سیلاب کی تباہ کاریاں اورحکومتی بے بسی

Posted on Updated on

Image 
گزشتہ دنوں کی سخت گر می اور گلگت بلتستان کے دریائوں اور ندی نالوں میں طغیانی اور پانی کے بہاو میں  اضافے سے بہت سارے علاقے تباہی کی زد میں  ہیں  ۔ کئی علاقوں  میں  عوام کھلے آسمان تلے یا عارضی کیمپوں  میں  رہنے پر مجبور ہیں  ۔ کھانے پینے کی اشیائ کی شدید کمی کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے ۔ درجنوں  رابطہ پل بہہ چکے ہیں  ، سینکڑوں  گھرانے بے گھر ہو چکے ہیں  ، زیر کاشت ، بنجر زمین ، پھلدار درخت ، باغات دریا بر د ہو چکے ہیں  ۔ عوام انتہائی کسمپرسی کی حالت میں  زندگی گزار رہے ہیں ۔
 
 وزیر اعلیٰ صاحب بڑے فخر سے کہتے ہیں  کہ ہمارا بجٹ دوسرے صوبوں  کے یونین کو نسل کے برابر بھی نہیں  ہے اس لیے چادر دیکھ کر پائوں  پھیلاتے ہیں  ۔ عوام آپ سے پوچھتے ہیں کہ خطہ معاشی بحران کا شکار ہے تو اس وقت ملک میں  سینکڑوں  این جی اوز کام کر رہی ہیں  ۔ جن کے پاس اربوں  سے زیادہ کے وسائل موجود ہیں  ۔ ان کو بحالی کے کاموں  میں  مدد کے لیے دعوت کیوں  نہیں  دی گئی ۔ دوسری طرف اس تباہی کے حوالے سے وفاقی حکومت سے مدد کیوں  نہیں  لی گئی ۔ 
 
اب تو وزیر اعلیٰ کے پاس جواز بھی ہے کہ ہم نے تو مدد کر نے کی اپیل کی تھی مگر وفاق میں  لیگی حکومت نے ہماری ایک نہ سنی ۔جتنے پیمانے پر تباہی اور لوگ متاثر ہوئے ہیں  اس کا اب تک صحیح اندازہ ہی نہیں  لگا یا جا سکا ہے ۔
 
 وزیر اعلیٰ صاحب کے پاس ہیلی کاپٹر کی سہولت مو جود ہے ۔ کبھی انہوں  نے یہ زحمت نہ کی کہ اسے سیلاب کی تباہ کاریوں  کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کریں  ۔ انہیں  اسلام آباد ، گلگت اور سکردو جانے اور آرام کر نے کے لیے یہ سہولت ہر وقت میسر ہو تی ہے مگر یہ سہولت سیلاب کی تباہ کاریوں  سے اپنی مدد آپ مقابلہ کر نے والے عوام کو دیکھنے اور ملنے کے لیے میسر نہیں  ہو سکی ۔
 
مہد ی شاہ صاحب نے وفاق اور این جی اوز کو بحالی کے کاموں  کی طرف لانے کے بجائے آئندہ مالی سال میں  پانچ کروڑ روپے قدرتی آفات کے لیے رکھنے کی ہدایت دیدی ہے ۔ یہ رقم اور وزیر اعلیٰ کی ہدایت مجھے انتہائی مضحکہ خیز لگتی ہے ۔ پورے خطے میں  ہو نے والی قدرتی آفات کے لیے صرف پانچ کروڑ اور وہ بھی صرف اعلان ۔ لگتا تو یہی ہے کہ اس اعلان پر بھی سابقہ اعلانات کی طرح عمل در آمد ہو گا ۔
 
 حالیہ تباہی کے حوالے سے عوامی رائے یہ سامنے آ رہی ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں  کی بڑی وجہ حفاظتی اقدامات کے لیے رکھے گئے فنڈز میں  خرد برد اور وقت پر کام مکمل نہ کر نا ہے جس کی اب تک کسی قسم کی تحقیقات بھی نہ ہو سکی ہیں  ۔ اس وقت پورے خطے میں  گیارہ سو سے زائد چھوٹے اور بڑے تر قیاتی منصوبے التوا کا شکار ہیں  جب تک زیر التوا منصوبے مکمل نہ ہوں  ،نئے منصوبے بھی بے معنی ہیں  ۔
 
 وزیر اعلیٰ کی طرف سے ان منصوبوں  کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی معائنہ کمیشن بھی بے معنی ہو کر رہ گئی ہے جس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ان منصوبوں  کے التوا میں  بڑے بڑے مگر مچھ شریک ہیں  وہ کسی صورت نہیں  چاہتے کہ انہیں  قانون کی گرفت میں  لایا جائے اور اس لسٹ میں  بڑوں  بڑوں  کے بڑے بڑے بھی شامل ہیں  ۔
 
 لہٰذا عوام کی یہ خواہش ہے کہ موجودہ سیلاب کی تباہی اور عوام کو بے گھر کر نے والوں  کو منظر عام پر لایا جائے ۔ جب حفاظتی بند تعمیر کر نے کے لیے رقم ریلیز ہوئی تھی تو بر وقت بند تعمیر کیوں  نہ کئے گئے ۔ آخر غریب عوام کو بے گھر کر نے اور لاکھوں  روپے بچانے کے لیے غریب عوام کو کروڑوں  کا نقصان کر نے والوں  کو سزا کب ملے گی ۔حفاظتی بند جو عوام کی جان و مال کی تحفظ کے لیے ہو تے ہیں  ان میں  کرپشن ، پسند و نا پسند اور تاخیر ی حر بے ہر صورت عوام دشمن ہیں  اور عوام دشمن عناصر کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے ۔ 
 
گزشتہ سیلاب سے عوام سے کچھ بھی سبق نہیں  سیکھا ۔ اب بھی وہی کہانی دوبارہ دہرائی جا رہی ہے ۔ محض وعدے ، دلاسے اور دعوے ۔جب تک یہ وقتی پالیسیاں  ہو گی تباہیاں  آ تی رہیں  گی ، لوگ متاثر ہوتے رہیں  گے اور سیاسی پر ندے رٹے رٹائے دعوے اور اعلانات کریں گے اور آخر میں  کچھ بھی حاصل نہیں  ہو گا ۔ لہٰذا اس کے لیے ضروری ہے اور اب بھی وقت ہے کہ سابقہ  کہانیوں  کو دہرانے کے بجائے ان سے سبق حاصل کر کے دور رس پالیسیاں  بنائی جائیں  

One thought on “سیلاب کی تباہ کاریاں اورحکومتی بے بسی

    mamtaz Hussain Gohar responded:
    June 21, 2013 at 6:53 am

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s