سبسڈی تحریک

Posted on

گلگت بلتستان کی تاریخ کے تاریخ سازدھرنے ایک نئی تاریخ رقم کرنے اور کامیابی کے کئی معرکے طے کرنے کے بعدختم ہو گئے۔عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمہ داروں نے اس کامیابی کو پہلی سیڑھی قرار دی ہے،اور آیندہ چارٹر آف ڈیمانڈ کے تمام مطالبات کے ساتھ ساتھ علاقے کے اجتمائی ایشوز پراس سے بھی منظم اور بڑے پیمانے پر جدوجہد کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ گلگت شہر کے تاریخی گھڑی باغ اور سکردو شہر کے یادگار شہداء پر عوامی سمندر اورآپس کے پیارومحبّت کو دیکھ کر اپنی آنکھوں کو یقین نہیں آرہا تھا،گلگت شہر جو ایک ماہ قبل ہی خوف اور وحشت کی علامت تھی، لوگ شام کے بعد گھروں سے باہر نہیں نکل رہے تھے، دکانیں نماز عصرکے ساتھ ہی بند ہو جاتی تھی، لوگ گھروں میں اکثر شام کے بعد محصور ہو جاتے تھے، حکومت نے یہاں امن کے لیے تمام حربے اور فارمولے بھی استعمال میں لائے، تمام سیکورٹی ایجنسیز کو بھی بلایا، انسداد دہشت گردی کے تحت مقدمات بھی درج کروائے،ترقیاتی فنڈ امن وآمان کی خراب صورت حال پر صرف ہوتا رہا، علاقے کی ترقی رکتی چلی گئی، مقامی اور غیر مقامیوں کے ساتھ ساتھ غیرملکیوں کو بھی ناحق قتل کیا گیا، سیاحت مکمل تباہ ہوگی، ہوٹل مالکان دیوالیہ ہوگئے،ملکی و عا لمی سطح پر خطے کا ایک بہت برا امیج ابھر کر سامنے آگیا۔ اس دلخراش صورت حال کے باوجود حکومت دیکھتی رہی، چھے کلومیٹرزکا علاقہ ان کے لیے ایک امتحان بن چکا تھا، جس کاپیپر یہ ہر بارحل کرنے کی کوشش کرتے اور ہر بار بری طرح فیل ہو جاتے تھے،ہر ناخوشگوار واقعے کے بعد بس افسوس اور مذمت کے اخباری بیانات جاری ہوتے تھے۔

Mamtazقصّہ المختصر حکومت اس مسئلے پر مکمل پسپا ہو چکی تھی،کئی عشروں سے مرکزی و صوبائی حکومتیں تماشا بن چکی تھی۔۔۔۔مگر جو کام یہ حکومتیں عشروں میں نہیں کر سکی تھیں، عوام اور عوامی ایکشن کمیٹی نے اس کام کو ایک ماہ سے کم عرصے میں کر کے دکھایا اور ایسے کر کے دکھایا جس پر صرف اندازے اور قیاس اراضیاں ہی کی جاتی تھیں۔۔۔ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز۔۔

بالکل عوامی ایکشن کمیٹی نے نہ صرف تمام مسالک کے لوگوں کو ایک صف پر لا کھڑا کیا بلکہ پورے گلگت بلتستان کے عوام کو ایک ہی لڑی میں پروو دیا،سارے اپنے حقوق کے یک زبان ہو گئے، کچھ نو سرباز،عوام کی ووٹوں سے اقتدار میں جا کرعوام کو ہی بیوقوف سمجھنے والے نادان، اقتدار کے نشے میں بدمست ہاتھیوں کے علاوہ کوئی ایسا بندہ اور شخص سامنے نہیں آیا جواسطرح کی عوامی یکجہتی،پیار محبّت کی مخالفت کرتا،اور ایسے تمام چہرے اب کھل کر عوام کے سامنے بھی آگئے ہیں۔ سبسڈی کی بحالی کے بعد جب گھڑی باغ میں رات کو تقریباً دس بجے اعلان ہورہا تھا، اوراس کے بعد مولانا سلطان رئیس نے جب عوام سے مخاطب ہو کر کہا کہ ان ظالموں، احسان فراموشوں،اور اقتدار کے مزے لوٹنے والوں کو کبھی دوبارہ ووٹ مت دینا مگر معاف ضرور کرنا، مولانا صاحب اپنی بات بار بار دوہرارہے تھے،اسی دوران مجمے میں موجود ایک سفید باریش شخص اونچی آواز میں بولنے لگا، \”ہم نہ ان کو معاف کرینگے نہ ہی دوبارہ ووٹ دینگے.

عوام کے جذبات اور حکمرانوں کے کردار کو دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ عوام کس قدرحکمرانوں سے تنگ ہیں اورحکمران کس طرح عوام سے اپنا منہ چھپائے پھررہے ہیں۔

میں سبسڈی کی بحالی کو عوام اور عوامی ایکشن کمیٹی کی کامیابی نہیں سمجھتا بلکہ اس سے کہیں زیادہ اس بات کو اہم اور مقدم سمجھتا ہوں کہ کس طرح عوام کو متحد کیا گیا،کس طرح گلگت شہر سے نو گو ایریاز ختم کر دیئے گئے، کس طرح گلگت کے بازار رات گئے تک کھل گئے، کس طرح شہر کی رونقیں بحال ہوگئے، کس طرح سیاچن سے لے شندور تک، خنجراب سے لے کر قمری تک،تا نگیر سے لے کر شگرتک کے عوام اپنے حقوق کے لیے متحد ہو گئے۔کس طرح گھڑی باغ کے مقام پر تمام مسالک نے اجتما ئی نمازیں پڑھیں،کس طرح عوام، تاجروں، علماء4 ،ٹرانسپورٹرز و دیگر اداروں و حلقوں نے اس تحریک کا ساتھ دیا، کس طرح ایک دن پہلے تک ایک روپے کی کمی نہ کرنے کا اعلان کرنے والے حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ رسید کر دیا اور بتا دیا کہ ہم حق چھین کے لینا جانتا ہیں،کس طرح سکردو میں ساٹھ ہزار افراد روڈ پر نکل آئے، کس طرح بارہ روز تک عوام اور رہنما روڈ پر رہے اورحوصلہ روز جواں اور تازہ دم رہا،کس طرح تمام مسا لک کے لوگ اور رہنما ایک ساتھ کھاتے پیتے اور نمازیں ادا کرتے رہے،کس طرح حکومت میں موجود تمام وقتی اور بائی چانس رہنما اپنے اپنے بلوں میں چھپ گئے، کس طرح اس تحریک سے نہ کسی مذہبی جماعت کا بو آیا نہ ہی کسی مذہبی جماعت کا،بس صرف ایک ہی خوشبو آیا وہ بھی پیار محبت اور پر امن اور خوشحال گلگت بلتستان کا.

مجھ اس تحریک سے اس سے زیادہ کوئی امیدیں بھی نہیں تھی…میں یہ بات سمجھ سکتا تھا کی اگر گندم کی بوری 2600 تک بھی جاتی تو ہم خریدنے اور کھانے کی ہمت کسی نہ کسی صورت ضرور کرتے مگر ایک باپ،ایک ماں،ایک بہن،ایک بھا ئی اپنے پیاروں کی خون میں لت پت لاش نہ ہی اٹھا سکتے ہیں نہ ہی دیکھنے کی مزید جرات رکھتے ہیں،اگر حکومت گندم کے دانے پرمکمل پابندی بھی لگاتی توکوئی راستہ نکالا جا سکتا تھا، مگر یہاں خوں ناحق کے گرنے کے کے خلاف اور علاقے کی اجتمائی ترقی خوشحالی کے لیے جو پہلی اور مضبوط قدم اٹھائی گئی ہے، یقیناً یہ انتہائی ہی خوش آیند ہے۔.

اس تحریک کے بارہویں روزچند اہم، اور قا بل غور پوائنٹس دوران خطاب مقررین کی طرف سے سامنے سامنے آئے،جوکچھ یوں تھے.

آج کے بعد گلگت میں کوئی بھی شخص قتل ہوا تو اسکی ایف آئی آر کسی سنی یا شیعہ کے خلاف نہیں بلکہ حکومت کے خلاف کا ٹی جائے گی۔

جتنے جھنڈے پاکستان کے دفاتر پر لگے ہیں اس سے کہیں زیادہ جھنڈے ہمارے شہیدوں کے مزاروں پر لگے ہیں، پھر بھی ہماری محبّت پر شک اور اور دیوار سے لگانا حکومت کی بھول اور اسکی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

ہمارے اباؤاجداد نے چھبیس ہزار مربع کلو میٹر کے علاقے کو آزاد کرایا جو اب سمٹ کر اٹھارہ ہزار مربع کلو میٹرتک محدود ہو چکا ہے، دس ہزارکا ہمارا علاقہ کہاں گیا، اس کا جواب عوام کو کون دے گا۔

تمام پاکستانی بشمول مشرقی پاکستان(بنگلادیش)پاکستان میں بائی چانس جبکہ واحد گلگت بلتستان ہے،جو بائی چوائس پاکستان کا حصہ بنی، ہماری قربانیوں کا صلہ ہمیں چھے دہایوں سے محرومیوں کی شکل میں مل رہا ہے۔

ہم پہلی بار مکمل، مسلکی،علاقائی، لسانی ودیگرتعصبات سے بالاتر ہو کر میدان میں اترے ہیں، ہماری کوشش ہوگی کہ ہماری یہ جدوجہدمکمل آئینی و زمینی حقوق کے حصول تک جاری رہے گی۔

برجیس طاہر نے اس خطے کو متنازعہ قرار دیا ہے، اگر متنازعہ ہے تو سبسڈی ختم کیوں کر رہے ہو، اگر جھوٹ بول رہے تو انکے خلاف ایف آئی آر درج کر وا دی جائے۔

اس تحریک میں شرکت کرنے پر اگر سکردو کے ملازمین کو نکالا گیا تو یہ عوامی سمندر سکردو کی طرف لانگ مارچ کرے گا۔

مقررین کی طرف سے ان باتوں کے سامنے آنے اورہزاروں لوگوں کی طرف سے ان باتوں کی تائید اورحمایت بتا رہی تھی،کہ عوام اب باشعور ہو چکے ہیں، سابقہ سازشوں کو سمجھ چکے ہیں، اس گھٹن کے ماحول کو ختم کرنا چاہتے ہیں، دنیا کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں، یقیناً یہ سب ہر کسی کے لئے نیک شگون ہونا چاہیئے۔

میں عوام کے گل ملنے اور اس پائیدار امن کے باضابطہ اعلان کے بعد گلگت بلتستان کو مستقبل قریب میں پوری دنیا نہیں تو کم از کم ایشیا کا ایک پر سکون، پر امن، خوشحال اور مہذب خطہ سمجھتا ہوں،بشرطیکہ یہی جوش و جذبہ عوام اور عوامی لیڈران میں ہمیشہ رہے، مسلکی، لسانی، علاقائی تعصبات کے بجائے علاقے کی اجتمائی مفادات کو مقدم رکھا جائے،بالعموم گلگت بلتستان اور بلخصوص گلگت کی دونوں بڑی مساجد میں نماز جمعہ و دیگر خطبوں میں مذہبی رواداری، بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ پر مزید توجہ دی جائے،آغاراحت حسین اور قاضی نثاراحمد سمیت دیگر اہم رہنما نگر، ہنزہ،چلاس، استور،سکردو،گھا نچھے،غذر،اوردیگرعلاقوں کے دورے کریں،اجتمائی حقوق پر باتیں کی جائیں،اپنے اندر چھپی ہوئی کالی بھیڑوں کو با ہرپھینکے،ایک پرامن اورخوشحال پاکستان کے لیے ایک دوسرے سے پانچ قدم آگے بڑھنے کی کوشش کریں،پوری دنیا کو بتا دیں، ہم ایک قوم تھے ایک قوم ہیں ایک ہی قوم بن کرپیارمحبت سے جی کردکھائیں گے۔

شینافلم ’’پھوروپھوری‘‘ …. چند حقائق

Posted on

ہم مسلمان مغرب کی ترقی سے اکثر اوقات نالاں ہی رہتے ہیں ۔ ہمیں ان کی درجنوں اچھائیاں نظر نہیں آتی بلکہ ایک کمزوری ان درجنوں اچھائیوں پر حاوی نظر آتی ہے۔ آج وہ کام اور وہ تعلیمات جو اسلام نے ہمیں سکھائے تھے وہ عملی طور پر ان کے پاس جبکہ ظاہری طور پر ہمارے پاس موجود ہیں۔ اہلِ مغرب کی ایک روایت جس کا میں ذاتی طور پر معترف ہوں وہ یہ کہ ان کے ہاں فنکار، کھلاڑی یا آرٹسٹ کو وہ مقام دیا جاتا ہے جس کے بارے میں ہم سوچ ہی سکتے ہیں ۔ سب سے زیاد ہ بینک بیلنس ان کا ہی ہوتا ہے اور ہر کوئی اُن کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اکثر لوگوں کی حسرت ہوتی ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ فنکارہ، آرٹسٹ یا کھلاڑی سے ملاقات کر سکیں۔ اُن کی حکومتیں بھی انہیں وہ تمام ضروریات اور سہولیات فراہم کرتی ہیں جن کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔ مگر اس کے برعکس ہمارے یہاںُالٹی گنگا بہتی ہے۔ ہمارے ہاں ہفتے کے سات دن اور سال کے تین سو پینسٹھ دن سیاستدانوں کے تذکرے ہوتے رہتے ہیں۔ جعلی ڈگریاں لیکر یا مشکل سے میڑک انٹر کرنے والے سیاست دان عوام کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ہمارا میڈیا اُن کو ہر وقت سر پر اُٹھاتاہے ۔ ہمارے اینکر پرسنز اِن محدود سوچ کے حامل سیاستدانوں کو آپس میں لڑاکر اپنے میڈیا چینلز کی رینکنگ بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ۔ ہم اپنی نئی نسل کے سامنے کسی فنکار ، آرٹسٹ اور کھلاڑی کی کامیابیوں کے تذکرے کرنے کی بجائے سیاستدانوں کی رشوت ستانی اور کرپشن کی داستانیں سُناکر انتہائی فخر محسوس کرتے ہیں۔

گلگت بلتستان بھی اس حوالے سے دیگر علاقوں سے کسی صورت پیچھے نہیں ہے۔ ہم تین لاکھ روپے رشوت لے کر نئی نسل کا مستقبل داؤ پر لگانے والے سیاستدانوں کو اب بھی جُھک کر سلام کرتے ہیں۔ مگر اپنے آرٹسٹ ، فنکار اور کھلاڑیوں کو داد دینا اور حوصلہ افزائی کرنا تو دور کی بات مگر جب موقع ملے تو اُن پر تنقید اور مذاق بھی اڑاتے رہتے ہیں ۔ گلگت بلتستان میں ضلع غذر کے فنکاروں نے اب تک مخصوص ڈرامے ، فلمیں اور خاکے اپنی مدد آپ کے تحت تخلیق کئے ہیں جن میں درجنوں سٹیج ڈراموں اور خاکوں کے علاوہ اولاد ، وطنئے روگ اور قربانئی مُگر انتہائی مشہور ہوئے ہیں۔ ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ گُزشتہ مہینے ریلیز ہونے والی شینافلم پھوروپھوری نے پورے خطے میں اب تک علاقائی سطح پر بننے والی فلم اور ڈراموں کے کامیابی کے تما م ریکارڈ توڈ ڈالے ہیں۔ اس فلم کے مخصوص مزاحیہ اور سبق آموز ڈائیلاگ ہر زبان زد عام ہیں ۔ چھوٹا ہو یا بڑا ، ہر شخص دوسرے شخص کو فلم پھوروپھوری کے مخصوص ڈائیلاگ ضرور سناتا ہے۔ اس فلم کے ریلیز ہونے کے ساتھ ہی کیبل آپریٹرز کی بھی چاندی ہوگئی ہے۔ جس گھر میں کیبل موجود نہیں تھی وہاں مجبورأ بھی کیبل لگوانا پڑا۔ موبائل فونز کی دکانوں اور سی ڈی فروخت کرنے والے دُکانداروں نے خوب مال کمایا۔ پاکستان کے ہر گھنٹے بدلنے والے حالات یں بھی لوگ خبر نامے کی بجائے پرائم ٹائم میں اب بھی پھوروپھوری ہی دیکھتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں شینا سمجھنے والے تو اپنی جگہ مگر اس زبان سے نابلد لوگ بھی اس فلم اور اس فلم کے تمام کرداروں کی تعریف کئے بناء نہ رہ سکے۔

مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس سب کے باوجود فلم ’’پھوروپھوری‘‘ بنانے ، ترتیب دینے اور اسے ہمارے سامنے پیش کرنے والوں کو کیا ملا ؟ کبھی آپ نے اس بارے میں سوچا ہے۔ یقیناًنہیں سوچا ہوگا۔ تو آئیے میں آپ کو اس حوالے سے بتاتا ہوں کہ اس فلم کو ہمارے سامنے لانے والوں کے ساتھ کیا ہوا ہے۔

فلم ’’پھوروپھوری‘‘ تقریبأ چھ سال کے عرصے میں بنی، اتنے لمبے عرصے کی وجہ انتہائی دلچسپ ہے۔ فلم بنانے کا خیال آیا تو کئی اداروں سے تعاون کی اپیل کی کئی گئی ۔ مالی تعاون تو دُور کی بات کسی ادارے نے اخلاقی تعاون تک نہیں کی۔ اپنی مدد آپ کے تحت بننے والی اس فلم کے بارہ کردار خود ہی مالی معاملات برابر کرتے رہے۔ بڑی محنت کے بعد جب فلم کو آخری شکل دے دی گئی اور ریلیز کرنے کا مرحلہ آیا تو اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر غذر سبطین احمد آڑے ہاتھوں آئے۔ بحیثیت ضلعی انتظامی سربراہ خصوصی مالی و اخلاقی تعاون کرنے کی بجائے کہا کہ جب تک ضلعی انتظامیہ کی طرف سے این او سی نہیں ملتا ہے آپ فلم ریلیز نہیں کرسکتے ہیں۔ اور اسی بہانے چھ مہینے گزار دےئے اور آخر خدا خدا کرکے اجازت مل گئی ۔ پھر فلم کی افتتاح کے لئے خود اور مہمانوں کو لانے کا وعدہ کیا اور چار ہزار کرسیاں اپنی مدد آپ کے تحت لگوائی گئیں مگر آخر میں ڈی سی صاحب خود آئے نہ مہمانوں کو لے آئے ۔’’ غضب کیا جو تیرے وعدے پہ اعتبار کیا‘‘۔

محترمہ سعدیہ دانش جسکے پاس سیاحت و ثقافت کا قلمدان بھی ہے وہ بھلا کسی سے پیچھے کیسے رہ سکتی تھی۔ اُنہوں نے بھی اس فلم کی افتتاح کرنے کا اعلان کیا اور چھ ماہ تک مسلسل ٹرخاتی رہی۔ مالی تعاون کا وعدہ اور اعلان تو ہمیشہ کی طرح صرف اعلان ہی ثابت ہوا۔ اختر حسین راجہ کی قیادت میں وفد جب آخری بار اُن کے پاس گیا تو بڑی سوچ بچار کے بعد انہیں رحم آیا اور اس فلم کی گلگت میں افتتاح کی حامی بھر لی۔ مجھے بھی اس پروگرام میں شرکت اور بحیثیت سٹیج سیکرٹری فرائض انجام دینے کی دعوت ملی وقت اور مصروفیات نے ساتھ نہیں دیا اور شرکت نہ کرسکا۔ لیکن معلوم ہوا کہ مشیر سیاحت جو اب باقاعدہ وزیر کے عہدے پر فائز ہے مخصوص وقت کے لئے آئی ، تھوڑی دیر چند کلپس دیکھی، روایتی شاباشی کے ساتھ روایتی اعلان کیا اور نکل پڑی جس کے بعد اب تک مڑ کر نہیں دیکھا۔

اس کھیل میں بھلا ہمارے وزیر تعلیم علی مدد شیر کسی سے پیچھے کیسے رہ سکتے تھے۔ جس نے اپنے چار سالہ وزارت کے دوران محکمہ تعلیم کو جس رُخ پہ ڈالا ہے بھلا ہم سے صدیوں بعد بھی کیسے بھول سکتے ہیں۔ فلم کو ریلیز کرنے کے لئے جب ذمہ داران ان کے پاس جاتے رہے تو اپنی مصروفیات سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ کہتے رہے کہ میں اور سعدیہ دانش ساتھ مل کر فلم کا افتتاح کریں گے۔ پھر پروپوزل جمع کرانے کا کہا اور عین وقت پر معذرت ہی کرلی۔ اختر حسین راجہ اور اُسکی ٹیم کے مطابق دیگر کے مقابلے میں اپنا نمائندہ ہونے کے باوجود سب سے زیادہ انہیں علی مدد شیر نے ہی ٹرخایا۔ پیسے خود کمائے ہوں یا کسی کے کمائے ہوئے مل جائیں اُس پر بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اگر اس میں ہندسہ بھی جب تین لاکھ کا ہو۔۔۔۔۔

جس طرح مُلا کی دوڑ مسجد تک ہوتی ہے اُسی طرح ہمارے گورنر کی دوڑ وہاں تک ہوتی ہے جہاں تحفے تحائف ملنے کی اُمید ہو۔ فلم ’’پھوروپھوری‘‘ کی ٹیم اس پوزیشن میں نہیں تھی کہ گورنر کو تحائف لے کر جاتی ، لہٰذہ ٹیم نے اُس کے پاس نہ جانے میں ہی اپنی عافیت جانی۔

یہاں اسی حوالے سے چند سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ آیا ہمارے مخیر حضرات ادارے اور حکومت جو ہر فورم پر اپنی علاقے کی منفرد ثقافت کی گُن گاتے ہیں، وہ عملی طور پر اس ثقافت کے تحفظ ، بقاء اور ترویج کے لئے کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟ ہمارے معاشرے میں اب تک آخر ایک کرپٹ سیاستدان کو ایک فنکار ، آرٹسٹ یا کھلاڑی سے زیادہ عزت دی جاتی ہے جبکہ مغرب میں سیاستدان ایک مخصوص اننگز کھیلنے کے بعد سیاست سے گوشہ نشین ہوجاتے ہیں،مگر ہمارے سیاستدان اسے وراثت بنالیتے ہیں۔

آخر ہمارے سیاستدان کب اپنے چہرے سے بے شرمی کا ماسک اتار کر عوام سے وہی وعدے کرینگے جن پر وہ پورا اُتر سکیں اور وقت وقت کے ساتھ بہلانے اور ٹرخانے کے سلسلے کو ختم کرسکیں ۔ فلم ’’پھوروپھوری‘‘ نہ صرف ایک سبق آموز مزاحیہ فلم ہے بلکہ یہ عوام کے لئے تفریح ، مُسکراہٹیں بکھیرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ علاقے کے کلچر و ثقافت کے تحفظ کی جانب اہم قدم، اور نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کی ایک اہم کوشش بھی ہے، مگر سیاستدانوں اور حکومت کے ساتھ ساتھ ہم سب کی اس بے حسی سے کیا ہم اس سلسلے کو آگے بڑھا سکیں گے؟ کیا ہمارا یہ شُعبہ مستقبل میں ترقی کرسکے گا؟ مالی تعاون تو دُور کی بات، اخلاقی تعاون نہ کرنے والے کیا ہمارے کلچر و ثقافت کے تحفظ و ترویج کے لئے کام کر سکیں گے؟ کیا تین لاکھ کے شیدائی تحفوں سے محبت کرنے والے اور پروٹوکول کے متتقاضی حکمرانوں سے مزید اُمیدیں بھی رکھی جا سکتی ہیں؟

میرے ایک استورکے دوست نے مقامی کیبل میں اس فلم کو دیکھنے کے بعد سوال کیا کہ کیااس فلم میں کام کرنے والے کرداروں نہیں کوئی ٹریننگ بھی لی ہے،اس سوال پر میں خاموش رہا، پھرہمارے ساتھ موجودایک اورساتھی میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی بڑے جذباتی انداز میں بولنے لگے،گلگت بلتستان میں بیشک یہ شعبہ نیا ضرور ہے، مگر یہ شعبہ بھی حکومتی عدم توجہی کا شکار ہے،صوبائی سطح پر ثقافت کا محکمہ تو ہے، مگر اب تک علاقے کی ثقافت کی ترویج اورتحفظ کے لئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جا سکا ہے، ہاں البتہ مخصوص لوگوں اور اداروں پر نوازشات ہوتی رہتی ہیں،جن میں چین میں موج مستیوں کے لیے محکمہ سیاحت سے فنڈز کی فراہمی سرفہرست ہے، ہمارے ہاں اب تک اسٹیج ڈراموں کے لیے کوئی بلڈنگ نہیں ہے،کوئی آڈیوٹوریم موجود نہیں، نہ ہی اب تک اس کے لیے کوئی فنڈ مختص کیا گیا ہے،ہما رے فنکار اکثر بازاروں، چوراہوں اور کسی سرکاری اداروں پر گزارہ کرتے ہیں. اور وہ بھی اپنی مدد آپکے تحت،صوبائی حکومت کاش محدود وقت کے سیر سپاٹوں کے بجائے وسیع نیادوں پر کچھ کرتی، تو اج اس شعبے کا کام از کام یہ حال تونہیں ہوتا.میرے ساتھی نے ایک لمبی آہ بھری اور خاموش ہوگیا۔

فلم ’’پھوروپھوری‘‘کو ہمارے سامنے لانے والے کردار ہر حوالے سے خراج تحسین کے مستحق ہیں،ہرایک نے اپنے کردار کو شاندار طریقے سے نبھایا ہے،ایسے کردار جو ہماری ثقافت کو بچا رہے ہیں، ہمیں تفریح بہم پہنچا رہے ہیں، ہماری نیی اور پرانی نسل کے درمیان بڑھتے خلیج کو کم رہے ہیں،ایسے کرداروں کی ہر حال میں حوصلہ افزائی ضروری ہے،حکومتی اداروں اورذمداروں کیساتھ ساتھ ہم سب کو اپنے اداوں پر نظرثانی کرنی ہوگی،اگر ہم خود معاشرے کے لیے کچھ بہترکام نہیں کرسکتے ہیں، تو کام از کام جو لوگ بہتر کام کر رہے ہیں انکی تعریف کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا. یاد رکھے،مہذب معاشریکے قیام کے لئے ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی، زندہ قوم اگر اپنے آپکو تصورکرتے ہیں تو زندہ رہ کرزندہ دلی کا ثبوت دینا ہوگا.

سیلاب کی تباہ کاریاں اورحکومتی بے بسی

Posted on Updated on

Image 
گزشتہ دنوں کی سخت گر می اور گلگت بلتستان کے دریائوں اور ندی نالوں میں طغیانی اور پانی کے بہاو میں  اضافے سے بہت سارے علاقے تباہی کی زد میں  ہیں  ۔ کئی علاقوں  میں  عوام کھلے آسمان تلے یا عارضی کیمپوں  میں  رہنے پر مجبور ہیں  ۔ کھانے پینے کی اشیائ کی شدید کمی کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے ۔ درجنوں  رابطہ پل بہہ چکے ہیں  ، سینکڑوں  گھرانے بے گھر ہو چکے ہیں  ، زیر کاشت ، بنجر زمین ، پھلدار درخت ، باغات دریا بر د ہو چکے ہیں  ۔ عوام انتہائی کسمپرسی کی حالت میں  زندگی گزار رہے ہیں ۔
 
 وزیر اعلیٰ صاحب بڑے فخر سے کہتے ہیں  کہ ہمارا بجٹ دوسرے صوبوں  کے یونین کو نسل کے برابر بھی نہیں  ہے اس لیے چادر دیکھ کر پائوں  پھیلاتے ہیں  ۔ عوام آپ سے پوچھتے ہیں کہ خطہ معاشی بحران کا شکار ہے تو اس وقت ملک میں  سینکڑوں  این جی اوز کام کر رہی ہیں  ۔ جن کے پاس اربوں  سے زیادہ کے وسائل موجود ہیں  ۔ ان کو بحالی کے کاموں  میں  مدد کے لیے دعوت کیوں  نہیں  دی گئی ۔ دوسری طرف اس تباہی کے حوالے سے وفاقی حکومت سے مدد کیوں  نہیں  لی گئی ۔ 
 
اب تو وزیر اعلیٰ کے پاس جواز بھی ہے کہ ہم نے تو مدد کر نے کی اپیل کی تھی مگر وفاق میں  لیگی حکومت نے ہماری ایک نہ سنی ۔جتنے پیمانے پر تباہی اور لوگ متاثر ہوئے ہیں  اس کا اب تک صحیح اندازہ ہی نہیں  لگا یا جا سکا ہے ۔
 
 وزیر اعلیٰ صاحب کے پاس ہیلی کاپٹر کی سہولت مو جود ہے ۔ کبھی انہوں  نے یہ زحمت نہ کی کہ اسے سیلاب کی تباہ کاریوں  کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کریں  ۔ انہیں  اسلام آباد ، گلگت اور سکردو جانے اور آرام کر نے کے لیے یہ سہولت ہر وقت میسر ہو تی ہے مگر یہ سہولت سیلاب کی تباہ کاریوں  سے اپنی مدد آپ مقابلہ کر نے والے عوام کو دیکھنے اور ملنے کے لیے میسر نہیں  ہو سکی ۔
 
مہد ی شاہ صاحب نے وفاق اور این جی اوز کو بحالی کے کاموں  کی طرف لانے کے بجائے آئندہ مالی سال میں  پانچ کروڑ روپے قدرتی آفات کے لیے رکھنے کی ہدایت دیدی ہے ۔ یہ رقم اور وزیر اعلیٰ کی ہدایت مجھے انتہائی مضحکہ خیز لگتی ہے ۔ پورے خطے میں  ہو نے والی قدرتی آفات کے لیے صرف پانچ کروڑ اور وہ بھی صرف اعلان ۔ لگتا تو یہی ہے کہ اس اعلان پر بھی سابقہ اعلانات کی طرح عمل در آمد ہو گا ۔
 
 حالیہ تباہی کے حوالے سے عوامی رائے یہ سامنے آ رہی ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں  کی بڑی وجہ حفاظتی اقدامات کے لیے رکھے گئے فنڈز میں  خرد برد اور وقت پر کام مکمل نہ کر نا ہے جس کی اب تک کسی قسم کی تحقیقات بھی نہ ہو سکی ہیں  ۔ اس وقت پورے خطے میں  گیارہ سو سے زائد چھوٹے اور بڑے تر قیاتی منصوبے التوا کا شکار ہیں  جب تک زیر التوا منصوبے مکمل نہ ہوں  ،نئے منصوبے بھی بے معنی ہیں  ۔
 
 وزیر اعلیٰ کی طرف سے ان منصوبوں  کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی معائنہ کمیشن بھی بے معنی ہو کر رہ گئی ہے جس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ان منصوبوں  کے التوا میں  بڑے بڑے مگر مچھ شریک ہیں  وہ کسی صورت نہیں  چاہتے کہ انہیں  قانون کی گرفت میں  لایا جائے اور اس لسٹ میں  بڑوں  بڑوں  کے بڑے بڑے بھی شامل ہیں  ۔
 
 لہٰذا عوام کی یہ خواہش ہے کہ موجودہ سیلاب کی تباہی اور عوام کو بے گھر کر نے والوں  کو منظر عام پر لایا جائے ۔ جب حفاظتی بند تعمیر کر نے کے لیے رقم ریلیز ہوئی تھی تو بر وقت بند تعمیر کیوں  نہ کئے گئے ۔ آخر غریب عوام کو بے گھر کر نے اور لاکھوں  روپے بچانے کے لیے غریب عوام کو کروڑوں  کا نقصان کر نے والوں  کو سزا کب ملے گی ۔حفاظتی بند جو عوام کی جان و مال کی تحفظ کے لیے ہو تے ہیں  ان میں  کرپشن ، پسند و نا پسند اور تاخیر ی حر بے ہر صورت عوام دشمن ہیں  اور عوام دشمن عناصر کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے ۔ 
 
گزشتہ سیلاب سے عوام سے کچھ بھی سبق نہیں  سیکھا ۔ اب بھی وہی کہانی دوبارہ دہرائی جا رہی ہے ۔ محض وعدے ، دلاسے اور دعوے ۔جب تک یہ وقتی پالیسیاں  ہو گی تباہیاں  آ تی رہیں  گی ، لوگ متاثر ہوتے رہیں  گے اور سیاسی پر ندے رٹے رٹائے دعوے اور اعلانات کریں گے اور آخر میں  کچھ بھی حاصل نہیں  ہو گا ۔ لہٰذا اس کے لیے ضروری ہے اور اب بھی وقت ہے کہ سابقہ  کہانیوں  کو دہرانے کے بجائے ان سے سبق حاصل کر کے دور رس پالیسیاں  بنائی جائیں  

گلگت بلتستان حکومت کی عدم توجہی اورسکی کھیل

Posted on

DSC01948گلگت۔۔۔۔گلگت بلتستان حکومت کی عدم توجہی کے باوجود جی بی سکی ٹیم نے نیشنل وویمن سکی ٹورنامنٹ اپنی مدد آپ کے تحت کھیل کر چمپئن شپ اپنے نام کر کے علاقے کا نام روشن کر دیا ہے گلگت کے سیاحتی مقام نلتر میں کھیلی گئی نیشنل وویمن سکی چمپئن شپ جسے ایک حادثاتی موت کا شکار ہونے والی سکی پلئیر سعدیہ خان کے نام مخصوص کیا گیا تھا میں ملک بھر سے چھے ٹیموں نے حصہ لیا اور گلگت بلتستان کی سکی ٹیم نے اپنی محنت لگن اور بہترین کارکردگی کی بنا پر اول پوزیشن حاسل کر لی دلچسپ بات یہ ہے کہ صوبائی دارلخلافہ گلگت شہر سے تقریبا30کلومیر کی مسافت پر واقع سیاحتی مقام نلتر میں ہونے والے اس قومی ایونٹ کو صوبائی حکومت اور بالخصوس محکمہ سیاحت نے مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے منتظمین کی دعوت کے باوجود ایونٹ میں کسی حکومتی شخصیت یا انتظامی آفیسر ن شرکت نہیں کی جو کہ یقینا قابل تشویش امر ہے گلگت بلتستان حکومت سیاحت کی ترقی کیلئے محکمہ سیاحت کو سالانہ کروڑوں روپے کے فنڈز فراہم کرتی ہے جس سے سال میںصرف دو پولو ٹورنامنٹ جشن بہاراں اور جشن آزادی پولو ٹورنامنٹس کے نام پر ہی لٹا دیا جاتا ہے باقای ماہ گلگت شہر میں امن و امان کی صورتحال کا بہانہ بنایا جاتا ہے اور نہ معلوم دس ماہ میں کھیلوں کی ابتر ترقی اور کھیلوں کے مقابلوں کے نام پر ملنے والے فنڈز کہاں خرچ ہوتے ہیں اس کا کچھ پتہ نہیں چلتا ہے گلگت کی بدامنی نہ جانے کیوں دیگر اضلاع پر اپنے اثرات چھوڑتی ہے کہ پرامن ہونے کے باوجود ان اضلاع میں محکمہ سیاحت کھیلوں کا کوئی مقابلہ سرکاری سطح پر منعقد نہیں کرتا ہے ”اسکی رنگ”نیشنل سکی چمپئن شپ واحد قومی ایونٹ ہے جو گلگت بلتستان میں1990ء سے ہر سال منعقد ہوتا چلا آرہا ہے اور اس ایونٹ میں ملک بھر سے سکی ٹیم شرکت کرتی ہیں لیکن گلگت بلتستان حکومت کے قیام تین برس بعد بھی اس کھیل کی طرح صوبائی حکومت نے کوء توجہ نہیں دی اگر اس قومی ایونٹ کی طرف صوبائی حکومت توجہ مبذول کرتی تو علاقے م یں سیاحت ،صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہوتی اور نلتر کے سیاحتی مقام پر سکی رنگ کے عالمی مقابلے منعقد ہو رہے ہوتے اور حکومت کروڑوں روپے سال میں صرف دو پولو ٹورنامنٹس پر نہ خرچ کر رہی ہوتی بلکہ اسکی رنگ کے علاوہ دیگر کھیلوں کے فروغ کیلئے بھی سیاحت کی صنعت سے آمدن پیدا کرکے علاقے میں صحت مندانہ سرگرمیاں عوام اور خصوصا نوجوانوں کو مہیا کر چکی ہوتی ۔صوبائی حکومت کی طرف سے سکی رنگ کے کھیل کی طرف توجہ نہ دیئے جانے سے متعلق نہ صرف گلگت بلتستان سکی ایسو سی ایشن مایوس ہے بلکہ اسکی رنگ کے کھلاڑی بھی مایوسی اور بددلی کا شکار ہیں اس حوالے سے جب کہ جی بی سکی ایسو سی ایشن گلگت بلتستان کے صدر کرنل (ر) امجدولی سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں دو ہی کھیل ایسے ہیں جن کا علاقے میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اگر حکومت ان دو کھیلوں پولو اور اسکی رنگ کو برابر کی نظر سے دیکھے تو کوئی وجہ نہیںکہ اس علاقے میں سیاحت ترقی نہ کرسکے اور عالمی سطح پر بھی اسکی رنگ کے مقابلے یہاں منعقد ہو سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ اس رنگ ایک مہنگا کھیل ہے اور اب تک وہ اپنی جیب سے ہی اس علاقے کی اسکی ٹیم کے اخراجات برداشت کرتے آئے ہیں اور اب تک دو قومی ایونٹس جیت کر اس علاقے کو دئیے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ صوبائی حکومت ایسو سی ایشن کی کوئی مدد نہیں کر رہی ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جی بی حکومت ایسو سی ایشن کی مدد کھلاڑیوں کو سامان مہیا کرکے کر سکتی ہے اور نلتر میں کھلاریوں کو ان مقابلوں کے دوران طعام و قیام کا بندوبست فراہم کرکے بھی کر سکتی ہے لیکن کھلاڑیوں کو صوبائی حکومت ایسی کوئی امداد فراہم نہیں کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ نلتر میں صوبائی حکومت کے دور ریسٹ ہائوسسز ہیں ان میں کھلاڑیوں کو جگہ ہی نہیں دی جاتی ہے انہوں نے بتایا کہ قومی وویمن وکی چمپئن شپ کے انعقاد میں ایک لاکھ روپے کے اخراجات آئے جو انہوں نے اپنی جیب سے پورے کئے ان کا کہنا تھا کہ صوبائی وزارت سیاحت اور محکمہ کھیل کو اس کھیل کی ترویج کیلئے آگے آنا چاہیے اور اپنا کردار ادا کرنا چاہیے فروری میں نلتر کے مقام پر قومی سطح کے مزید چار ایونٹس ہونے ہیں صوبائی حکومت جی بی سکی ایسوسی ایشن کی مدد کرے تاکہ کھلاڑی علاقے کا نام روشن کرنے میں مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔
DSC01722

۔نیشنل سعدیہ خان سکی چمپئن شپ2013گلگت بلتستان سکی ایسو سی ایشن کی کامیابی کے ساتھ ختم

Posted on

Winner players of GBSA with team officials and local Journalists.
Winner players of GBSA with team officials and local Journalists.
گلگت۔۔۔نیشنل سعدیہ خان سکی چمپئن شپ2013گلگت بلتستان سکی ایسو سی ایشن کی کامیابی کے ساتھ ختم ہوگی، چمپئن شپ میں گلگت بلتستان کی ٹیم نے مجموعی طور پر پہلی،پاکستان ایئر فورس نے دوسری جبکہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ٹیم تیسرے نمبر پر رہی گلگت بلتستان سکی ایسو سی ایشن کی آمنہ ولی نے سلالم ویمن اور جائنٹ سلالم ویمن دونوں میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی،سلالم ویمن میں دوسرے نمبر پر ائیر فورس کی افراء ولی دوسرے اور فاطمہ سہیل نے تیسری پوزیشن حاصل کر لی، جائنٹ سلالم ویمن میں ائیرفورس کی فاطمہ سہیل نے دوسری اور سکوارڈان لیڈر نادیہ نے تیسری پوزیشن حاصل کر لی، چلڈرن سکی مقابلے میں جی بی سکی ایسو سی ایشن کی عمامہ ولی نے پہلی ،ائیر فورس کی زینب سہیل دوسری جبکہ ائیر فورس کی ہی نیلم نے تیسری پوزیشن حاصل کر لی۔ چلڈرن ماسٹر کیٹ مقابلے میں جی بی سکی ایسو سی ایشن کے سلمان نے پہلی ائیر فورس کے محمد جمیل نے دوسری جبکہ گلگت بلتستان کے فضل وددود تیسرے نمبر پر رہے ،چلڈرن جائنٹ سلالم میں تینوں پوزیشن ائیر فورس کے نام رہے جس میں زاہد عباس نے پہلی وقاص اعظم نے دوسری اور ضیاء الرحمن نے تیسری پوزیشن حاصل کر لی اختتامی تقریب میں رنگارنگ تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کی مہمان خصوصی بیگم چیف آف آئیر سٹاف ائیر مارشل طاہر رفیق بٹ تھی جنہوں نے جیتنے والے کھلاڑیوں میں انعامات اور ٹرافیاں تقسیم کئے اختتامی روز سکی کے کھلاڑیوں نے خوبصورت کرتب کے مظاہرے دکھائے جس سے تماشائی خوب لطف اندوز ہوئے اختتامی تقریب میں بڑی تعداد میں تماشائیوں نے شرکت کی اس سعدیہ خان اسکی چمپئن شب 2013ء سے سب سے اہم بات پر رہی کہ اس میں ٹوٹل12میڈلز تھے جس میں سے11میڈلز گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے حاصل کئے جن میں اکثر نے نلتر سکی سکول میں تربیت حاصل کی ہے اس ٹورنامنٹ کی کامیابی کیلئے صدر جی بی اسکی ایسو سی ایشن کرنل امجدولی نے اہم کردار ادا کیا انہوں نے میچ ریفری کے فرائض بھی انجام دئیے گلگت بلتستان کے عوامی حلقوں نے گلگت بلتستان کی ٹیم کو نیشنل سکی چمپئن شب 2013ء میں کامیابی حاصل کرنے پر شاندار انداز میں خراج تحسین پیش کیا مگر اتنے اہم قومی نوعیت کے پروگرام میں گلگت بلتستان حکومت کی طرف کوئی نمائندہ بھی شریک نہ ہوا جس سے وہاں پر موجود تمام تماشائیوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
DSC01742

گلگت بلتستان میں عدالتی بحران۔۔۔۔۔۔ذمہ دار کون؟

Posted on Updated on

Scale_of_justice_2_newگلگت بلتستان کے اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی گزشتہ چھ ماہ سے التوا کا شکار ہے صوبائی حکومت کی طرف سے بھیجی گئی سمری وزارت امور کشمیر والوں کو پسند نہ آسکی۔ جس کی وجہ سے اس سمری کو انہوں نے بڑے عرصے تک اپنے پاس دبائے رکھا۔ جبکہ گزشتہ دنوں گورنر پیر کرم علی شاہ اور وزیر قانون وزیر شکیل کی طرف سے سامنے آنے والی بیانات میں کہا گیا کہ یہ سمری وزیراعظم کے ٹیبل پر پڑی ہے ۔ اب یہ کسی کو بھی معلوم نہیں ہے کہ چھ مہینے سے سمری وزارت امور کشمیر اور وزیراعظم ہائوس کے ٹیبل پر موجود ہے نہ جانے مذید کتنے مہینے یا سال یہ سمری اس ٹیبل پر موجود رہیگی۔
اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی عدم تعیناتی اب ایک معمہ بنتا جارہا ہے۔ یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے بھیجی گئی سمری وزارت امور کشمیر والوں کو راس نہیں آئی ہے وہ چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے اعلیٰ عدالتوں میں ججز ان کے ہمنوا اور چاہنے والے تعینات ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس سمری میں مقامی ججز کی تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یقینا وہ نہیں چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے اعلیٰ عدالتوں میں ججز مقامی ہوں۔ وہ دل سے نہیں چاہتے ہیں کہ یہاں کے لوگ بااختیار ہوں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو کب کا اس سمری پر عمل درآمد ہوتا اور ججز کی تعیناتی عمل میں آچکی ہوتی۔
گلگت بلتستان کے اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی عدم تعیناتی سے مسائل میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اہم عدالتی امور ٹھپ ہیں خطے میں کرپشن جو تھمنے کا نام نہیں لے رہی، سرکاری ملازمتیں جو کھلے عام بک رہی ہیں، گلگت شہر میں امن و امان کا صورتحال یعنی آئے روز لاشوںکا گرنا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے بالکل اسی طرح کے کئی دوسرے اہم مسائل موجود ہیں مگر ان پر کوئی از خود نوٹس لینے والا نہیں ۔ خطے میں انصاف اور احتساب کو محدود کیا جارہا ہے۔ لوٹ مار ،کرپٹ افراد اور دہشتگردوں کو کھلی آزادی حاصل ہے وہ باآسانی اپنے مقاصد کو حاصل کر لیتے ہیں، ان کو یہ معلوم ہے کہ یہاں تو کوئی پکڑ دھکڑ ہوتی ہی نہیں ہے۔ اعلیٰ عدالتیں ججوں سے خالی پڑی ہیں، تو ایسے میں ان عناصر کو مذید تقویت مل جاتی ہے۔ دوسری طرف خطے میں جاری عوامی مفاد عامہ کے کاموں کی طرف دیکھتے ہیں تو صرف مایوسی ہی ملتی ہے اہم ترقیاتی منصوبے التوا کا شکار ہیں، کئی عوامی مفاد عامہ کے کاموں میں ٹھیکیدار ایڈوانس پے منٹ لیکر غائب ہو چکے ہیں۔ جس سے براہ راست یہاں کے شہری متاثر ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل گلگت بلتستان سپریم اپیلٹ کورٹ کے سربراہ جسٹس نواز عباسی تھے۔ انہوں نے اپنے دور میںکئی اہم فیصلے بھی کئے۔ جس میں کئی اہم عوامی نوعیت کے کیسز میں از خود نوٹسیز لئے جس کی وجہ سے ان کاموں پر بروقت کام شروع کر دیا گیا عوام محکموں کے سربراہوں،ساستدانوں اور بیوروکریٹس کے دلوں میں عدلیہ کا ایک خوف تھا۔ مگر اب یہ خوف بڑی حد تک ختم ہو چکا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام اور تمام اخبارات چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے اور اب تک کہہ رہے ہیں کہ محکمہ تعلیم میں ایک استاد کی ملازمت3 لاکھ میں بغیر ٹیسٹ انٹرویو کے بیچی جارہی ہے۔ اس حوالے سے تمام تر شواہد ہونے کے باوجود قوم کے معماروں کے ساتھ ایسا گھنائونا کھیل جو اب تک کھیلا جارہا ہے، کسی نے اس پر ایکشن لینے کی زحمت نہیں کی۔ اور تعلیم میں اب تک جو کچھ

ہو رہا ہے اس کا نتیجہ اتنا خوفناک اور مایوس کن ہوگا کہ اس سے یقینا پورا خطہ متاثر ہوگا اور یہ کھنائونی کھیل کھیلنے والے کم از کم اوپر والے کے عذاب سے بچ نہیں پائیں گے۔ محکمہ تعلیم کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں میں بھی یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ ججوں سے خالی ہے جبکہ صوبائی حکمرانوں نے آنکھیں بند کر لی ہیں ایسا لگ رہا ہے کہ ان تمام محکموں میں ہونے والے چور دروازے سے بھرتیوں ،کرپشن ،لوٹ مار، تین لاکھ کے اساتذہ بھرتیوں اور اسی طرح کے دیگر عظیم کاموں میں تمام صوبائی حکمرانوں کو حصہ مل رہا ہے۔ ورنہ کوئی نہ کوئی تو ان عظیم کاموں کے بارے میں آواز بلند کرتا۔ گلگت بلتستان کے اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعیناتی کو التواء میں رکھنے کے حوالے سے ایک رائے یہ بھی سامنے آرہی ہے کہ اس میں صوبائی حکومت کی بھی مرضی شامل ہے تاکہ ان کو خطے میں اپنے من پسند فیصلے کرنے اور پالیسیاں مرتب کرنے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ اور حکومت محکمہ تعلیم، و دیگر سرکاری اداروںمیں جو عظیم کام سرانجام دے رہی ہیں ان کو بطریق احسن پایہ تکمیل پہنچانے کے ساتھ ساتھ بینک بیلنس بھرو تحریک کو بھی خوش اسلوبی سے انجام تک پہنچائے۔ اس لئے صوبائی حکمران بڑے خوش ہیں کہ جتنا ہو سکے اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی التوا میں ہی پڑی رہے۔
سیلف امپاورمنٹ آرڈر 2009ء کے تحت سپریم اپیلٹ کورٹ میں بشمول چیف جج 3ججز جبکہ چیف کورٹ میںچیف جج سمیت5ججز کی تعیناتی لازمی ہے، مگر گزشتہ ڈیڑھ سال سے عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ میں کئی ججوں کی پوسٹیں خالی ہیں۔ سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے کہ آخر وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے کیا مقاصد ہیں اپنی مرضی مسلط کرنے کیلئے عوام کو انصاف سے کوسوں دوررکھا جارہا ہے، موجودہ حکمرانی سول آمریت کی طرح لگ رہی ہے دنیا کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ جس معاشرہ میں عوام کو انصاف میسر نہ ہو، اور عدالتوں کو مذاق بنایا جائے وہاں مسائل خود بخود جنم لیتے ہیں، گلگت شہر میں آئے روز بے گناہ مر رہے ہیں۔ گورنر ،وزیراعلیٰ سے لیکر تمام وزیراور مشیر روایتی بیانات داغتے رہتے ہیں ۔ پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے روایتی خانہ پری میں مصروف ہوتے ہیں جبکہ دہشت گرد باآسانی اپنے مقاصد حاصل کرکے اگلی کاروائیوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا ہے کہ یہاں انصاف کا کوئی نظام نہیں ہے۔ قانون کی گرفت مضبوط نہیں ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو مسائل بھی چلتے رہیں گے بے گناہ مرتے رہیں گے ۔ غریب انصاف کیلئے چیختے چلاتے رہیں گے، کرپشن اپنی آخری حدوں کو چھولے گی، میرٹ کی پامالی معمول بن جائے گی، سفارش کا بول بالا ہو گا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی رہیں گی، غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا رہیگا، مذہبی،مسلکی،لسانی و علاقائی اختلافات جنم لیتے رہیں گے۔۔۔۔۔ان تمام مسائل کا حل آخر جا کر انصاف پر ختم ہو جاتا ہے، اور جب تک ایک عام شخص تک انصاف کی رسائی ممکن نہ ہو ایسے مسائل جنم لیتے رہیں گے۔
جناب گورنر پیر کرم علی شا اور وزیراعلیٰ مہدی شاہ! گلگت بلتستان کے عوام آپ دونوں سے سوال کرتے ہیں کہ آخر کب تک یہ سلسلہ چلتا رہیگا۔ کب تک ایک عام شہری انصاف کیلئے ترستا اور روتا رہیگا، کب تک خطے میں قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری رہیگا اور لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے، کب تک عدلیہ جیسے اہم ادارے میں پسند و ناپسند سے ججوں کی تعیناتی کیلئے کوششیں جاری رہیں گے، آخر کب تک لوٹ مار کرپشن، سفارش، اقربا پروری، چور دروازے سے بھرتیوں اور میرٹ کی پامالی کا یہ سلسلہ جاری رہیگا کب خطے میں عدلیہ کے تمام ججز کی تعیناتی عمل میں آئے اور مکمل آزادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دے سکیںکے۔۔۔۔؟
آخر کب تک شاہ صاحبان۔۔۔۔۔! آخر کب تک یہ سلسلہ چلتا رہیگا۔۔۔۔خطے کے بیس لاکھ عوام آپ دونوں سے ان سوالات کے جوابات مانگتے ہیں۔۔۔۔۔ جب تک آپ ان سوالات کے جوابات نہیں دے سکتے۔۔۔۔ آپ کا ضمیر یقیناآپ کو ملامت کرتا رہیگا۔۔۔۔مجھے نہیں لگ رہا ہے کہ آپ کو اب بھی کوئی احساس ہو۔۔۔۔بقول شاعر
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کروگے