سیدہ غلام فاطمہ: اسی ہزار جبری مزدوروں کو رہائی دلانے والی پاکستان کی ایک پرعزم اور باہمت خاتون

Posted on Updated on

ممتاز حسین گوہر

“ماہنامہ اطراف” نے آج اعتراف عظمت ایوارڈز کے نام سے پاکستان کے ان مخصوص شخصیات میں ایوارڈز تقسیم کئے جنھوں نے اپنے اپنے شعبوں میں ایسے کار ہائے نمایاں انجام دے ہیں جو ہم سب کے لئے زندگی میں دکھی انسانیت اور معاشرے کے پسے ہوۓ طبقات کے لیے کچھ کرنے کا حوصلہ اور توانائی کا موجب بن سکتے ہیں.قائم مقام صدر اور چیئرمین سینٹ رضا ربانی سے ایوارڈ وصولی کے بعد ان عظیم ہستیوں نے اپنے کاموں و خدمات کا مختصر تذکرہ کیا، یہاں چند شخصیات کا تذکرہ قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے.
55d2dc09b3b5eسیدہ غلام فاطمہ: پاکستان میں بھٹہ مزدوروں اور جبری مشقت کے حوالے سے عملی جدوجہد کر رہی ہیں. ان کی کوششوں سے اب تک اسی ہزار سے زائد مزدور رہائی پا چکے ہیں. سیدہ غلام فاطمہ نے مزدوروں کی معاشی استحصال کے خلاف کام کرنے والا ایشیا کا پہلا ادارہ قائم کیا. یہ ادارہ مزدوروں کے ذمے واجب الادا قرضوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ان کی قانونی، سماجی، طبی اور نفسیاتی معاونت بھی کرتا ہے.
سیدہ غلام فاطمہ نے کہا کہ آج سے چالیس سال پہلے میرے والد نے ایک بزرگ کو روڈ پار کرانے میں مدد کی، روڈ پار کرنے کے بعد والد نے اس بزرگ سے پوچھا کہ اب کس طرف جایئں گے؟ تو انھوں نے جواب دیا “بیٹا میں ایک بھٹہ مزدور ہوں، گھر اور گھر والوں کو جوںپڑی سمیت جلایا گیا ہے، لہذا میں یہی فٹ پاتھ میں سو جاؤنگا”. اس بات کا والد پر بہت اثر ہوا اور اسی وقت سے ہم نے مزدوروں کے حقوق کے لیے کوششیں شروع کیں، اور آج میں اپنی والد کے مشن کو آگے بڑھا رہی ہوں. میرا مشن ہے کہ پاکستان کے تمام مزروں کو بھی انسانی حقوق کے کٹیگری میں لایا جائے پاکستان کے کونے کونے سے جبری مشقت کا مکمل خاتمہ ہو. اور مزدور بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ کم از کم ایک عام انسان جیسی زندگی گزار سکیں.
غلام فاطمہ اپنی اس جدوجہد کو ایک خاردار راستے سے تشبیہ دیتے ہوۓ کہتی ہیں کہ مجھے اس دوران بار بار تشدد، خوف و ہراس اور گولیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا. لیکن کبھی اپنے مقصد پر سمجھوتہ نہیں کیا. ہر لمحے مجھے اس راستے سے ہٹانے والی کوششوں نے مجھے مزید حوصلہ دیا. میرے کام کی حوصلہ افزائی ہو نہ ہو مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ہے، بس میں نے اپنی کوششوں کو جاری رکھنا ہے.
ان کا کہنا ہے کہ غلامی کا بلواسطہ یا بلاواسطہ تعلق معاوضے سے ہے. پاکستان کے سامراجی، وڈیرانہ، جاگیردارانہ اور مزدور کش نظام میں اس حوالے سے مزدوروں کا انتہائی درجے تک استحصال ہوتا رہا ہے. اور اس استحصال کی خبریں اسی علاقے میں سامنے آجاتی ہیں اور وہیں دفن ہو کر رہ جاتی ہیں.
لاہور سے تعلق رکھنے والی غلام فاطمہ کو ان کی بے لوث خدمات کے اعتراف میں کئی ملکی عالمی ایوارڈز مل چکے ہیں. وہ حال ہی میں نیویارک میں گلوبل سٹیزن ایوارڈ بھی وصول کر چکی ہیں. وہ بھٹہ مزدوروں اور جبری مشقت پر کام کرنی والی پاکستان کی پہلی خاتون ہیں.

پروفیسر انجم جیمز پال کی کہانی

Posted on Updated on

ممتاز حسین گوہر

 

مجھے چھٹی جماعت میں اسکول کے نل سے پانی پینے نہیں دیا گیا، کیونکہ میں مسلمان نہیں تھا. جب فرسٹ ایئر میں کالج میں داخلہ لیا تو کمرہ جماعت میں بیٹھنے نہیں دیا گیا، اور کہا کہ اس کلاس میں صرف مسلمان بچے ہی بیٹھ سکتے ہیں. میں نے ہمت نہیں ہاری اور تعلیمی سلسلے کو جاری رکھا.
جب مجھے اساتذہ کے امتحان میں کامیابی حاصل ہوئی، اور پڑھانے اسکول پہنچا تو بورڈ پر لکھا گیا تھا “غیر مسلموں کو پڑھانے کا حق اور اجازت نہیں ہے” میں نے خاموشی سے اپنی جدوجہد جاری رکھا. اسی دوران اپنے علاقے کے ایک شخص کو بی اے تک تعلیم دلوائی، اور اسلامیات بھی پڑھائی وہ بعد میں امام مسجد بن گئے.

بحثیت ایک استاد اور سماجی کارکن پاکستان میں غیر مسلموں پر ہونے والے سلوک کو اجاگر کرنے کی کوشش کی، اسی سلسلے میں 2005 میں “پاکستان منیارٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن” کا قیام عمل میں لایا. اس پلیٹ فارم کے ذریعے نصاب میں اقلیتوں کے حوالے سے کچھ شامل کرانے کی جدوجہد کی تا کہ پاکستان کی نئی نسل میں اقلیتوں کے حوالے سے نفرت کے جذبات کم ہوں. یوں ہم دسویں جماعت کی مطالعہ پاکستان میں “پاکستان بنانے میں اقلیتوں کے کردار” کے حوالے سے مضمون شامل کرانے میں کامیاب ہوۓ، جسے میں نے خود باقاعدہ تحقیق کے بعد تحریر کیا.

میں بحثیت معلم یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے نصاب تعلیم میں اب بھی ترامیم کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے. ہمیں اپنے بچوں کے دلوں میں دوسروں کے خلاف نفرت پیدا نہیں کرنی ہے، بلکہ برائی کا مقابلہ اوراس کا خاتمہ اچھے اعمال سے ہی کرنا ہے، اور یقیناً اسلام کے تعلیمات بھی یہی ہیں. ہم نئی نسل کے دلوں میں جتنا نفرت پیدا کریں گے، ایک دن یہی نفرت دیمک کی طرح ہمیں ہی چاٹنا شروع کرے گی.
پاکستان میں اقلیتوں کے حوالے سے آیئن کے آرٹیکل 22 کی سو فیصد خلاف ورزی ہو رہی ہے. جبکہ آیین کے آرٹیکل 20 میں ترامیم کی اشد ضرورت ہے. مگر اس حوالے سے کوئی کام نہیں ہو رہا ہے.
یہ خیالات اور جذبات تھے انجم جیمز پال کے جو “پاکستان منارٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن” کے چیئرمین بھی ہیں. جیمز کو ان کی بے لوث خدمات پر اسلام آباد میں “اعتراف عظمت ایوارڈز” سے نوازا گیا. جس کا انعقاد “ماہنامہ اطراف” نے کیا تھا. جس میں پاکستان بھر سے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والے ہیروز کو ایوارڈز سے نوازا گیا. قائم مقام صدر پاکستان اور چیئرمین سینٹ رضا ربانی سے ایوارڈ وصول کرتے ہوۓ انجم جیمز پال کا حوصلہ اور بھی بلند تھا، وہ پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی، تشدد اور نفرت سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے مزید پرعزم تھے.

انجم جیمز پال پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے علاوہ ان کے کردار کی درست و مثبت تصویر کشی کی کوششیں بھی کر رہے ہیں. ان سب سے بڑھ کر وہ ایک محب وطن پاکستانی ہیں، اور پاکستان کی ترقی کے لیے نہ صرف کردار ادا کر رہے ہیں. بلکہ ان کی کاوشوں کو ہر سطح پر پذیرائی بھی مل رہی ہے.
اس تقریب سے خطاب میں انھوں نے دو اہم واقعات کا تذکرہ کیا. قائم مقام صدر پاکستان اور چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوۓ دونوں واقعات کی فائلیں ان کے حوالے کئے. پہلے واقعے کا ذکر کرتے ہوۓ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی ایک معصوم بچی تعلیم حاصل کرنے گھر سے نکلی، اسے راستے سے اٹھایا گیا، جبری نکاح پڑھا کر اس کی مذہب بھی تبدیل کر لی گئی، وو اب تک بازیاب نہیں ہو سکی ہے. جانے کس حال میں کہاں ہے کچھ معلوم نہیں.

دوسرے واقعے کا ذکر کرتے ہوۓ انجم نے کہا، میرا ایک دوست جس کے تھیسس کو منظور نہیں کیا جارہا ہے، کیوں کہ ان کا تھیسس پاکستان میں اقلیتوں کے حوالے سے ہے. اور یہ ہر حوالے سے تمام شرائط پر بھی پورا اترتا ہے. اس معاملے میں ہر دروازے پر دستک دی ہے، مگر شنوائی نہیں ہو رہی.

اگر دیکھا جائے تو انجم کی یہ تلخ باتیں ہماری معاشرے کی تلخ حقائق کی نشاندہی کر رہی ہیں. کوئی تو بات ہے جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی، عدم برداشت اور نفرت جیسے رویوں کو فروغ مل رہا ہے. کچھ تو ہے جس کی وجہ سے پاکستان بنے چھ دہائیاں گزر چکی ہیں مگر ہم دیگر مذاھب کے ساتھ ساتھ اسلام کے مختلف مسالک والے بھی دل سے ایک دوسروں کو قبول نہیں کر پا رہے. یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے. کیا یہاں بھی کوئی یہود و نصاریٰ کی سازش کار فرما ہے. انجم کی باتیں سنتے ہوۓ میں سوچ رہا تھا کہ ہم ہندوستان اور دیگر ممالک جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں ان پر تھوڑا سا بھی ظلم ہو تو کتنا چیختے ہیں. لیکن جب ایسا کوئی مسلہ اپنے ہی ملک میں سامنے آجائے تو کوئی جوں تک نہیں رینگتی. ہم یہ تو کہتے ہیں کہ اسلام ایک مکمّل ضابطہ حیات ہے، مگر اس کے حقیقی تعلیمات کو ہمیشہ سے پس پشت ڈالا ہوا ہے. ہاں البتہ جہاں کوئی مطلب پوشیدہ ہو وہاں اسلام اور اسلامی تعلیمات ضرور نظر آیئں گے. ہاں تھوڑی دیر کے لیے ہم یہ مان بھی لیتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ اتنا ظلم نہیں ہو رہا جتنا کچھ اور ممالک میں ہو رہا ہے. تو کیا یہ سوچ کر خاموش رہنا چاہئے کہ اقلیتوں پر تھوڑا بہت ظلم ہونے سے کچھ نہیں ہوتا؟ ہمارے پالیسی سازوں، دانشوروں اور دیگر بڑے بڑوں کو معاشرے کے اس بگاڈ کا باقاعدہ علم ہے، اور بظاھر ایسا لگ رہا ہے کہ معاشرے کے اس بگاڈ میں ہی ان کے مفادات وابسطہ ہیں.

Posted on

ڈپٹی کمشنر غذر کے نام

ممتاز حسین گوہر 

تبدیلی کبھی بھی یک دم اور زبردستی نہیں آتی. کسی مخصوص علاقے میں ترقی و تبدیلی کے لیے وہاں کے روایات، حالات، اچھائیوں اور برائیوں کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے. ڈی سی غذر نے علاقے میں کئی اہم اقدامات کئے ہیں، جن میں سرکاری ملازمین کی دفاترحاضریوں کو یقینی بنانا، ترقیاتی کاموں کی مانیٹرنگ، بچوں کی اسکول میں داخلوں سمیت دیگر کئی کام شامل ہیں. جسے اکثرعلاقے کے عوام و دیگر طبقوں نے سراہا ہے. مگر رائے منظور صاحب دو اہم عادتوں کی وجہ سے عوام میں پذیرائی حاصل نہیں کر پائے. ان کی پہلی خامی یا عادت ہے، ہر وقت میڈیا میں زندہ رہنے کا شوق، کوئی کام چھوٹا ہو یا بڑا بس اگلے دن اسکی تشہیر ضرور ہو. میڈیا والوں کیلئے اتنا وقت جتنا دیگر طبقوں کے لیے نہیں. دوسری عادت ہے انکی چودراھٹ اور آمرانہ رویہ. وہ چاہتے ہیں کہ ہر بندہ ایسی ہی خصوصیات کا حامل ہو جیسا وہ چاہتے ہیں. اپنے سٹاف اور سرکاری ملازمین کے علاوہ وہ اکثر عام شہریوں پر بھی برسنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں.

کاش وہ ان دو باتوں کو سمجھیں کہ تبدیلی ٹھونسی نہیں جاتی، بلکہ بتدریج لائی جاتی ہے. اور ہر کام کا کریڈٹ لینا اور تشہیر ضروری نہیں ہوتا، اخبارات کی سرخیوں میں زندہ رہنے اور غریب عوام کے دلوں میں زندہ رہنے میں بڑا فرق ہوتا ہے.

ہاں اگر آپ یا کوئی یہ سمجھتا ہے، کہ اسٹاف کام چور ہیں، یہ کچھ سمجھ نہیں سکتے، تو اسکا حل یہ تو نہیں ہے کہ ہر وقت انکے سر پر سوار رہیں. مہمانوں کے سامنے اسٹاف کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اپنایئں. اسٹاف کو انسان نہیں بلکہ اپنے ذاتی نوکر سمجھ لیں کہ جب اور جیسے چاہیں ان سے کام لیں. یہ باتیں اور عادتیں یہاں کی علاقائی روایات کے بھی منافی ہے. کسی ضلعے کے سربراہ ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ آپ وہاں کے عوام کے دلوں کے بھی سربراہ ہے. یہ لوگ محبّت کو سمجھنے والے اور اسکا احترام کرنے والے لوگ ہیں. لیکن محبّت کے نام پر اپنے عزت نفس کو کبھی داؤ پر نہیں لگا سکتے.

جناب منظور حسین صاحب! آپ بہت اچھا کر رہے ہیں، مگر آپ کم از کم اپنی ان دو عادتوں کو بدلیں. آپ کے ہر اچھے کام کا یہاں کے عوام اس سے بڑھ کر داد دینگے. جب کوئی حقیقی تبدیلی والا کام نظر آئے گا، تو یہ لوگ خود آپکو داد دینگے پھر آپکو صحافیوں کی منتیں کرنی پڑینگی، نہ ہی اخبارات کی سرخیوں کی ضرورت پڑے گی.    

مشور مصنف سٹیفن آر کوے کہتے ہیں کہ تبدیلی کا آغاز سب سے پہلے انسان کے اپنے دل اور دماغ سے ہوتا ہے. اور اگر انسان کے دماغ میں خاکہ اور دل میں جزبہ نہ ہو تو وہ ترقی و تبدیلی کو نہیں چھو سکتا. ماشااللہ آپکے پاس بڑی حد تک یہ دونوں چیزیں ہیں مگر آپکا طریقہ عمل غلط ہے. اور اس طریقہ عمل میں اوپر ذکر شدہ دونوں باتیں انتہائی اہم ہے. آپکو ایک بار پھر اپنی ان عادتوں کا ازسر نو جائزہ لینا ہوگا. اکثر جذباتی اقدامات اور فیصلوں کا نتیجہ بڑا مایوس کن ہوتا ہے. آج اگر آپکے اپنے تمام اسٹاف ہی آپ کے خلاف بغاوت پر کھرے ہوتے ہیں، دفتر کو تالے لگاتے ہیں، تو ہم صرف یہ بات نہیں کہہ سکتے کہ سارے کام چور سفارشی اور وقت گزاری کرنے والے ملازم ہیں، کیا لیڈر شپ اور سربراہی یہ ہوتی ہے کہ اپنے گھر والوں کو ہی نہ سنبھال سکھیں اور انھیں ہی بغاوت پر مجبور کر دیں. دنیا میں بڑے حکمران اور افسران گزرے ہیں، جنھوں نے اپنے ما تحتوں کے دل جیت کر تبدیلی لایا ہے، مگر بہت ہی کم انکے اپنے ما تحت انکے خلاف اٹھ کھڑے ہوۓ ہیں.   

Posted on

تو رشتہءدوام ہے اے ماں تجھے سلام

ممتاز حسین گوہر

تیرے ہاتھوں کی کرامت کی تو پھر بات ہی کیا ہے ماں
مجھ کو تو تیرے قدموں کی مٹی بھی شفاءدیتی ہے 
اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق 1967ءسے ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک میں ماوؤں کی عظمت ، ان کی اہمیت و افادیت، ان کے حقوق کو اجاگر کرنے کیلئے ورلڈ مدرز ڈے منایا جاتا ہے1907ءمیں امریکی ریاست فلاڈیفیا میں اینا ایم جاروس نامی سکول ٹیچر نے باقاعدہ طور پر اس دن کو منانے کی رسم کا آغاز کیا۔ ایم جاروس نے اپنی ماں این ماریا ریویس کی یاد میں یہ دن منانے کی تحریک کو قومی سطح پر اجاگر کیا یوں ان کی ماں کی یاد میں باقاعدہ طور پر امریکہ میں اس دن کا آغاز ہوا۔ اس تحریک پر اس وقت کے امریکی صدر وڈ رولسن نے ماوؤں کے احترام میں مئی کے دوسرے اتوار کو قومی دن کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد یہ دن ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے۔ مغربی دنیا میں لوگ اپنی ماوؤں کو تحائف پیش کرتے اور ان سے ملاقات کرتے ہیں۔ یوں سال بھر بوڑھے والدین میں سے ماوؤں کو اس دن کا انتظار رہتا ہے۔ امریکہ سمیت یورپ بھر میں بوڑھے والدین کو گھروں کی بجائے اولڈ ہومز میں رکھا جاتا ہے۔ اس لیے لوگ اس دن اولڈ ہومز میں اپنی ماوؤں سے ملاقات کرتے اور ان کو سرخ پھولوں کے تحائف پیش کرتے ہیں۔
مغرب اور ہماری روایات میں بہت فرق ہے،ہمارے ہاں نہ تو اب تک اولڈ ہومز کا تصور سہی طرح آیا ہے نہ ہی ہم اپنی ماوؤں سے محبت کے لیے کسی مخصوص دن کا انتظار کرتے ہیں،ہاں ہمیں یہ معلوم ہے کہ دنیا کے تمام رشتوں میں ماں کا رشتہ نہ صرف سب سے مقدس اورعظیم ہے بلکہ خلوص محبت اور پےار کا ضامن بھی ہے، بقول شا عر 
جہانِ زیست میں الفت کا آسماں ہے ماں
درونِ دل سے مسرت کی ترجماں ہے ماں
کہے خدا بھی یہ موسی سے اب خیال رکھو
متاعِ رحمتِ یزداں تھی جو کہاں ہے ماں
نظامِ دنیا میں جنت کا اک وسیلہ ہے
تمام لوگوں کی بخشش کا امتحاں ہے ماں
”ماں ” محض ایک لفظ نہیں بلکہ محبتوں کا مجموعہ ہے۔ ”ماں ”کا لفظ سنتے ہی ایک ٹھنڈی چھاﺅں اور ایک تحفظ کا احساس اجاگر ہوتا ہے۔ ایک عظمت کی دیوی اور سب کچھ قربان کردینے والی ہستی کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ ”ماں ” کے لفظ میں مٹھاس ہے۔ انسانی رشتوں میں سب سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی ماںکی ہے۔ ماں خدا کی عطا کردہ نعمتوں میں افضل ترین نعمت ہے۔
تو رشتہءدوام ہے اے ماں تجھے سلام 
یہ دل تمہارے نام ہے اے ماں تجھے سلام 
دنیا میں سب حوالوں سے تو معتبر ہوئی
اونچا ترا مقام ہے اے ماں تجھے سلام 
تیری محبتوں کا کہاں دین دے سکوں 
میرا تو صبح و شام ہے اے ماں تجھے سلام 
تیرے بغیر دل کو کہیں بھی سکوں نہیں 
تو چاہتوں کا جام ہے اے ماں تجھے سلام 
کچھ فائزہ کہوں تو مکرر یہی کہوں 
اے ماں تجھے سلام ہے ، اے ماں تجھے سلام
قرآن حکیم اور دوسرے تمام الہامی صحیفوں میں ”ماں ” کا تقدس سب کی مشترکہ میراث ہے۔ اس دن کو خاص اہمیت دے کر ماں کی عظمت کو سلام کرنے، اس کی دعائیں اور پیارلینے کے لئے وقف کردیا گیا ہے۔ اسلام نے بھی ماںکی عظمت ، وقار اور احترام کا اعتراف کیا ہے ”یعنی ماں کی محبت”، اس کی اطاعت اور خدمت کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا ہے۔محسن انسانیت آخر الزمان 
حضرت محمدﷺ کی دختر خاتون جنت فاطمہ الزہرہ ماں کی حیثیت سے ایک زندہ و جاوید کردار ہیں۔ دنیا کی عظیم ترین ہستی ماں ہے اس کا دوسرا نام جنت ہے اور ماں کے بغیر کائنات نامکمل ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ! لوگوں میں حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ انہوں نے عرض کیا : پھر کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ انہوں نے عرض کیا : پھر کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ انہوں نے عرض کیا : پھر کون ہے؟ فرمایا : پھر تمہارا والد ہے۔
آج کے اس دن ہمیں کوشش یہی کرنی چاہیے کہ اپنی مصروفیت سے کچھ لمحے نکال لیں،اور دنیا کے خوبصورت ترین رشتے ماں کے دربار میں حاضری دیں کچھ وقت اس کے ساتھ گزاریں، جس کے قدموں تلے جنت رکھ دی گی ہے، یہ دن وہ موقع ہوتا ہے جب ہم اپنی ماوؤں کے لیے اپنی محبت اور احترام کا اظہارکریں۔ اور اپنی ماوؤں کو یہ احساس دلا سکیں کہ وہ ہمارے لیے ہمیشہ اہم تھیں اور رہیں گی اور ہم ان سے ہمیشہ محبت کرتے رہیں گے۔
ربِّ جہان نے ماں کو یہ عظمت کمال دی
اس کی دعا پہ آئی مصیب بھی ٹال دی
قرآن میں ماں کے پیار کی اس نے مثال دی
جنت اٹھا کے ماﺅں کے قدموں میں ڈال دی
ایک اور جگہ شاعر فرماتے ہیں،
ماں تیری آغوش میں سونے کی تمنا ہے
برسوں سے ان آنکھوں میں نیند نہیں آئی
کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کے ہاں بے حد خوبصورت لڑکے کا جنم ہوا تو بادشاہ کی ملکہ نے پوری ریاست کے کئی ماں اور بچے کو اپنی حویلی میں بلا کر دعوت کی اور ایک انتہائی بد صورت لڑکے کی ماں کو بلایا اور اپنا حسن بھرا لڑکا سامنے کھڑا کر کے پوچھنے لگا کہ ” سچ سچ بتاؤ کہ ان میں سے کون خوب صورت زیادہ ہے” تو بد صورت لڑکے کی ماں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں اپنی رائے سناوؤں یا دنیا کی؟ تو ملکہ نے کہا بے شک تم اپنی رائے بتاو تو بدصورت لڑکے کی ماں نے اپنی بد صورت لڑکے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے نظر میں دنیا کا سب سے خوبصورت لڑکا یہی ہے۔ تو ملکہ کو بہت غصہ آیا مگر صبر و تحمل سے سوال پوچھا کہ ” تم جھوٹ کیوں بول رہی ہو ” تو اس خاتون نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ” ملکہ حضور! آپ کے نظر میں آ پکا بیٹا بہت خوبصورت ویسے ہی میرے نظر میں میرا لڑکا بہت خوبصورت ہے۔
یہ حقیقت کہ ہر ماں کو اسکی اولاد سب زیادہ خوبصورت اور عزیز ہوتی ہے، یہ ایک ماں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اولاد کی بہترین اور سائنسی بنیادوں پر تربیت کرے. تاکہ اسکا بچہ معاشرے کا ایک مفید اور مثبت شہری بن سکے، اسی حوالے سے ہی ایک مشور فلاسفر نے کہا کہ”آپ مجھے اچھی مائےں دو میں آپکو ایک اچھی قوم دونگا۔شیخ سعدی کا مشہور قول ہے کہ “جو شخص بچپن میں ادب کرنا نہیں سیکھتا، بڑی عمر میں بھی اس سے بھلائی کی امید نہیں” لہذاءاولاد کی بہتر تربیت اور ادب زندگی سکھانا والدین کی ذمداری ہے۔
شاعر نے ان اشعار میں “ماں” کی عظمت کی عکاسی کرنے کی خوب کوشش کی ہے۔
موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں 
تب کہی جا کر رضا تھوڑا سکون پاتی ہے ماں 
فکر میں بچوں کی کچھ اس طرح گھل جاتی ہے ماں 
نوجواں ہوتے ہوئے بوڑھی نظر آتی ہے ماں 
روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھیے 
چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں 
ہڈیوں کا رس پلا کر اپنے دل کے چین کو 
کتنی ہی راتوں میں خالی پیٹ سو جاتی ہے ماں 
جانے کتنی برف سی راتوں میں ایسا بھی ہوا 
بچہ تو چھاتی پے ہے گیلے میں سو جاتی ہے ماں 
جب کھلونے کو مچلتا ہے کوئی غربت کا پھول 
آنسوں کے ساز پر بچے کو بہلاتی ہے ماں 
فکر کے شمشان میں آخر چتاوؤں کی طرح 
جیسے سوکھی لکڑیاں، اس طرح جل جاتی ہے ماں 
اپنے آنچل سے گلابی آنسوں کو پونچھ کر 
دیر تک غربت پے اپنی اشک برساتی ہے ماں 
سامنے بچوں کے خوش رہتی ہے ہر ایک حال میں 
رات کیوں چھپ چھپ کے لیکن اشک برساتی ہے ماں 
کب ضرورت ہو میری بچے کو، اتنا سوچ کر 
جاگتی رہتی ہیں آنکھیں اور سو جاتی ہے ماں 
مانگتی ہی کچھ نہیں اپنے لیے اللہ سے 
اپنے بچوں کے لیے دامن کو پھیلاتی ہے ماں

Posted on Updated on

واقعات رپورٹ نہ ہونے اور سزائیں نہ ہونے کی وجہ سے بچوں پر جنسی تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے — creative commons

واقعات رپورٹ نہ ہونے اور سزائیں نہ ہونے کی وجہ سے بچوں پر جنسی تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے — creative commons

اقوام متحدہ کی تعریف کے مطابق 18 سال کی عمر تک کے تمام کم سن افراد کو بچہ کہا جاتا ہے۔ اس حساب سے پاکستان کی 40 فیصد سے زیادہ آبادی بچوں پر مشتمل ہے۔ پاکستان کے یہی بچے جنہوں نے آگے چل کر ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے، اس وقت بہت سارے مسائل سے نبردآزما ہیں، مگر ان سارے مسائل میں پاکستان میں بچوں پر بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کے واقعات سب سے زیادہ باعث تشویش ہیں۔

کچھ دن پہلے پاکستان میں بچوں پر ہونے والے جنسی تشدد کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ‘ساحل پاکستان’ نے گذشتہ سال کی تحقیقاتی رپورٹ “ظالم اعداد 2014” کے نام سے پیش کی جس کے مطابق گذشتہ سال جنوری تا دسمبر بچوں پر جنسی تشدد کے کل 3508 واقعات رپورٹ ہوئے (روزانہ اوسطاً 10 بچے)۔ جبکہ سال 2013 کی نسبت 2014 میں ان واقعات میں17 فیصد اضافہ ہوا۔

یہ اعداد و شمار ساحل نے ‘ملک کے 70 قومی، علاقائی، اور مقامی اخبارات کی باریک بینی سے مانیٹرنگ کے بعد اخذ کیے ہیں، سال 2014 میں بچوں پر جنسی تشدد کے 8 واقعات ساحل پاکستان کو براہ راست بھی رپورٹ کئے گئے۔’

رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ ’11 سال سے 15 سال کے بچے سب سے زیادہ جنسی تشدد کا شکار ہوئے۔ لڑکیوں پر تشدد کی شرح لڑکوں کی نسبت زیادہ رہی، جہاں 2141 لڑکیاں اور 1367 لڑکے جنسی تشدد کا شکار بنے۔ کل 3508 واقعات میں سے 1831 واقعات اغوا، 614 واقعات ریپ، 206 گینگ ریپ،284 واقعات لڑکوں کے ساتھ جنسی تشدد اور 103 واقعات کم عمری میں شادیوں کے سامنے آئے۔’

اگر ان واقعات کا بغور جائزہ لیا جائے، تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ملوث افراد میں زیادہ تر وہ تھے، جو کہ بچوں سے واقفیت رکھتے تھے۔ اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ قریبی تعلقات رکھنے والے افراد ہی بچوں کا سب سے زیادہ استحصال کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مجرمان میں ‘1246 اجنبی افراد، 60 رشتہ دار، 66 پڑوسی، مولوی، اساتذہ اور پولیس والے بھی بچوں پر جنسی تشدد میں ملوث پائے گئے۔ 33 فیصد واقعات دیہی جبکہ67 فیصد شہری علاقوں سے سامنے آئے۔’

‘2597 واقعات پولیس کے پاس درج ہوئے، 28 واقعات کو پولیس نے درج کرنے سے انکار کیا، 262 پولیس کے پاس درج نہ ہوسکے، جبکہ621 واقعات کے انداراج کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔’

پاکستان میں بچوں پر جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات نہ صرف پریشان کن ہیں بلکہ سب کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہیں۔ پاکستان کا میڈیا اور اکثر پڑھے لکھے لوگ ہندوستان میں خواتین کے ساتھ ہونے والے ریپ کے واقعات پر کھل کر تبصرے اور ہندوستان کی مذمت کرتے ہیں، مگر وطنِ عزیز کے پھول جیسے بچوں کے ساتھ ہونے والے اس طرح کے گھناؤنے واقعات پر کوئی آواز نہیں اٹھاتے۔

ذرا ایک لمحے کو خود سوچیے۔ کیا پاکستان میں ہونے والے ایسے واقعات اکا دکا ہیں؟ جو واقعات رپورٹ نہیں ہو پاتے، یا جن کے بارے میں کسی سرکاری و غیر سرکاری ادارے کو معلومات دستیاب نہیں ہیں، ان کو ایک طرف رکھیے۔ صرف رپورٹ ہونے والے واقعات ہی ڈھائی ہزار سے زیادہ ہیں۔ کیا یہ کوئی اتنی چھوٹی تعداد ہے جسے کوئی اچھوتا واقعہ قرار دے کر اس سے چشم پوشی کر لی جائے؟

بچوں کا تحفظ اور ان کو بہتر مستقبل کی فراہمی میں والدین، خاندان، اساتذہ، اہل علاقہ، حکومت اور ان سے منسلک تمام افراد اور اداروں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ مگر ان کے ساتھ ساتھ بچوں کے تحفظ کے حوالے سے حکومتی پالیسیاں اور ان پر عملدرآمد زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ مگر انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ اب تک ہمارے یہاں اس حوالے سے نہ کوئی واضح پالیسیاں ہیں، اور نہ ہی پہلے سے موجود قوانین پر ان کی اصل روح کے مطابق عمل ہورہا ہے۔ ایسے گھناؤنے واقعات میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا نہ ملنا بھی ان واقعات میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔

ﺑﭼﮯ ﭘﺮ ﺟﻧﺳﯽ ﺗﺷدد ﮐو ﺳﺎﻣﻧﮯ آﻧﺎ ﭼﺎﮨﯾﮯ، ایسے واقعے کو چھپانا مزید نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ﺑﭼﮯ ﮐو ﻣﺎﮨﺮاﻧہ ﻣدد ﻣﻠﻧﯽ ﭼﺎﮨﯾﮯ ورنہ ﺟﻧﺳﯽ ﺗﺷدد ﮐﯽ وﺟہ ﺳﮯ ﮨوﻧﮯ واﻻ ﺟذﺑﺎﺗﯽ اور ﻧﻔﺳﯾﺎﺗﯽ ﻧﻘﺻﺎن آﮔﮯ ﭼل ﮐﺮنہ صرف بچے کے لیے بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ہر صورت متاثرہ بچے کو انصاف دلانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ایسے واقعے کے پیش آنے میں بچے کا قصور نہیں ہوتا۔

لیکن بچے اپنے استحصال کے بارے میں آواز جلد نہیں اٹھا پاتے، کیونکہ انہیں مجرم کی جانب سے زبان کھولنے پر جان کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اگر آپ کا بچہ خاموش، الگ تھلگ، یا اداس رہتا ہے تو اسے کرید کر پوچھیں۔ بچوں کو یہ بات کھل کر سکھانی چاہیے کہ انہیں اپنے گھر والوں کے علاوہ ہر کسی شخص سے ایک فاصلہ رکھنا چاہیے، خود کو چھونے نہیں دینا چاہیے، اور کسی بھی غلط حرکت کی صورت میں فوراً گھر والوں کو مطلع کرنا چاہیے۔

خدانخواستہ بچے کے ساتھ اگر جنسی تشدد کا واقعہ پیش اتا ہے تو فوراً تمام شواہد اکھٹے کر کے قریبی سرکاری ہسپتال سے بچے کا طبی معائنہ کروانا چاہیے، اور چوبیس گھنٹے کے اندر اندر ایف آئی آر کا اندراج کرانا چاہیے۔ اس عمل سے ایک مجرم کو اس کے جرم کی سزا مل سکتی ہے اور آئندہ وہ ایسے گھناؤنی حرکت سے باز رہ سکتا ہے اور اس سب سے بچے کے اندر موجود انتقام کا جذبہ بھی بڑی حد تک کم ہو سکتا ہے۔

یہاں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے کیس منظرِ عام پر تو آ رہے ہیں لیکن سزاؤں کی شرح اب بھی بہت کم ہے جس کی وجہ سے گذشتہ 5 سے 6 سالوں کے اندر ایسے واقعات میں 100 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

جنسی تشدد صرف غریب اور دیہی علاقوں کا مسئلہ نہیں ہے: بچہ چاہے امیروں کا ہو یا متوسط طبقے کا، شہری ہو یا دیہی علاقے کا، والدین اور گھر والوں کی غفلت سے تشدد کا شکار ہوسکتا ہے۔ جنسی تشدد کا شکار صرف لڑکیاں ہی نہیں لڑکے بھی ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے والدین کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے اور انہیں بچوں کی حفاظت کو ہر صورت ممکن بنانا ضروری ہے۔ معاشرے کے ہر فرد میں احترام انسانیت کا جذبہ ہونا بھی بہت ضروری ہے۔

اسلام میں بھی بچوں کے تحفظ اور شفقت کے حوالے سے واضح پیغام دیا گیا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچوں سے بہت محبت فرماتے تھے۔ ان کا ارشاد ہے کہ:

“جنت میں ایک گھر ہے جسے دارالفرح (خوشیوں کا گھر) کہا جاتا ہے اس میں وہ لوگ داخل ہوں گے جو اپنے بچوں کو خوش رکھتے ہیں۔‘‘

ایک اور موقع پر فرمایا:

”وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو چھوٹوں کے ساتھ شفقت اور بڑوں کے ساتھ عزت و اکرام کا معاملہ نہ کرتا ہو۔“

دنیا اس وقت ستاروں اور کہکشاؤں سے آگے نکل رہی ہے مگر اس ایک رپورٹ کے کچھ حقائق ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ پاکستان میں جس رفتار سے بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، اس شرح میں کمی لانے اور ایسے گھناؤنے واقعات میں ملوث تمام افراد کو سخت سے سخت سزائیں دلانے کے لیے پہلے سے موجود قوانین پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے۔ اور بچوں پر تحفظ کے حوالے سے جو بل ابھی مختلف مراحل میں ہیں انہیں فوری قانونی شکل دینا ہوگا۔

دنیا کی سب ہی قوموں کا مستقبل اور قیمتی سرمایہ “بچے‘‘ ہوا کرتے ہیں۔ جب تک بچوں کو ایک محفوظ اور خوشحال آج نہیں مل سکتا تب تک ہم کسی بھی طرح ایک خوشحال اور محفوظ کل کی توقع نہیں کر سکتے۔

Mamtaz Hussain Gohar

بلاگر فری لانس جرنلسٹ ہیں۔ مختلف سماجی اور سیاسی مسائل پر لکھتے ہیں اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرتے ہیں۔

انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں: mhgohar@

Originally published at:

http://www.dawnnews.tv/news/1019381/

Posted on

اگر طلبہ اخلاقی گراوٹ اور معاشرتی برائیوں کا شکار ہوتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارا معیار تعلیم گرتا جا رہا ہے۔ — اے پی

اگر طلبہ اخلاقی گراوٹ اور معاشرتی برائیوں کا شکار ہوتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارا معیار تعلیم گرتا جا رہا ہے۔ — اے پی

پاکستانی اراکینِ پارلیمنٹ کی ڈگریاں جب پے درپے جعلی ثابت ہونے لگیں، اور انہیں نااہل قرار دیا جانے لگا، تو سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا تھا کہ “ڈگری ڈگری ہوتی ہے، چاہے اصلی ہو یا جعلی” اور اپنے مؤقف کے حق میں آخر تک دلائل بھی دیتے رہے۔ سابق وزیرِ اعلیٰ کی اسی بات کے حساب سے اگر ہم پاکستان میں نظامِ تعلیم کی حقیقت کو دیکھیں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ “شکر ہے تعلیم تو ہے، چاہے معیاری ہو یا غیر معیاری۔”

من حیث القوم ہم اب تک تعلیم کی حقیقت کو سمجھنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ہمیں شروع دن سے ہی تعلیم برائے ملازمت کا جو درس دیا گیا ہے، ہم کسی صورت بھی اس سے باہر نکل نہیں پا رہے۔ ہم میں سے اکثر کا خیال اب تک یہی ہے کہ اگر تھوڑا بہت پڑھ لیا ہے اور نوکری (چاہے قانونی یا غیر قانونی طریقے سے) حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں تو بس یہ ہماری کامیابی ہے.

پڑھیے: کیا تعلیم کا مقصد صرف نوکری ہے؟

پاکستان میں غریبوں کی پہنچ میں معیاری تعلیم تو کیا آئے گی، تعلیم بھی روز اول سے ہی غریب لوگوں کی دسترس سے باہر ہے۔ ہمارے ملک میں اب بھی پچپن لاکھ بچے ایسے ہیں جو اسکول نہیں جاتے، جب کہ کچھ سال پہلے یہ تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ تھی۔

پاکستان کی زیادہ تر آبادی اب بھی دیہاتوں میں ہی رہتی ہے، مگر پاکستان کے دیہی علاقوں کی شرحِ خواندگی، تعلیمی سہولیات، معیارِ تعلیم، اسکولوں میں داخلے کی شرح، اساتذہ کی تربیت و تعلیمی قابلیت نہ صرف مایوس کن ہے، بلکہ انتہائی خطرناک بھی ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے اپریل 2015 میں جاری ہونے والے اپنی سالانہ رپورٹ میں ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کی ہے، کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو “2015 تک تعلیم سب کے لیے” کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان میں گھوسٹ اسکولوں اور اساتذہ کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔ صوبہ سندھ میں گھوسٹ اسکولوں کی تعداد 6480 اور صوبہ بلوچستان میں یہ تعداد 5000 بتائی گئی ہے۔ جب کہ ان گھوسٹ یعنی وجود نہ رکھنے والے اسکولوں سے ہزاروں گھوسٹ اساتذہ باقاعدہ تنخواہیں بھی لے رہے ہیں، اور بہت سارے ایسے بھی ہیں جو کئی سال پہلے وفات پا چکے ہیں۔ یہی وجہ ہی کہ 2010 میں پاکستان کے بدعنوان ترین شعبوں میں محکمہ تعلیم کا نمبر چوتھے نمبر پر تھا۔

یونیسکو کی حالیہ رپورٹ ہمارے حکمرانوں کی اور ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، لیکن یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ کسی کی آنکھیں کھلیں گی بھی یا نہیں۔ ہم اپنی نئی نسل کے ساتھ تعلیم اور معیاری تعلیم کے نام پر کیا گھناؤنا کھیل کھیل رہے ہیں، اس کے نتائج آنے والے وقتوں میں بہت شدت سے سامنے آئیں گے۔

2001 میں جب سینیگال کے دارلحکومت ڈاکار میں دنیا کے 164 ممالک نے 2015 تک تمام بچوں کو اسکول میں داخل کروانے کے اعلامیے پر دستخط کیے تو پاکستان بھی ان ممالک میں شامل تھا، پر یونیسکو کی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کے اس حوالے سے کردار پر مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے۔

پاکستان کے تعلیمی اداروں میں نظامِ تعلیم بھی دوہرا ہے، جس کی وجہ سے طبقاتی فرق ختم ہونے کے بجائے اگر بڑھ نہیں رہا، تو کم بھی نہیں ہو رہا۔ امیروں کے لیے الگ معیار کی تعلیم ہے، تو غریبوں کے لیے الگ، شہروں میں رہنے والے بچوں کے لیے الگ، دیہاتوں میں رہنے والے بچوں کے لیے الگ، سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے لیے الگ، اور پرائیوٹ اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے لیے الگ۔

بدعنوان ترین محکموں میں ایک محکمہ تعلیم ہر وقت سیاسی حکومتوں کے زیر عتاب رہتا ہے، اور ہر آنے والے حکمران اپنے دور حکومت میں سیاسی، خاندانی، مذہبی، اور دیگر بنیادوں پر ہزاروں من پسند نا اہل افراد کو اساتذہ کی پوسٹوں پر تعینات کرتے ہیں۔ اب جو اساتذہ صرف رشتہ داریوں اور رشوتوں کی بنیاد پر بھرتی کیے جائیں، تو کیا ان سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ بچوں کو پڑھا سکیں گے؟ نتیجتاً ملک میں معیار تعلیم بڑھنے کے بجائے اس کا جنازہ نکل رہا ہے۔

جانیے: کیا تعلیم جمہوری حکومت کی ترجیحات میں ہے؟

جو حکمران خود جعلی ڈگریاں لے کر اسمبلیوں میں پہنچے ہوں، ان سے بھلا یہ توقع رکھی بھی کیسے جا سکتی ہے کہ وہ معیارِ تعلیم بڑھانے اور میرِٹ پر اساتذہ کی بھرتیوں کے لیے کام کریں۔

دنیا میں تعلیم کے شعبے کو ہمیشہ سب سے پہلے اور سرفہرست رکھا جاتا ہے اور ہر سال اس کے لیے مختص بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ بھی کیا جاتا ہے، مگر سال 15-2014 کے بجٹ میں گذشتہ سال کے مقابلے میں کٹوتی یہ بات سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ ہم تعلیم کو کتنی ترجیح دیتے ہیں۔ اسی حوالے سے ایک چینی کہاوت ہے، کہ اگر ایک سال کی منصوبہ بندی کرنی ہے تو فصلیں اگاؤ۔ اگر ایک سو سال کی منصوبہ بندی کرنی ہے تو درخت اُگاؤ اور اگر آئندہ ایک ہزار سال کی منصوبہ بندی کرنی ہے تو تعلیم پر سرمایہ لگاؤ۔ مگر افسوس صد افسوس ہم آئندہ پانچ سالوں کی بھی بہتر انداز میں منصوبہ بندی نہیں کر پاتے۔

ایک دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ لوگ ڈگریاں بھی لے رہے ہیں، اور سولہ سولہ جماعتیں بھی آسانی پاس کر جاتے ہیں، مگر پھر بھی وہ نوکریوں اور روزگار کی خاطر مارے مارے پھرتے ہیں۔ تو دوسرے پہلوؤں، مثلاً صنعتوں کی کمی وغیرہ کے ساتھ ساتھ اس پہلو پر بھی ضرور غور کرنا چاہیے کہ اگر ہمارے نظام تعلیم کے مقاصد پورے نہیں ہو پا رہے، تو کہیں اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہمارے نظام میں کوئی گڑبڑ ہے؟

معیارِ تعلیم کا ایک نکتہ کردار سازی ہوتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ طلبہ کی سیرت اور ان کی روزمرہ زندگی میں کیا مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اگر یہی طلبہ اخلاقی گراوٹ اور معاشرتی برائیوں کا شکار ہوتے ہیں، تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہم معیار تعلیم میں آگے جانے کے بجائے پیچھے جارہے ہیں۔

تعلیمی معیار کو بڑھانے کے لیے میرٹ پر اساتذہ کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی بہتر تربیت بھی ضروری ہے تاکہ وہ بدلتے حالات کے مطابق طلبہ کی تربیت کر سکیں۔ مگر ماضی میں ایسا نہیں ہو سکا ہے جس کا خمیازہ آج ہم بھگت رہے ہیں۔ اور اگر یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہا تو ہمارا مستقبل بھی ایسا ہی ہوگا جیسا کہ آج ہمارا حال ہے۔

ہمارے معیار تعلیم کے زوال کے پیچھے کئی وجوہات پوشیدہ ہیں، مگر یہ بات مسلمہ ہے کہ ہم اس کی ذمہ داری صرف حکومت یا اساتذہ پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ اس کی بہتری کے لیے والدین، سول سوسائٹی، اور حکمرانوں سمیت معاشرے کے تمام ذمہ دار افراد کا فرض ہے۔ برائی کو معاشرے سے ختم کرنا ہو یا ایک پھر ایک انصاف پر مبنی مثبت معاشرے کا قیام، دونوں کے لیے معاشرے کے ان تمام اکائیوں کی طرف سے محنت شرط ہے۔

بلاگر فری لانس جرنلسٹ ہیں۔ مختلف سماجی اور سیاسی مسائل پر لکھتے ہیں اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرتے ہیں۔

انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں: mhgohar@

Originally published at:

http://www.dawnnews.tv/news/1020292/25apr2015-girta-mayaar-e-taleem-mamtaz-hussain-gohar-bm

گلگت بلتستان حکومت….شرم تم کو مگر نہیں آتی

Posted on Updated on

ممتاز حسین گوہر

ایک بار پھر شندور میلے کا بائیکاٹ،وہ بھی صرف اور صرف عوام کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے
اگر شندور آپکا ہے، تو خود بائیکاٹ کر کے دوسروں کو اپنی سرزمین پر آکر کھیلنے کا موقع کیوں دے رہے ہو؟؟
اگر بائیکاٹ کر ہی دیا ہے تو شندور میں متبادل کسی تاریخ میں جی بی سطح پر ایسے ہی میلے کے انعقاد کیوں نہیں کر رہے؟؟
پہلے بھی بائیکاٹ کیا، نتیجہ تو صفر ہی تھا، چترال والے آئے، کھیلے، چلے گئے،آپ صرف دیکھتے ہی تو رہے تھے۔۔۔
اگر شندورواقعی ٹیرو اور لاسپور کے بجائے صوبائی مسئلہ ہے،تو یہ آپ کوشندورمیلے سے صرف چند روز قبل ہی یاد کیوں آتا ہے؟
گلگت بلتستان چترال سمیت ملکی وغیرملکی سیاحوں اور دونوں علاقوں کے عوام کواس طرح کی سیاحتی میلے سے کیونکردوررکھا جا رہا ہے؟
آپکی برائے نام باونڈری کمیشن کہاں مرچکی ہے؟؟ اسکی اب تک کی کارکردگی کہاں ہے؟ سامنے کیوں نہیں لا رہے؟؟
آپ ہر بار بائیکاٹ کر کے عوام کے جذبات خرید نے کی کوشش کروگے، تو کیا شندور پرآپکا قبضہ یا دعوی مضبوط ہوگا؟؟
صوبائی حکومت! اگر ٹھوڑی بھی شرم ہے، تو اس شرم کے واسطے تھوڑا شرم کرو، اور عوام کا سر شرم سے مزید مت جھکاو… خدا را…خدا را