پروفیسر انجم جیمز پال کی کہانی

Posted on Updated on

ممتاز حسین گوہر

 

مجھے چھٹی جماعت میں اسکول کے نل سے پانی پینے نہیں دیا گیا، کیونکہ میں مسلمان نہیں تھا. جب فرسٹ ایئر میں کالج میں داخلہ لیا تو کمرہ جماعت میں بیٹھنے نہیں دیا گیا، اور کہا کہ اس کلاس میں صرف مسلمان بچے ہی بیٹھ سکتے ہیں. میں نے ہمت نہیں ہاری اور تعلیمی سلسلے کو جاری رکھا.
جب مجھے اساتذہ کے امتحان میں کامیابی حاصل ہوئی، اور پڑھانے اسکول پہنچا تو بورڈ پر لکھا گیا تھا “غیر مسلموں کو پڑھانے کا حق اور اجازت نہیں ہے” میں نے خاموشی سے اپنی جدوجہد جاری رکھا. اسی دوران اپنے علاقے کے ایک شخص کو بی اے تک تعلیم دلوائی، اور اسلامیات بھی پڑھائی وہ بعد میں امام مسجد بن گئے.

بحثیت ایک استاد اور سماجی کارکن پاکستان میں غیر مسلموں پر ہونے والے سلوک کو اجاگر کرنے کی کوشش کی، اسی سلسلے میں 2005 میں “پاکستان منیارٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن” کا قیام عمل میں لایا. اس پلیٹ فارم کے ذریعے نصاب میں اقلیتوں کے حوالے سے کچھ شامل کرانے کی جدوجہد کی تا کہ پاکستان کی نئی نسل میں اقلیتوں کے حوالے سے نفرت کے جذبات کم ہوں. یوں ہم دسویں جماعت کی مطالعہ پاکستان میں “پاکستان بنانے میں اقلیتوں کے کردار” کے حوالے سے مضمون شامل کرانے میں کامیاب ہوۓ، جسے میں نے خود باقاعدہ تحقیق کے بعد تحریر کیا.

میں بحثیت معلم یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے نصاب تعلیم میں اب بھی ترامیم کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے. ہمیں اپنے بچوں کے دلوں میں دوسروں کے خلاف نفرت پیدا نہیں کرنی ہے، بلکہ برائی کا مقابلہ اوراس کا خاتمہ اچھے اعمال سے ہی کرنا ہے، اور یقیناً اسلام کے تعلیمات بھی یہی ہیں. ہم نئی نسل کے دلوں میں جتنا نفرت پیدا کریں گے، ایک دن یہی نفرت دیمک کی طرح ہمیں ہی چاٹنا شروع کرے گی.
پاکستان میں اقلیتوں کے حوالے سے آیئن کے آرٹیکل 22 کی سو فیصد خلاف ورزی ہو رہی ہے. جبکہ آیین کے آرٹیکل 20 میں ترامیم کی اشد ضرورت ہے. مگر اس حوالے سے کوئی کام نہیں ہو رہا ہے.
یہ خیالات اور جذبات تھے انجم جیمز پال کے جو “پاکستان منارٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن” کے چیئرمین بھی ہیں. جیمز کو ان کی بے لوث خدمات پر اسلام آباد میں “اعتراف عظمت ایوارڈز” سے نوازا گیا. جس کا انعقاد “ماہنامہ اطراف” نے کیا تھا. جس میں پاکستان بھر سے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والے ہیروز کو ایوارڈز سے نوازا گیا. قائم مقام صدر پاکستان اور چیئرمین سینٹ رضا ربانی سے ایوارڈ وصول کرتے ہوۓ انجم جیمز پال کا حوصلہ اور بھی بلند تھا، وہ پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی، تشدد اور نفرت سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے مزید پرعزم تھے.

انجم جیمز پال پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے علاوہ ان کے کردار کی درست و مثبت تصویر کشی کی کوششیں بھی کر رہے ہیں. ان سب سے بڑھ کر وہ ایک محب وطن پاکستانی ہیں، اور پاکستان کی ترقی کے لیے نہ صرف کردار ادا کر رہے ہیں. بلکہ ان کی کاوشوں کو ہر سطح پر پذیرائی بھی مل رہی ہے.
اس تقریب سے خطاب میں انھوں نے دو اہم واقعات کا تذکرہ کیا. قائم مقام صدر پاکستان اور چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوۓ دونوں واقعات کی فائلیں ان کے حوالے کئے. پہلے واقعے کا ذکر کرتے ہوۓ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی ایک معصوم بچی تعلیم حاصل کرنے گھر سے نکلی، اسے راستے سے اٹھایا گیا، جبری نکاح پڑھا کر اس کی مذہب بھی تبدیل کر لی گئی، وو اب تک بازیاب نہیں ہو سکی ہے. جانے کس حال میں کہاں ہے کچھ معلوم نہیں.

دوسرے واقعے کا ذکر کرتے ہوۓ انجم نے کہا، میرا ایک دوست جس کے تھیسس کو منظور نہیں کیا جارہا ہے، کیوں کہ ان کا تھیسس پاکستان میں اقلیتوں کے حوالے سے ہے. اور یہ ہر حوالے سے تمام شرائط پر بھی پورا اترتا ہے. اس معاملے میں ہر دروازے پر دستک دی ہے، مگر شنوائی نہیں ہو رہی.

اگر دیکھا جائے تو انجم کی یہ تلخ باتیں ہماری معاشرے کی تلخ حقائق کی نشاندہی کر رہی ہیں. کوئی تو بات ہے جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی، عدم برداشت اور نفرت جیسے رویوں کو فروغ مل رہا ہے. کچھ تو ہے جس کی وجہ سے پاکستان بنے چھ دہائیاں گزر چکی ہیں مگر ہم دیگر مذاھب کے ساتھ ساتھ اسلام کے مختلف مسالک والے بھی دل سے ایک دوسروں کو قبول نہیں کر پا رہے. یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے. کیا یہاں بھی کوئی یہود و نصاریٰ کی سازش کار فرما ہے. انجم کی باتیں سنتے ہوۓ میں سوچ رہا تھا کہ ہم ہندوستان اور دیگر ممالک جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں ان پر تھوڑا سا بھی ظلم ہو تو کتنا چیختے ہیں. لیکن جب ایسا کوئی مسلہ اپنے ہی ملک میں سامنے آجائے تو کوئی جوں تک نہیں رینگتی. ہم یہ تو کہتے ہیں کہ اسلام ایک مکمّل ضابطہ حیات ہے، مگر اس کے حقیقی تعلیمات کو ہمیشہ سے پس پشت ڈالا ہوا ہے. ہاں البتہ جہاں کوئی مطلب پوشیدہ ہو وہاں اسلام اور اسلامی تعلیمات ضرور نظر آیئں گے. ہاں تھوڑی دیر کے لیے ہم یہ مان بھی لیتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ اتنا ظلم نہیں ہو رہا جتنا کچھ اور ممالک میں ہو رہا ہے. تو کیا یہ سوچ کر خاموش رہنا چاہئے کہ اقلیتوں پر تھوڑا بہت ظلم ہونے سے کچھ نہیں ہوتا؟ ہمارے پالیسی سازوں، دانشوروں اور دیگر بڑے بڑوں کو معاشرے کے اس بگاڈ کا باقاعدہ علم ہے، اور بظاھر ایسا لگ رہا ہے کہ معاشرے کے اس بگاڈ میں ہی ان کے مفادات وابسطہ ہیں.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s