سیدہ غلام فاطمہ: اسی ہزار جبری مزدوروں کو رہائی دلانے والی پاکستان کی ایک پرعزم اور باہمت خاتون

Posted on Updated on

ممتاز حسین گوہر

“ماہنامہ اطراف” نے آج اعتراف عظمت ایوارڈز کے نام سے پاکستان کے ان مخصوص شخصیات میں ایوارڈز تقسیم کئے جنھوں نے اپنے اپنے شعبوں میں ایسے کار ہائے نمایاں انجام دے ہیں جو ہم سب کے لئے زندگی میں دکھی انسانیت اور معاشرے کے پسے ہوۓ طبقات کے لیے کچھ کرنے کا حوصلہ اور توانائی کا موجب بن سکتے ہیں.قائم مقام صدر اور چیئرمین سینٹ رضا ربانی سے ایوارڈ وصولی کے بعد ان عظیم ہستیوں نے اپنے کاموں و خدمات کا مختصر تذکرہ کیا، یہاں چند شخصیات کا تذکرہ قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے.
55d2dc09b3b5eسیدہ غلام فاطمہ: پاکستان میں بھٹہ مزدوروں اور جبری مشقت کے حوالے سے عملی جدوجہد کر رہی ہیں. ان کی کوششوں سے اب تک اسی ہزار سے زائد مزدور رہائی پا چکے ہیں. سیدہ غلام فاطمہ نے مزدوروں کی معاشی استحصال کے خلاف کام کرنے والا ایشیا کا پہلا ادارہ قائم کیا. یہ ادارہ مزدوروں کے ذمے واجب الادا قرضوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ان کی قانونی، سماجی، طبی اور نفسیاتی معاونت بھی کرتا ہے.
سیدہ غلام فاطمہ نے کہا کہ آج سے چالیس سال پہلے میرے والد نے ایک بزرگ کو روڈ پار کرانے میں مدد کی، روڈ پار کرنے کے بعد والد نے اس بزرگ سے پوچھا کہ اب کس طرف جایئں گے؟ تو انھوں نے جواب دیا “بیٹا میں ایک بھٹہ مزدور ہوں، گھر اور گھر والوں کو جوںپڑی سمیت جلایا گیا ہے، لہذا میں یہی فٹ پاتھ میں سو جاؤنگا”. اس بات کا والد پر بہت اثر ہوا اور اسی وقت سے ہم نے مزدوروں کے حقوق کے لیے کوششیں شروع کیں، اور آج میں اپنی والد کے مشن کو آگے بڑھا رہی ہوں. میرا مشن ہے کہ پاکستان کے تمام مزروں کو بھی انسانی حقوق کے کٹیگری میں لایا جائے پاکستان کے کونے کونے سے جبری مشقت کا مکمل خاتمہ ہو. اور مزدور بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ کم از کم ایک عام انسان جیسی زندگی گزار سکیں.
غلام فاطمہ اپنی اس جدوجہد کو ایک خاردار راستے سے تشبیہ دیتے ہوۓ کہتی ہیں کہ مجھے اس دوران بار بار تشدد، خوف و ہراس اور گولیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا. لیکن کبھی اپنے مقصد پر سمجھوتہ نہیں کیا. ہر لمحے مجھے اس راستے سے ہٹانے والی کوششوں نے مجھے مزید حوصلہ دیا. میرے کام کی حوصلہ افزائی ہو نہ ہو مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ہے، بس میں نے اپنی کوششوں کو جاری رکھنا ہے.
ان کا کہنا ہے کہ غلامی کا بلواسطہ یا بلاواسطہ تعلق معاوضے سے ہے. پاکستان کے سامراجی، وڈیرانہ، جاگیردارانہ اور مزدور کش نظام میں اس حوالے سے مزدوروں کا انتہائی درجے تک استحصال ہوتا رہا ہے. اور اس استحصال کی خبریں اسی علاقے میں سامنے آجاتی ہیں اور وہیں دفن ہو کر رہ جاتی ہیں.
لاہور سے تعلق رکھنے والی غلام فاطمہ کو ان کی بے لوث خدمات کے اعتراف میں کئی ملکی عالمی ایوارڈز مل چکے ہیں. وہ حال ہی میں نیویارک میں گلوبل سٹیزن ایوارڈ بھی وصول کر چکی ہیں. وہ بھٹہ مزدوروں اور جبری مشقت پر کام کرنی والی پاکستان کی پہلی خاتون ہیں.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s