اتحادی، حکومتی اور اپوزیشن اراکین کی مہدی شاہ حکومت پر تنقید

Posted on Updated on

Gilgit-Baltistan-Legislative-Assemblyگلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے پچیسویں اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی اپوزیشن اور اتحادی اراکین کے ساتھ ساتھ حکومتی اراکین نے بھی حکومت کی کارکردگی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ خطے کی امن و امان کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علاقے میں جب بھی حالات خراب ہوتے ہیں وزراء اسلام آباد بھاگ جاتے ہیںجب کہ امن و امان سمیت اہم علاقائی ایشوز پر اپوزیشن اور اتحادی اراکین سے مشاورت نہیں کی جارہی ۔ اپوزیشن کے صرف تین اراکین بھی حکومت کو برداشت نہیں ہو رہے ہیں وزیراعظم کے اعلانات پر اب تک کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوئی ہے کئی سرکاری اداروں میں قلم اور کاغذ خریدنے کے بھی پیسے موجود نہیں ہیں۔ کرپشن کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی ہے،حکومتی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علاقے میں سرکاری نوکریاں بک رہی ہیں جس کی وجہ سے طلباء مذید اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بجائے پیسے جمع کرنے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں خطے میں ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہیں بجٹ کہاں خرچ ہو رہا ہے کچھ پتہ نہیں خطے میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔
قصہ مختصر جب ایوان کے اندر وزیراعلیٰ اور چند وزراء کے علاوہ اگر حکومتی اتحادی اور اپوزیشن اراکین حکومت کی کارکردگی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں تو اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حکومت کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے اجلاس کے دوران وزیر قانون وزیر شکیل نے بڑی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ وزیراعظم کے اعلان کردہ دو ارب روپے لانے میں حکومت نے سستی کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے یہ رقم اب تک موصول نہیں ہوئی ہے اس سے بڑی جرات کا مظاہرہ وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ نے کیا انہوں نے کہا کہ کر وزراء کی اربوں کی کرپشن معاف کر دی اس کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ وزیر قانون و دیگر وزراء نے حکومتی کارکردگی کا دفاع کرنے کی بڑی حد تک کوششیں کی اس اسمبلی سیشن کے دوران ہونے والے سوالات و دیگر واقعات سے ایک بات تو واضح ہوگئی کہ جس طرح عوام حکومتی کارکردگی کے حوالے سے سوالات اٹھا رہے ہیں اسی طرح سے ہی عوام کے منتخب نمائندے بھی سوالات اٹھا رہے ہیں حکومتی کارکردگی کو خوب تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر عوام اور عوام کے منتخب نمائندے بھی آواز اٹھا رہے ہیں تو جائز بنیادی اور عوامی اہمیت کے حامل مسائل حل کیوں نہیں ہو رہے ۔ کون ہے جو ان مسائل کے حل میں رکاوٹ بن رہا ہے کیا صوبائی حکومت خود ٹھیک طریقے سے نہیں چل رہی ہے کیا اب تک مہدی حکومت کے دعوئوں چلانے کے باوجود اختیارات صوبے کو منتقل نہیں کئے گئے ہیں کیا کشمیر آفیئرز یا بیورو کریسی اب تک راستے میں حائل ہے کچھ تو ہے جس کی وجہ سے اتنے اہم عوامی نوعیت کے مسائل جوں کے توں ہیں لہذا پہلے ان سوالات کا جواب ڈھونڈنا ہوگا۔کیونکہ خطے میں ترقی کا پہیہ جام ہے عوام کے ساتھ ساتھ اراکین اسمبلی بھی حکومتی کارکردگی سے نالاں کیوں ہیں یہ کہا جا سکتا ہے کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔
وفاق میں چھ ماہ بعد عام انتخابات ہونے ہیں اور ان انتخابات کا اثر سابق ادوار کی طرح ہر حال میں گلگت بلتستان پر بھی پڑے گا وفاق میں حکومتی کارکردگی سے عوام کی ا کثیریت خوش نہیں ہے جس کی واضح مثال گزشتہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ کی واضح کامیابی کی صورت میں سامنے آئی ہے گلگت بلتستان حکومت کے پاس بھی اب صرف دو ہی سال رہ گئے ہیں مگر ان دو سالوں میںاگر وفاق میں نئی حکومت پیپلزپارٹی کے بجائے کسی اور پارٹی کی آجاتی ہے تو یہاں بھی بقیہ سالوں میں موجودہ صوبائی حکومت کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان دو سالوں میں اگر حکومت عوامی اہمیت کے چند ایک اہم منصوبے شروع کرتی ہے یا پھر بڑھتی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ برھتی ہوئی کرپشن اور چوردروازوں سے بھرتیوں پر پابندیاں لگاتی ہے تو یہ بھی موجودہ حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ یقینا یہ مسائل یک دم حل نہیں ہو سکتے اگر کوششیں کی جائے تو ان بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔
موجودہ حکومت کے پاس وقت بہت کم ہے مگر بہت کچھ کرنا ہے اپنی گرتی ہوئی ساکھ بحال کرنے کے لئے چند ایک اہم اقدامات بغیر وقت گزارے اٹھانے ہونگے ایوان کے اندریا باہر اختیارات میں بڑی بڑی بیانات دینے سے مسائل حل نہیں ہو سکتے اجتماعی کوششیں کرکے وفاق سے وزیراعظم کے اعلان کردہ اعلانات سمیت بے روزگاری کے خاتمے کرپشن میں کمی و دیگر اقدامات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا وقت بڑی جلدی سے ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے ایسے مواقع بار بار کسی کو نصیب نہیں ہوتے۔ بعد میں پچھتانے اور افسوس کرنے سے یہ بہتر نہیں ہے کہ جو موقع ہاتھ میں ہے اس سے فائدہ اٹھا کر ایسا کچھ کر چلے کہ آنے والی حکومتیں اور نسلیں سب یاد رکھیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s