پیپلز پارٹی کے بد ترین اقتدار کا بد ترین انجام

Posted on

mm

 تحریر: ممتاز حسین گوہر

آٹھ جون کو گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے چوبیس عام نشستوں کے لئے ہونے والے انتخابات چند خوشگوار اور سبق آموز واقعات بھی نقش کر گئے. سب سے پہلی بات یہ پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی علاقے میں ہونے والے سب سے پر امن انتخابات تھے. عوام پرامن طریقے سے پولنگ سٹیشنوں میں آئے، قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کیا، اپنے پسندیدہ امیدوار کے حق میں رائے دہی استعمال کیا اور واپس ہو گئے.

دوسری بات یہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے صاف اور شفاف انتخابات تھے. پولنگ کے دوران، ووٹوں کی گنتی کے دوران یا پھر نتائج کے اعلان کے بعد بھی کسی بھی امیدوار یا سیاسی پارٹیوں کی طرف سے دھاندلی کے الزامات سامنے نہیں آئے. سب نے نتایج کو کھلے دل سے تسلیم کر لیا. دھرنوں کا اعلان ہوا، جلوسوں کا اور نہ ہی نتایج کو چلینج کرنے کا. کچھ حلقوں میں امیدوار بھاری مارجن سے کامیاب ہوۓ تو کچھ حلقے ایسے بھی تھے جہاں چند ووٹوں نے کسی کو گھر کا اور کسی کو اسمبلی کا راستہ دکھا دیا.

تیسری بات جو سب سے دلچسپ اور اہم رہی وہ یہ کہ سابق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی بدترین شکشت.عوام نے سابقہ حکومت اور ممبران اسمبلی جو سرکاری نوکریوں کی خرید و فروخت، رشوت خوری، اقرباپروری، بدعنوانی اور بیڈ گورننس کی وجہ سے بدنام ہو چکے تھے آخر کار اپنے ووٹ کا استعمال کر کے نہ صرف انھیں نشان عبرت بنا دیا بلکہ نو منتخب ممبران اسمبلی اور آمدہ حکومت کو بھی یہ سخت پیغام دیا ہے کہ یہی عوام آپکی پانچ سالہ کارکردگی پر نظر رکھے گی اور یہ بات ذہن میں رکھ کر اقتدار کے مزے لیں کہ آپ نے بھی دوبارہ لوٹ کر عوام کے پاس ہی آجانا ہے.

 وہی جماعت جس کو سابقہ انتخابات میں سادہ اکثریت ملی تھی، اور کل تینتیس ممبران اسمبلی میں بیس سے زائد کا تعلق اسی پارٹی سے تھا، وزیراعلی، سپیکر، ڈپٹی سپیکر، سینئر وزیر سمیت اہم عہدے بھی انہی کے پاس تھے، مگر سابق پیپلز پارٹی کے ممبران اسمبلی سے ایک بھی  دوبارہ الیکشن میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے، سکردو کی تحصیل شگر سے عمران ندیم پی پی کے واحد رکن اسمبلی بن چکے ہیں، اور یہ سابقہ پی پی کی حکومت کا حصہ بھی نہیں رہے ہیں. اسس حساب سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ عوام نے سابق حکمران جماعت میں موجود تمام ممران کو یکسر مسترد کر دیا.

گلگت بلتستان قانون ساز اسبملی کے عام انتخابات کے لئے کل رجسٹر ووٹرز کی تعداد چھ لاکھ618364 تھی، جن میں خواتین ووٹرز کی تعداد 288889 اور329475مرد رجسٹرڈ ووٹرز تھے. پورے گلگت بلتستان میں1143 پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے تھے. جن میںسے 282حساس قرار دیے گئے تھے. مجموعی طور پر ٹرن آوٹ پچاس فیصد سے زائد رہا. سولہ وفاقی، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے 144 امیدواروں نے انتخابی عمل میں حصہ لیا. جبکہ 124 امیدواروں نے آزاد حیثیت میں حصہ لیا. انتخابات کے پرامن اور شفاف انعقاد میں نگراں حکومت، جی بی انتظامیہ اور الیکشن کمیشن کے ساتھ پاک فوج کا کردار انتہائی شاندار رہا، جس کی وجہ سے یہ تمام ادارے خراج تحسین کے مستحق ہیں.

جمہوریت بہترین انتقام ہے کے فارمولے کو گلگت بلتستان کے عوام نے سچ کر دکھایا. پانچ سال سابق حکومت اسمبلی میں اپنی بھاری اکثریت اور مرکز میں زرداری و گیلانی حکومت کی شفقت سے نہ صرف قومی خزانے بلکہ عوام کی جیب بھی صاف کرتے رہے. تین تین لاکھ روپے کی عوض محکمہ تعلیم میں استاد جیسی مقدس عہدے کو نیلام کرتے رہے، اور اس محکمے کو تین لاکھ روپوں کے خاطر انتہائی کم پڑے لکھے، میریٹ پر نہ اتارنے والے اساتذہ سے بھر کے پورے گلگت بلتستان کی کی نسلوں کے ساتھ ایک گھنونی کھیل کھیلا گیا. گلگت بلتستان میں انفراسٹرکچر کا نظام ان سالوں میں جام رہا کوئی نیا ترقیاتی کام شروع نہیں ہو سکا، ترقیاتی فنڈ کو بھی پروٹوکول اور غیر ترقیاتی کاموں میں صرف کیا گیا. خطے میں سیکورٹی کی صورت حال بھی دگرگوں رہی. وقت وقت کے ساتھ بیگناہ مرتے رہے. قاتل آزاد گھومتے رہے. ٹھیکوں کی بندر بانٹ ہوتی رہی. کمیشن کے نام پر کرپشن عروج پر رہی. عوام گلگت بلتستان کی آیینی حیثیت واضح کرنے پر زور دیتے رہے، مگر یہ وقت گزاری کی خاطر کبھی رانا ثنا اللہ کبھی بابر اعوان کبھی کسی اور وفاقی رہنماؤں کے خلاف اسمبلی میں قرارداد مذمّت پیش کرتے رہے. ایک وقت ایسا بھی آیا جب لوگ اس اسمبلی کو مذمتی قردادیں پاس کرنی والی فیکٹری سے بھی یاد کرنے لگے. آیے روز عوام اور مختلف محکموں کی طرف سے احتجاج اور جلوسوں کا سلسلہ بھی جاری رہا.  مگر یہ حکمران اقتدار کے نشے میں مست رہے. اور اس بات بھول ہی چکے تھے کہ انھوں نے واپس عوام کے پاس بھی جانا ہے. مگر اب پچتائے کیا ہوت جب چڑیا چگ گی کھیت….

گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی بد ترین شکست اس بات کو ظاہر کرتی ہے، کہ عوام کو بیوقوف سمجھنے والے، اقتدار اور پیسے کو سب کچھ سمجھنے والے خود سب سے بڑے بیوقوف ہیں. عوام نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ رشوت خوری، میریٹ کی پامالی، اقتدار کا ناجائز استعمال، سرکاری نوکریوں کی خرید فروخت کی جز وقتی حیثیت ضرور ہے مگر کل وقتی قطعاً نہیں. مرکز سے خورشید شاہ، قمر الزمان کائرہ، شہلا رضا سمیت مرکزی قیادت نے یہاں ڈیرے بھی ڈال دیے، مگر عوام انھیں بھی صاف واضح کر دیا کہ ہم نے مردوں کے نام ووٹ دیتے رہے، مگر جن زندوں کو ہم نے اقتدار تک پنچایا وو ہمارے لئے مردے بنے رہے. عوام کا پیپلز پارٹی کے حکومت اور اس کی کردگی سے حوالے سے یہ کہنا کہ ”جنرل ضیاء و دیگر آمروں نے گلگت بلتستان کو اتنا نقصان نہیں پنچایا تھا، جتنا پیپلز پارٹی کی حکومت نے ان پانچ سالوں میں پنچایا ہے’ یہ بات اس انتخابی نتایج کے بعد بڑی حد تک سچ بھی ثابت ہو گی ہے.

دوسری طرف الیکشن جیت لینا کامیابی نہیں بلکہ یہ اصل امتحان کی طرف ایک قدم ہے. اب اگلے پانچ سال کے بعد نو منتخب ممبران اسمبلی دوبارہ عوام کے پاس جایئں گے، تب حقیقی امتحان ہوگا. پیپلز پارٹی کے بڑے بت اس حقیقی امتحان میں پانچ سالہ کارکردگی کی بنیاد پر صرف فیل ہی نہیں بلکہ ذلیل بھی ہو چکے ہیں. اس سے بڑی سبق اور مثال نیے ممبران اسمبلی کو ہو سکتا ہے پھر نہ ملے. جب تک اس اہم سبق کو یاد رکھیں گے یقیناً اصل راستے سے نہیں بھٹک جاؤ گے. یہ بات ہمیشہ ذھن میں رکھنی چاہئے سیاست اصل میں ایک عوامی امانت ہے، اس میں خیانت یا کوتاہی ہو سکتا ہے انسان معاف کرے مگر ان انسانوں کا رب اپنی مخلوق سے نہ انصافی کرنے والوں کو با آسانی نہیں بخش سکتا.

 اس کامیابی کے بعد نو منتخب ممبران اسمبلی کا امتحان بھی شروع ہو چکا ہے، ان کے پاس دو راستے ہیں ایک وہی راستہ ہے جس پر سابقہ ممبران اسمبلی نے اپنے پانچ سال کا دورانیہ گزارا. خوب جاییدادیں بنایئں، عوام کو تین تین لاکھ کے عوض سرکاری نوکریاں بچتے رہے، عوامی مسائل سے زیادہ ذاتی مسائل کی طرف توجہ مرکوز کرتے رہے. کرپشن، لوٹ مار اور بدعنوانی کی سرپرستی کریں. اور دوسرا راستہ ہے عوام میں رہیں، عوام کے حقیقی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوششیں کریں، میریٹ اور انصاف کو اپنا شعار بنایئں. اسمبلی کو ربر سٹمپ کے بجائے اسکے اصل روح کے مطابق کام کرنے والا ادارہ بنایئں. اور یوں اگر پانچ سال گزاریں اور دوبارہ عوام کے پاس جایئں گے، تو یقیناً ایسی صورت حال ہر گز نہیں ہوگی جس طرح کی صورت حال سابق حکمران جماعت کے ممبران کے ساتھ ہوا ہے.

یقیناً نئی حکومت کے سامنے بہت سارے چیلنجز درپیش ہوں گے، اب دیکھنا یہ ہے کہ صوبائی صدر نواز لیگ اور نو منتخب ممبر اسمبلی حافظ حفیظ الرحمان اور انکی ٹیم کا ان  چیلنجز سے نمٹنے کا لائحہ عمل کیا ہوتا ہے.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s