جتنی مرضی چاہے اتنے بیانات دیں صرف بیانات سے حقائق تبدیل نہیں ہوتے ہم بیان بازی پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ شندور شروع سے ہی چترال کا ایک اہم حصہ رہا ہے تاریخی ثبوت موجودہیں ہماری گرمائی چراگاہیں موجود ہیں اور شندور میلے کے انتظامات ہم کرتے آ رہے ہیں ایسے میں ہمیں بیان بازی کی ضرورت نہیں سید مہدی شاہ ہماری پارٹی کے بزرگ رہنما ہیں ان کی ہم قدر کرتے ہیں لیکن ان کی شندور پر دعویٰ کرنے کے بیانات کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ مہدی شاہ شندور آئے تو ہم انہیں بھی دیگر وی آئی پی مہمانوں کے ساتھ بٹھائیں گے اور انہیں بھی نیشنل وی آئی پی کارڈ اور سیٹ ملے گی بائونڈری کمیشن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ شندور پر بائونڈری کمیشن کا مجھے نہ تو کوئی علم ہے اور نہ ہی باونڈری کمیشن بننے کی کوئی ضرورت ہے جب شندور ہر حوالے سے چترال کا حصہ ہے تو اس میں بائونڈری کمیشن بننے کا مطالبہ یکطرفہ اور احمقانہ ہے شندور انگریزوں کے دور سے ہی چترال کا حصہ رہا ہے اور یہ مسئلہ دو صوبوں کے درمیان ہی۔

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s