کچھ ذکرِ خیر ارکانِ اسمبلی کا

Posted on

ممتاز گوہر

گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات میں نئے پڑھے لکھے اور خاص طور پر ایماندار امیدواروں کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے. سابق اسمبلی میں وزیراعلیٰ سمیت بیشتر ارکانِ اسمبلی انگریزی زبان تو درکنار، اردو کا بھی جنازہ نکال دیتے تھے۔ ساتھ ہی وہ سیاست کے رموز و اوقاف سے پوری طرح نابلد تھے. اکثر سردیوں میں اسلام آباد آکرعلاقے کے عوام سے منہ چھپاتے. البتہ ان میں کچھ جائیدادیں بنانے، غیر قانونی تقرریوں اور کرپشن میں اپنا کوئی ثانی نہ رکھتے تھے. امید ہے عوام میں تھوڑی بہت اگر غیرت و حمیت باقی ہے تو ایسے لوگوں کو دوبارہ اپنے اوپر مسلط نہ ہونے دینگے. ایک اصل رہنما ملکی اور عالمی بدلتی صورت حال سے مکمّل طور پر آگاہ ہوتا ہے مگر ہمارے یہ صاحبان گلگت بلتستان کی سیاست بھی اچھی طرح سمجھے بغیر رخصت ہوئے. قومی میڈیا کی سطح پرایک بھی لیڈر ایسا سامنے نہیں آسکا جو خطے کی بہتر انداز میں نمایندگی کرتا. کچھ ٹی وی نشریات میں ہمارے معزز ارکانِ اسمبلی وارد ہوئے مگر صورت حال یہ کہ سوال گندم ہوتا اورجواب چنا ملتا. میڈیا نے ایک مناسب حد سے زیادہ انہیں موقع نہ دے کر ہی بہتر کیا، کیونکہ غلط ترجمانی سے خاموشی بہتر ہے. اب جب کہ جمہوریت کے نخلستان پر بہار کی آمد آمد ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اب بھی وہی پرانے کانٹے اگ آتے ہیں یا پھر کچھ نئے شگوفے جلوہ نما ہوکر یہاں کی فضا کو معطر کریں گے.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s