گلگت بلتستان انتخابات؛ ماضی حال اور مستقبل

Posted on

ممتاز گوہر

سیاستدان ووٹ ماانگتے وقت بڑے بڑے نعرے اور عوامی مسائل پر مبنی منشور تو لے کر آتے ہیں تاہم ان پر عمل نہیں ہوپاتا۔ فوٹو:فائل

جوں جوں گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کیلئے عام انتخابات کی تاریخ قریب آتی جارہی ہے، انتخابی سرگرمیاں اور سیاسی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جی بی اسمبلی کی 24 عام نشستوں کے لئے لگ بھگ سینکڑوں امیدوار میدان میں اتر چکے ہیں جن میں مقامی اور وفاق پرست پارٹیوں کے علاوہ آزاد امیدواروں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔

16 مئی تک یہ امیدوار دستبردار ہوسکیں گے، جس کے بعد 18 مئی کو امیدواروں کی حتمی لسٹ آویزاں کی جایئگی۔ 8 جون کو ہونے والے انتخابات میں گلگت بلتستان کے تین ڈویژن اور سات اضلاع کے 6 لاکھ 17 ہزار 3 سو 5  ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر سکیں گے۔ ان ووٹرز میں 3 لاکھ 28 ہزار 8 سو 32 مرد جبکہ 2 لاکھ 88 ہزار 4 سو 73 خواتین شامل ہیں۔ ساتوں اضلاع میں 1 ہزار 22 پولنگ اسٹیشن قائم کے گئے ہیں۔

1972 میں ذوالفقار علی بھٹو نے علاقے کا دورہ کیا اور فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا۔ یہ بات یاد رہے کہ سکندر مرزا اور ایوب خان کے مارشل لاء کا اطلاق گلگت بلتستان میں نہیں ہوا تھا، مگر فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے زون ای قرار دے کر گلگت بلتستان میں بھی مارشل لاء کو نافذ کردیا۔ جنرل ضیاء نے ہر ممکن کوشش کی کہ اس خطے کو آئینی دائرہ کار میں لایا جائے، مگر کشمیری قیادت کے دباؤ کے سامنے وہ ایسا نہیں کر سکے لیکن گلگت بلتستان کے تین مبصرین کو قومی اسمبلی میں جگہ دلانے میں کامیاب ہو گئے۔ 1991 اور اسکے بعد آنے والی پی پی کی حکومت نے ناردرن ایریا کونسل کو کچھ مزید اختیارات تفویض کر دیئے۔

1994 میں پہلی بار پارٹی بنیادوں پر انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔ اِن انتخابات میں وفاقی اور مقامی پارٹیوں نے بھی حصہ لیا۔ 1999 میں ملک میں مشرف نے حکومت سنبھالنے اور باوردی صدر بننے کے بعد ناردرن ایریاز مشاورتی کونسل کو قانون ساز کونسل کا درجہ دیا۔ پہلی بار خواتین کو پانچ نشستیں بھی دے دی گیئں۔ مشرف کے دور میں لوکل باڈیز اور کونسل کے انتخابات بھی ہوئے اور لیگل فریم ورک آرڈر میں مخصوص ترامیم کے بعد نافذ کر دیا گیا۔

2008 میں مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت برسرِ اقتدار آنے کے ایک سال بعد گلگت بلتستان میں میں سیاسی، عدالتی اور آئینی اصلاحات متعارف کرائی گئیں، مگر یہ تمام اصلاحات بھی ماضی میں ہونے والی اصلاحات کی طرح نا پختہ اور نا مکمل تھیں، مگر عوام نے غنیمت جان کر انہیں وقتی طور پر قبول کرلیا۔ پی پی کی حکومت  نے ’’گلگت بلتستان سیلف گورننس اینڈ امپاورمنٹ آرڈیننس‘‘ کے ذریعے خطے کو صوبے جیسی حیثیت دے دی، مگر یہ کسی بھی طرح سے ایک مکمل صوبے کا نعم البدل نہیں تھا، جس کے ذریعے علاقے کا نام گلگت بلتستان رکھا گیا، کونسل کو اسمبلی کا درجہ دیا گیا اور وزیراعلی اور گورنر کے عہدے قائم کئے گئے۔ اسمبلی نششتوں کی تعداد 33 کردی گئیں۔ یہ تمام مطالبات پورے تو ہوگئے مگر ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ہوئے ہیں جسے کسی بھی وقت ختم کیا جا سکتا ہے۔

گلگت بلتستان کی اس سیاسی تاریخ کو دیکھ کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں کے عوام انگریزوں کے دورِ اقتدار میں با اختیار تھے نہ  ڈوگروں کے دور میں، نہ ہی یہ لوگ قیام پاکستان کے بعد اقتدار میں قبضہ کرنے والے آمروں کے دور حکومت میں اور نہ ہی دیگر جمہوری و نیم جمہوری حکومتوں کے دوران انہیں مکمل جمہوری، سیاسی و آئینی حقوق مل سکے۔ اقتدار میں آنی والی ہر حکومت نے لولی پاپ دے کر بہلانے کی ہر ممکن کوشش کی۔

اس دفعہ مرکز میں نواز شریف کی حکومت ہے، سو وہ بھی گلگت بلتستان میں اپنی پارٹی کو جتوانے کے لئے پی پی کی ڈگر پر چل پڑے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے نگراں حکومت کے لیے قمر زمان کائرہ کو گورنر بنا دیا تھا، سو ن لیگ نے ننکانہ صاحب کے برجیس طاہر کو گلگت بلتستان کے عوام پر گورنر کے طور مسلط کرکے حساب چکتا کردیا۔ دوسری طرف سابقہ الیکشن سے قبل سابق وزیراعطم یوسف رضا گیلانی نے علاقے کا دورہ کیا، عوام کو خوب سبز باغ دکھائے، مگر ہنوز ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا، ہاں البتہ عوام کو بیوقوف بنا کر بھاری مینڈیٹ سے ضرور کامیاب ہوئے اور اب نواز شریف نے اپنے حالیہ دورہ گلت میں بھی ایسا ہی کچھ کیا، نئے اضلاع، یونیورسٹی اور دیگر بڑے مگر غیر ترجیحی اعلانات کے ذریعے پارٹی کو کامیابی دلانے کی ہر ممکن کوشش کی۔

نواز شریف اپنے دورے میں کسی قسم کے ترقیاتی پلان کا اعلان نہیں کرسکے۔ پہلے سے اعلان شدہ پروجیکٹس کو عوام کے سامنے دوہراتے رہے۔ اعلانات کئے مگر کسی اعلان کردہ پروجیکٹ کا نوٹیفکیشن الیکشن سے قبل جاری ہونا ممکن نظر نہیں آرہا۔ گلگت بلتستان کے عوام پُر امید تھے کہ وزیر اعظم اپنے خطاب میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت واضح کرنے کے حوالے سے کوئی اہم اعلان کرینگے، مگر اِس اہم عوامی مسئلے کو سرتاج عزیز کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دے کر ٹال دیا۔ وہاں کی نئی نسل کو چند لیپ ٹاپ سے زیادہ انجینرنگ و میڈیکل کالج کی ضرورت تھی، بھلا وہ ایک ایسا اہم اقدام گلگت بلتستان کے مستقبل کے لئے کیوں کر اُٹھا سکتے تھے، یوں کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مصداق وزیراعظم اپنا چند گھنٹوں پر محید دورہ مکمل کر کے واپس آگئے۔

کیا آپ اِس حق میں ہیں کہ گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ مل جانا چاہیے؟

  • ہاں (91%, 168 Votes)
    نہیں (9%, 16 Votes)
  • 184 : کل ووٹرز

نوٹ: ایکسپریس نیوز  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

خیر یہ کچھ باتیں تو یہاں کی سیاسی تاریخ کے حوالے سے ہویئں، اب دوبارہ خطے کے انتخابات کی طرف آجاتے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی تھی اور اپنے پانچ سال بغیر کسی کھینچ تان کے مکمل کرلیے۔ اگرچہ پانچ سال تو پورے ہوگئے مگر پیپلز پارٹی اور اُس کے اتحادی عوامی اُمنگوں پر بالکل بھی پورا نہیں اُترسکے اور عوام اِن کی کارکردگی سے نالاں نظر آتے ہیں۔ کرپشن، ملازمتوں کی خرید و فروخت اور میریٹ کا جو قتل عام اِس دور میں ہوا، وہ عوام کبھی بھی نہیں بھول پایئنگے، یہی وجہ ہے کہ اب پیپلز پارٹی کی حالت موجودہ انتخابات میں اتنی خراب ہوگئی ہے کہ انھیں اہم حلقوں سے موزوں امیدوار تک نہیں مل پا رہے ہیں۔آزادی سے لے 1969 تک گلگت بلتستان میں کسی قسم کے قابل قدر سیاسی اصلاحات سامنے نہ آسکے، مگر 1969 میں صدر یحییٰ خان نے ناردرن ایریاز ایڈوائزری کونسل کے نام سےایک مجلسِ مشاورت قائم کی۔ اگلے سال اس کونسل کے 16 نششتوں کے لئے انتخابات ہوئے، یہ پہلا موقع تھا جب یہاں کے لوگوں کو مقامی سطح کے انتخابات میں شامل اور ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا۔ یہ کونسل برائے نام تھی، لیکن خطے کی پہلی منتخب عوامی مجلس ہونے کا اسے شرف حاصل ہوا۔گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ شروع دن سے ہی بڑی حد تک تاریک رہی ہے۔ جب یہ علاقہ مہاراجہ کشمیر کے زیر تسلط تھا، تب سے ہنوز علاقے میں سیاسی اور انتخابی اصلاحات کی کوششیں اور تجربات کئے جارہے ہیں، مگر کوئی بھی مہاراجہ، آمر، جمہوری یا نیم جمہوری حکمران مکمل سیٹ اپ اس خطے کو فراہم نہیں کر سکے۔ گلگت بلتستان کی آزادی سے قبل جب یہ علاقہ مہاراجہ کشمیر کے زیر تسلط تھا۔ تب 1934، 1937 اور 1941 کے جموں کشمیر ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں گلگت بلتستان سے ہر بار پانچ نمایندے منتخب ہوتے رہے۔ مگر ڈوگروں سے آزادی کے بعد گلگت بلتستان 17 دن آزاد ریاست کے طور قائم رہی اور الحاق پاکستان کے بعد 13 دسمبر 1947 کو سردار عالم خان نے پولیٹیکل ایجنٹ کے طور پر علاقے کا نظم و نسق سنبھال لیا۔ سردار عالم خان کے پولیٹیکل ایجنٹ مقرر ہوتے ہی پورے علاقے میں بدنام زمانہ اور کالا قانون فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) نافذ کردیا گیا۔ جس سے عوام کی آواز اور دب کر رہ گئی۔گلگت بلتستان کو پسماندہ اور ترقی کی دوڑ میں پیچھے رکھنے والے وفاقی حکمرانوں اور وفاقی سیاسی پارٹیوں کو یہ علاقہ اکثر انتخابات کے ایام ہی یاد آجاتا ہے۔ ووٹ مانگتے وقت بڑے بڑے

نعرے اور عوامی ایشوز پر مبنی منشور لے کر سامنے آجاتے ہیں لیکن انتخابات میں ہار ہو یا جیت یہ نعرے اور منشور پھر اگلے انتخابات تک دفن ہو جاتے ہیں۔
Originally published at
http://www.express.pk/story/357470/

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s