سیلاب کی تباہ کاریاں اورحکومتی بے بسی

Posted on Updated on

Image 
گزشتہ دنوں کی سخت گر می اور گلگت بلتستان کے دریائوں اور ندی نالوں میں طغیانی اور پانی کے بہاو میں  اضافے سے بہت سارے علاقے تباہی کی زد میں  ہیں  ۔ کئی علاقوں  میں  عوام کھلے آسمان تلے یا عارضی کیمپوں  میں  رہنے پر مجبور ہیں  ۔ کھانے پینے کی اشیائ کی شدید کمی کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے ۔ درجنوں  رابطہ پل بہہ چکے ہیں  ، سینکڑوں  گھرانے بے گھر ہو چکے ہیں  ، زیر کاشت ، بنجر زمین ، پھلدار درخت ، باغات دریا بر د ہو چکے ہیں  ۔ عوام انتہائی کسمپرسی کی حالت میں  زندگی گزار رہے ہیں ۔
 
 وزیر اعلیٰ صاحب بڑے فخر سے کہتے ہیں  کہ ہمارا بجٹ دوسرے صوبوں  کے یونین کو نسل کے برابر بھی نہیں  ہے اس لیے چادر دیکھ کر پائوں  پھیلاتے ہیں  ۔ عوام آپ سے پوچھتے ہیں کہ خطہ معاشی بحران کا شکار ہے تو اس وقت ملک میں  سینکڑوں  این جی اوز کام کر رہی ہیں  ۔ جن کے پاس اربوں  سے زیادہ کے وسائل موجود ہیں  ۔ ان کو بحالی کے کاموں  میں  مدد کے لیے دعوت کیوں  نہیں  دی گئی ۔ دوسری طرف اس تباہی کے حوالے سے وفاقی حکومت سے مدد کیوں  نہیں  لی گئی ۔ 
 
اب تو وزیر اعلیٰ کے پاس جواز بھی ہے کہ ہم نے تو مدد کر نے کی اپیل کی تھی مگر وفاق میں  لیگی حکومت نے ہماری ایک نہ سنی ۔جتنے پیمانے پر تباہی اور لوگ متاثر ہوئے ہیں  اس کا اب تک صحیح اندازہ ہی نہیں  لگا یا جا سکا ہے ۔
 
 وزیر اعلیٰ صاحب کے پاس ہیلی کاپٹر کی سہولت مو جود ہے ۔ کبھی انہوں  نے یہ زحمت نہ کی کہ اسے سیلاب کی تباہ کاریوں  کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کریں  ۔ انہیں  اسلام آباد ، گلگت اور سکردو جانے اور آرام کر نے کے لیے یہ سہولت ہر وقت میسر ہو تی ہے مگر یہ سہولت سیلاب کی تباہ کاریوں  سے اپنی مدد آپ مقابلہ کر نے والے عوام کو دیکھنے اور ملنے کے لیے میسر نہیں  ہو سکی ۔
 
مہد ی شاہ صاحب نے وفاق اور این جی اوز کو بحالی کے کاموں  کی طرف لانے کے بجائے آئندہ مالی سال میں  پانچ کروڑ روپے قدرتی آفات کے لیے رکھنے کی ہدایت دیدی ہے ۔ یہ رقم اور وزیر اعلیٰ کی ہدایت مجھے انتہائی مضحکہ خیز لگتی ہے ۔ پورے خطے میں  ہو نے والی قدرتی آفات کے لیے صرف پانچ کروڑ اور وہ بھی صرف اعلان ۔ لگتا تو یہی ہے کہ اس اعلان پر بھی سابقہ اعلانات کی طرح عمل در آمد ہو گا ۔
 
 حالیہ تباہی کے حوالے سے عوامی رائے یہ سامنے آ رہی ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں  کی بڑی وجہ حفاظتی اقدامات کے لیے رکھے گئے فنڈز میں  خرد برد اور وقت پر کام مکمل نہ کر نا ہے جس کی اب تک کسی قسم کی تحقیقات بھی نہ ہو سکی ہیں  ۔ اس وقت پورے خطے میں  گیارہ سو سے زائد چھوٹے اور بڑے تر قیاتی منصوبے التوا کا شکار ہیں  جب تک زیر التوا منصوبے مکمل نہ ہوں  ،نئے منصوبے بھی بے معنی ہیں  ۔
 
 وزیر اعلیٰ کی طرف سے ان منصوبوں  کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی معائنہ کمیشن بھی بے معنی ہو کر رہ گئی ہے جس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ان منصوبوں  کے التوا میں  بڑے بڑے مگر مچھ شریک ہیں  وہ کسی صورت نہیں  چاہتے کہ انہیں  قانون کی گرفت میں  لایا جائے اور اس لسٹ میں  بڑوں  بڑوں  کے بڑے بڑے بھی شامل ہیں  ۔
 
 لہٰذا عوام کی یہ خواہش ہے کہ موجودہ سیلاب کی تباہی اور عوام کو بے گھر کر نے والوں  کو منظر عام پر لایا جائے ۔ جب حفاظتی بند تعمیر کر نے کے لیے رقم ریلیز ہوئی تھی تو بر وقت بند تعمیر کیوں  نہ کئے گئے ۔ آخر غریب عوام کو بے گھر کر نے اور لاکھوں  روپے بچانے کے لیے غریب عوام کو کروڑوں  کا نقصان کر نے والوں  کو سزا کب ملے گی ۔حفاظتی بند جو عوام کی جان و مال کی تحفظ کے لیے ہو تے ہیں  ان میں  کرپشن ، پسند و نا پسند اور تاخیر ی حر بے ہر صورت عوام دشمن ہیں  اور عوام دشمن عناصر کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے ۔ 
 
گزشتہ سیلاب سے عوام سے کچھ بھی سبق نہیں  سیکھا ۔ اب بھی وہی کہانی دوبارہ دہرائی جا رہی ہے ۔ محض وعدے ، دلاسے اور دعوے ۔جب تک یہ وقتی پالیسیاں  ہو گی تباہیاں  آ تی رہیں  گی ، لوگ متاثر ہوتے رہیں  گے اور سیاسی پر ندے رٹے رٹائے دعوے اور اعلانات کریں گے اور آخر میں  کچھ بھی حاصل نہیں  ہو گا ۔ لہٰذا اس کے لیے ضروری ہے اور اب بھی وقت ہے کہ سابقہ  کہانیوں  کو دہرانے کے بجائے ان سے سبق حاصل کر کے دور رس پالیسیاں  بنائی جائیں  

گلگت بلتستان حکومت کی عدم توجہی اورسکی کھیل

Posted on

DSC01948گلگت۔۔۔۔گلگت بلتستان حکومت کی عدم توجہی کے باوجود جی بی سکی ٹیم نے نیشنل وویمن سکی ٹورنامنٹ اپنی مدد آپ کے تحت کھیل کر چمپئن شپ اپنے نام کر کے علاقے کا نام روشن کر دیا ہے گلگت کے سیاحتی مقام نلتر میں کھیلی گئی نیشنل وویمن سکی چمپئن شپ جسے ایک حادثاتی موت کا شکار ہونے والی سکی پلئیر سعدیہ خان کے نام مخصوص کیا گیا تھا میں ملک بھر سے چھے ٹیموں نے حصہ لیا اور گلگت بلتستان کی سکی ٹیم نے اپنی محنت لگن اور بہترین کارکردگی کی بنا پر اول پوزیشن حاسل کر لی دلچسپ بات یہ ہے کہ صوبائی دارلخلافہ گلگت شہر سے تقریبا30کلومیر کی مسافت پر واقع سیاحتی مقام نلتر میں ہونے والے اس قومی ایونٹ کو صوبائی حکومت اور بالخصوس محکمہ سیاحت نے مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے منتظمین کی دعوت کے باوجود ایونٹ میں کسی حکومتی شخصیت یا انتظامی آفیسر ن شرکت نہیں کی جو کہ یقینا قابل تشویش امر ہے گلگت بلتستان حکومت سیاحت کی ترقی کیلئے محکمہ سیاحت کو سالانہ کروڑوں روپے کے فنڈز فراہم کرتی ہے جس سے سال میںصرف دو پولو ٹورنامنٹ جشن بہاراں اور جشن آزادی پولو ٹورنامنٹس کے نام پر ہی لٹا دیا جاتا ہے باقای ماہ گلگت شہر میں امن و امان کی صورتحال کا بہانہ بنایا جاتا ہے اور نہ معلوم دس ماہ میں کھیلوں کی ابتر ترقی اور کھیلوں کے مقابلوں کے نام پر ملنے والے فنڈز کہاں خرچ ہوتے ہیں اس کا کچھ پتہ نہیں چلتا ہے گلگت کی بدامنی نہ جانے کیوں دیگر اضلاع پر اپنے اثرات چھوڑتی ہے کہ پرامن ہونے کے باوجود ان اضلاع میں محکمہ سیاحت کھیلوں کا کوئی مقابلہ سرکاری سطح پر منعقد نہیں کرتا ہے ”اسکی رنگ”نیشنل سکی چمپئن شپ واحد قومی ایونٹ ہے جو گلگت بلتستان میں1990ء سے ہر سال منعقد ہوتا چلا آرہا ہے اور اس ایونٹ میں ملک بھر سے سکی ٹیم شرکت کرتی ہیں لیکن گلگت بلتستان حکومت کے قیام تین برس بعد بھی اس کھیل کی طرح صوبائی حکومت نے کوء توجہ نہیں دی اگر اس قومی ایونٹ کی طرف صوبائی حکومت توجہ مبذول کرتی تو علاقے م یں سیاحت ،صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہوتی اور نلتر کے سیاحتی مقام پر سکی رنگ کے عالمی مقابلے منعقد ہو رہے ہوتے اور حکومت کروڑوں روپے سال میں صرف دو پولو ٹورنامنٹس پر نہ خرچ کر رہی ہوتی بلکہ اسکی رنگ کے علاوہ دیگر کھیلوں کے فروغ کیلئے بھی سیاحت کی صنعت سے آمدن پیدا کرکے علاقے میں صحت مندانہ سرگرمیاں عوام اور خصوصا نوجوانوں کو مہیا کر چکی ہوتی ۔صوبائی حکومت کی طرف سے سکی رنگ کے کھیل کی طرف توجہ نہ دیئے جانے سے متعلق نہ صرف گلگت بلتستان سکی ایسو سی ایشن مایوس ہے بلکہ اسکی رنگ کے کھلاڑی بھی مایوسی اور بددلی کا شکار ہیں اس حوالے سے جب کہ جی بی سکی ایسو سی ایشن گلگت بلتستان کے صدر کرنل (ر) امجدولی سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں دو ہی کھیل ایسے ہیں جن کا علاقے میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اگر حکومت ان دو کھیلوں پولو اور اسکی رنگ کو برابر کی نظر سے دیکھے تو کوئی وجہ نہیںکہ اس علاقے میں سیاحت ترقی نہ کرسکے اور عالمی سطح پر بھی اسکی رنگ کے مقابلے یہاں منعقد ہو سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ اس رنگ ایک مہنگا کھیل ہے اور اب تک وہ اپنی جیب سے ہی اس علاقے کی اسکی ٹیم کے اخراجات برداشت کرتے آئے ہیں اور اب تک دو قومی ایونٹس جیت کر اس علاقے کو دئیے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ صوبائی حکومت ایسو سی ایشن کی کوئی مدد نہیں کر رہی ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جی بی حکومت ایسو سی ایشن کی مدد کھلاڑیوں کو سامان مہیا کرکے کر سکتی ہے اور نلتر میں کھلاریوں کو ان مقابلوں کے دوران طعام و قیام کا بندوبست فراہم کرکے بھی کر سکتی ہے لیکن کھلاڑیوں کو صوبائی حکومت ایسی کوئی امداد فراہم نہیں کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ نلتر میں صوبائی حکومت کے دور ریسٹ ہائوسسز ہیں ان میں کھلاڑیوں کو جگہ ہی نہیں دی جاتی ہے انہوں نے بتایا کہ قومی وویمن وکی چمپئن شپ کے انعقاد میں ایک لاکھ روپے کے اخراجات آئے جو انہوں نے اپنی جیب سے پورے کئے ان کا کہنا تھا کہ صوبائی وزارت سیاحت اور محکمہ کھیل کو اس کھیل کی ترویج کیلئے آگے آنا چاہیے اور اپنا کردار ادا کرنا چاہیے فروری میں نلتر کے مقام پر قومی سطح کے مزید چار ایونٹس ہونے ہیں صوبائی حکومت جی بی سکی ایسوسی ایشن کی مدد کرے تاکہ کھلاڑی علاقے کا نام روشن کرنے میں مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔
DSC01722

۔نیشنل سعدیہ خان سکی چمپئن شپ2013گلگت بلتستان سکی ایسو سی ایشن کی کامیابی کے ساتھ ختم

Posted on

Winner players of GBSA with team officials and local Journalists.
Winner players of GBSA with team officials and local Journalists.
گلگت۔۔۔نیشنل سعدیہ خان سکی چمپئن شپ2013گلگت بلتستان سکی ایسو سی ایشن کی کامیابی کے ساتھ ختم ہوگی، چمپئن شپ میں گلگت بلتستان کی ٹیم نے مجموعی طور پر پہلی،پاکستان ایئر فورس نے دوسری جبکہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ٹیم تیسرے نمبر پر رہی گلگت بلتستان سکی ایسو سی ایشن کی آمنہ ولی نے سلالم ویمن اور جائنٹ سلالم ویمن دونوں میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی،سلالم ویمن میں دوسرے نمبر پر ائیر فورس کی افراء ولی دوسرے اور فاطمہ سہیل نے تیسری پوزیشن حاصل کر لی، جائنٹ سلالم ویمن میں ائیرفورس کی فاطمہ سہیل نے دوسری اور سکوارڈان لیڈر نادیہ نے تیسری پوزیشن حاصل کر لی، چلڈرن سکی مقابلے میں جی بی سکی ایسو سی ایشن کی عمامہ ولی نے پہلی ،ائیر فورس کی زینب سہیل دوسری جبکہ ائیر فورس کی ہی نیلم نے تیسری پوزیشن حاصل کر لی۔ چلڈرن ماسٹر کیٹ مقابلے میں جی بی سکی ایسو سی ایشن کے سلمان نے پہلی ائیر فورس کے محمد جمیل نے دوسری جبکہ گلگت بلتستان کے فضل وددود تیسرے نمبر پر رہے ،چلڈرن جائنٹ سلالم میں تینوں پوزیشن ائیر فورس کے نام رہے جس میں زاہد عباس نے پہلی وقاص اعظم نے دوسری اور ضیاء الرحمن نے تیسری پوزیشن حاصل کر لی اختتامی تقریب میں رنگارنگ تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کی مہمان خصوصی بیگم چیف آف آئیر سٹاف ائیر مارشل طاہر رفیق بٹ تھی جنہوں نے جیتنے والے کھلاڑیوں میں انعامات اور ٹرافیاں تقسیم کئے اختتامی روز سکی کے کھلاڑیوں نے خوبصورت کرتب کے مظاہرے دکھائے جس سے تماشائی خوب لطف اندوز ہوئے اختتامی تقریب میں بڑی تعداد میں تماشائیوں نے شرکت کی اس سعدیہ خان اسکی چمپئن شب 2013ء سے سب سے اہم بات پر رہی کہ اس میں ٹوٹل12میڈلز تھے جس میں سے11میڈلز گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے حاصل کئے جن میں اکثر نے نلتر سکی سکول میں تربیت حاصل کی ہے اس ٹورنامنٹ کی کامیابی کیلئے صدر جی بی اسکی ایسو سی ایشن کرنل امجدولی نے اہم کردار ادا کیا انہوں نے میچ ریفری کے فرائض بھی انجام دئیے گلگت بلتستان کے عوامی حلقوں نے گلگت بلتستان کی ٹیم کو نیشنل سکی چمپئن شب 2013ء میں کامیابی حاصل کرنے پر شاندار انداز میں خراج تحسین پیش کیا مگر اتنے اہم قومی نوعیت کے پروگرام میں گلگت بلتستان حکومت کی طرف کوئی نمائندہ بھی شریک نہ ہوا جس سے وہاں پر موجود تمام تماشائیوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
DSC01742

گلگت بلتستان میں عدالتی بحران۔۔۔۔۔۔ذمہ دار کون؟

Posted on Updated on

Scale_of_justice_2_newگلگت بلتستان کے اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی گزشتہ چھ ماہ سے التوا کا شکار ہے صوبائی حکومت کی طرف سے بھیجی گئی سمری وزارت امور کشمیر والوں کو پسند نہ آسکی۔ جس کی وجہ سے اس سمری کو انہوں نے بڑے عرصے تک اپنے پاس دبائے رکھا۔ جبکہ گزشتہ دنوں گورنر پیر کرم علی شاہ اور وزیر قانون وزیر شکیل کی طرف سے سامنے آنے والی بیانات میں کہا گیا کہ یہ سمری وزیراعظم کے ٹیبل پر پڑی ہے ۔ اب یہ کسی کو بھی معلوم نہیں ہے کہ چھ مہینے سے سمری وزارت امور کشمیر اور وزیراعظم ہائوس کے ٹیبل پر موجود ہے نہ جانے مذید کتنے مہینے یا سال یہ سمری اس ٹیبل پر موجود رہیگی۔
اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی عدم تعیناتی اب ایک معمہ بنتا جارہا ہے۔ یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے بھیجی گئی سمری وزارت امور کشمیر والوں کو راس نہیں آئی ہے وہ چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے اعلیٰ عدالتوں میں ججز ان کے ہمنوا اور چاہنے والے تعینات ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس سمری میں مقامی ججز کی تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یقینا وہ نہیں چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے اعلیٰ عدالتوں میں ججز مقامی ہوں۔ وہ دل سے نہیں چاہتے ہیں کہ یہاں کے لوگ بااختیار ہوں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو کب کا اس سمری پر عمل درآمد ہوتا اور ججز کی تعیناتی عمل میں آچکی ہوتی۔
گلگت بلتستان کے اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی عدم تعیناتی سے مسائل میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اہم عدالتی امور ٹھپ ہیں خطے میں کرپشن جو تھمنے کا نام نہیں لے رہی، سرکاری ملازمتیں جو کھلے عام بک رہی ہیں، گلگت شہر میں امن و امان کا صورتحال یعنی آئے روز لاشوںکا گرنا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے بالکل اسی طرح کے کئی دوسرے اہم مسائل موجود ہیں مگر ان پر کوئی از خود نوٹس لینے والا نہیں ۔ خطے میں انصاف اور احتساب کو محدود کیا جارہا ہے۔ لوٹ مار ،کرپٹ افراد اور دہشتگردوں کو کھلی آزادی حاصل ہے وہ باآسانی اپنے مقاصد کو حاصل کر لیتے ہیں، ان کو یہ معلوم ہے کہ یہاں تو کوئی پکڑ دھکڑ ہوتی ہی نہیں ہے۔ اعلیٰ عدالتیں ججوں سے خالی پڑی ہیں، تو ایسے میں ان عناصر کو مذید تقویت مل جاتی ہے۔ دوسری طرف خطے میں جاری عوامی مفاد عامہ کے کاموں کی طرف دیکھتے ہیں تو صرف مایوسی ہی ملتی ہے اہم ترقیاتی منصوبے التوا کا شکار ہیں، کئی عوامی مفاد عامہ کے کاموں میں ٹھیکیدار ایڈوانس پے منٹ لیکر غائب ہو چکے ہیں۔ جس سے براہ راست یہاں کے شہری متاثر ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل گلگت بلتستان سپریم اپیلٹ کورٹ کے سربراہ جسٹس نواز عباسی تھے۔ انہوں نے اپنے دور میںکئی اہم فیصلے بھی کئے۔ جس میں کئی اہم عوامی نوعیت کے کیسز میں از خود نوٹسیز لئے جس کی وجہ سے ان کاموں پر بروقت کام شروع کر دیا گیا عوام محکموں کے سربراہوں،ساستدانوں اور بیوروکریٹس کے دلوں میں عدلیہ کا ایک خوف تھا۔ مگر اب یہ خوف بڑی حد تک ختم ہو چکا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام اور تمام اخبارات چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے اور اب تک کہہ رہے ہیں کہ محکمہ تعلیم میں ایک استاد کی ملازمت3 لاکھ میں بغیر ٹیسٹ انٹرویو کے بیچی جارہی ہے۔ اس حوالے سے تمام تر شواہد ہونے کے باوجود قوم کے معماروں کے ساتھ ایسا گھنائونا کھیل جو اب تک کھیلا جارہا ہے، کسی نے اس پر ایکشن لینے کی زحمت نہیں کی۔ اور تعلیم میں اب تک جو کچھ

ہو رہا ہے اس کا نتیجہ اتنا خوفناک اور مایوس کن ہوگا کہ اس سے یقینا پورا خطہ متاثر ہوگا اور یہ کھنائونی کھیل کھیلنے والے کم از کم اوپر والے کے عذاب سے بچ نہیں پائیں گے۔ محکمہ تعلیم کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں میں بھی یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ ججوں سے خالی ہے جبکہ صوبائی حکمرانوں نے آنکھیں بند کر لی ہیں ایسا لگ رہا ہے کہ ان تمام محکموں میں ہونے والے چور دروازے سے بھرتیوں ،کرپشن ،لوٹ مار، تین لاکھ کے اساتذہ بھرتیوں اور اسی طرح کے دیگر عظیم کاموں میں تمام صوبائی حکمرانوں کو حصہ مل رہا ہے۔ ورنہ کوئی نہ کوئی تو ان عظیم کاموں کے بارے میں آواز بلند کرتا۔ گلگت بلتستان کے اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعیناتی کو التواء میں رکھنے کے حوالے سے ایک رائے یہ بھی سامنے آرہی ہے کہ اس میں صوبائی حکومت کی بھی مرضی شامل ہے تاکہ ان کو خطے میں اپنے من پسند فیصلے کرنے اور پالیسیاں مرتب کرنے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ اور حکومت محکمہ تعلیم، و دیگر سرکاری اداروںمیں جو عظیم کام سرانجام دے رہی ہیں ان کو بطریق احسن پایہ تکمیل پہنچانے کے ساتھ ساتھ بینک بیلنس بھرو تحریک کو بھی خوش اسلوبی سے انجام تک پہنچائے۔ اس لئے صوبائی حکمران بڑے خوش ہیں کہ جتنا ہو سکے اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی التوا میں ہی پڑی رہے۔
سیلف امپاورمنٹ آرڈر 2009ء کے تحت سپریم اپیلٹ کورٹ میں بشمول چیف جج 3ججز جبکہ چیف کورٹ میںچیف جج سمیت5ججز کی تعیناتی لازمی ہے، مگر گزشتہ ڈیڑھ سال سے عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ میں کئی ججوں کی پوسٹیں خالی ہیں۔ سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے کہ آخر وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے کیا مقاصد ہیں اپنی مرضی مسلط کرنے کیلئے عوام کو انصاف سے کوسوں دوررکھا جارہا ہے، موجودہ حکمرانی سول آمریت کی طرح لگ رہی ہے دنیا کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ جس معاشرہ میں عوام کو انصاف میسر نہ ہو، اور عدالتوں کو مذاق بنایا جائے وہاں مسائل خود بخود جنم لیتے ہیں، گلگت شہر میں آئے روز بے گناہ مر رہے ہیں۔ گورنر ،وزیراعلیٰ سے لیکر تمام وزیراور مشیر روایتی بیانات داغتے رہتے ہیں ۔ پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے روایتی خانہ پری میں مصروف ہوتے ہیں جبکہ دہشت گرد باآسانی اپنے مقاصد حاصل کرکے اگلی کاروائیوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا ہے کہ یہاں انصاف کا کوئی نظام نہیں ہے۔ قانون کی گرفت مضبوط نہیں ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو مسائل بھی چلتے رہیں گے بے گناہ مرتے رہیں گے ۔ غریب انصاف کیلئے چیختے چلاتے رہیں گے، کرپشن اپنی آخری حدوں کو چھولے گی، میرٹ کی پامالی معمول بن جائے گی، سفارش کا بول بالا ہو گا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی رہیں گی، غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا رہیگا، مذہبی،مسلکی،لسانی و علاقائی اختلافات جنم لیتے رہیں گے۔۔۔۔۔ان تمام مسائل کا حل آخر جا کر انصاف پر ختم ہو جاتا ہے، اور جب تک ایک عام شخص تک انصاف کی رسائی ممکن نہ ہو ایسے مسائل جنم لیتے رہیں گے۔
جناب گورنر پیر کرم علی شا اور وزیراعلیٰ مہدی شاہ! گلگت بلتستان کے عوام آپ دونوں سے سوال کرتے ہیں کہ آخر کب تک یہ سلسلہ چلتا رہیگا۔ کب تک ایک عام شہری انصاف کیلئے ترستا اور روتا رہیگا، کب تک خطے میں قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری رہیگا اور لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے، کب تک عدلیہ جیسے اہم ادارے میں پسند و ناپسند سے ججوں کی تعیناتی کیلئے کوششیں جاری رہیں گے، آخر کب تک لوٹ مار کرپشن، سفارش، اقربا پروری، چور دروازے سے بھرتیوں اور میرٹ کی پامالی کا یہ سلسلہ جاری رہیگا کب خطے میں عدلیہ کے تمام ججز کی تعیناتی عمل میں آئے اور مکمل آزادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دے سکیںکے۔۔۔۔؟
آخر کب تک شاہ صاحبان۔۔۔۔۔! آخر کب تک یہ سلسلہ چلتا رہیگا۔۔۔۔خطے کے بیس لاکھ عوام آپ دونوں سے ان سوالات کے جوابات مانگتے ہیں۔۔۔۔۔ جب تک آپ ان سوالات کے جوابات نہیں دے سکتے۔۔۔۔ آپ کا ضمیر یقیناآپ کو ملامت کرتا رہیگا۔۔۔۔مجھے نہیں لگ رہا ہے کہ آپ کو اب بھی کوئی احساس ہو۔۔۔۔بقول شاعر
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کروگے

اتحادی، حکومتی اور اپوزیشن اراکین کی مہدی شاہ حکومت پر تنقید

Posted on Updated on

Gilgit-Baltistan-Legislative-Assemblyگلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے پچیسویں اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی اپوزیشن اور اتحادی اراکین کے ساتھ ساتھ حکومتی اراکین نے بھی حکومت کی کارکردگی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ خطے کی امن و امان کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علاقے میں جب بھی حالات خراب ہوتے ہیں وزراء اسلام آباد بھاگ جاتے ہیںجب کہ امن و امان سمیت اہم علاقائی ایشوز پر اپوزیشن اور اتحادی اراکین سے مشاورت نہیں کی جارہی ۔ اپوزیشن کے صرف تین اراکین بھی حکومت کو برداشت نہیں ہو رہے ہیں وزیراعظم کے اعلانات پر اب تک کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوئی ہے کئی سرکاری اداروں میں قلم اور کاغذ خریدنے کے بھی پیسے موجود نہیں ہیں۔ کرپشن کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی ہے،حکومتی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علاقے میں سرکاری نوکریاں بک رہی ہیں جس کی وجہ سے طلباء مذید اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بجائے پیسے جمع کرنے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں خطے میں ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہیں بجٹ کہاں خرچ ہو رہا ہے کچھ پتہ نہیں خطے میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔
قصہ مختصر جب ایوان کے اندر وزیراعلیٰ اور چند وزراء کے علاوہ اگر حکومتی اتحادی اور اپوزیشن اراکین حکومت کی کارکردگی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں تو اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حکومت کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے اجلاس کے دوران وزیر قانون وزیر شکیل نے بڑی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ وزیراعظم کے اعلان کردہ دو ارب روپے لانے میں حکومت نے سستی کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے یہ رقم اب تک موصول نہیں ہوئی ہے اس سے بڑی جرات کا مظاہرہ وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ نے کیا انہوں نے کہا کہ کر وزراء کی اربوں کی کرپشن معاف کر دی اس کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ وزیر قانون و دیگر وزراء نے حکومتی کارکردگی کا دفاع کرنے کی بڑی حد تک کوششیں کی اس اسمبلی سیشن کے دوران ہونے والے سوالات و دیگر واقعات سے ایک بات تو واضح ہوگئی کہ جس طرح عوام حکومتی کارکردگی کے حوالے سے سوالات اٹھا رہے ہیں اسی طرح سے ہی عوام کے منتخب نمائندے بھی سوالات اٹھا رہے ہیں حکومتی کارکردگی کو خوب تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر عوام اور عوام کے منتخب نمائندے بھی آواز اٹھا رہے ہیں تو جائز بنیادی اور عوامی اہمیت کے حامل مسائل حل کیوں نہیں ہو رہے ۔ کون ہے جو ان مسائل کے حل میں رکاوٹ بن رہا ہے کیا صوبائی حکومت خود ٹھیک طریقے سے نہیں چل رہی ہے کیا اب تک مہدی حکومت کے دعوئوں چلانے کے باوجود اختیارات صوبے کو منتقل نہیں کئے گئے ہیں کیا کشمیر آفیئرز یا بیورو کریسی اب تک راستے میں حائل ہے کچھ تو ہے جس کی وجہ سے اتنے اہم عوامی نوعیت کے مسائل جوں کے توں ہیں لہذا پہلے ان سوالات کا جواب ڈھونڈنا ہوگا۔کیونکہ خطے میں ترقی کا پہیہ جام ہے عوام کے ساتھ ساتھ اراکین اسمبلی بھی حکومتی کارکردگی سے نالاں کیوں ہیں یہ کہا جا سکتا ہے کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔
وفاق میں چھ ماہ بعد عام انتخابات ہونے ہیں اور ان انتخابات کا اثر سابق ادوار کی طرح ہر حال میں گلگت بلتستان پر بھی پڑے گا وفاق میں حکومتی کارکردگی سے عوام کی ا کثیریت خوش نہیں ہے جس کی واضح مثال گزشتہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ کی واضح کامیابی کی صورت میں سامنے آئی ہے گلگت بلتستان حکومت کے پاس بھی اب صرف دو ہی سال رہ گئے ہیں مگر ان دو سالوں میںاگر وفاق میں نئی حکومت پیپلزپارٹی کے بجائے کسی اور پارٹی کی آجاتی ہے تو یہاں بھی بقیہ سالوں میں موجودہ صوبائی حکومت کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان دو سالوں میں اگر حکومت عوامی اہمیت کے چند ایک اہم منصوبے شروع کرتی ہے یا پھر بڑھتی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ برھتی ہوئی کرپشن اور چوردروازوں سے بھرتیوں پر پابندیاں لگاتی ہے تو یہ بھی موجودہ حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ یقینا یہ مسائل یک دم حل نہیں ہو سکتے اگر کوششیں کی جائے تو ان بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔
موجودہ حکومت کے پاس وقت بہت کم ہے مگر بہت کچھ کرنا ہے اپنی گرتی ہوئی ساکھ بحال کرنے کے لئے چند ایک اہم اقدامات بغیر وقت گزارے اٹھانے ہونگے ایوان کے اندریا باہر اختیارات میں بڑی بڑی بیانات دینے سے مسائل حل نہیں ہو سکتے اجتماعی کوششیں کرکے وفاق سے وزیراعظم کے اعلان کردہ اعلانات سمیت بے روزگاری کے خاتمے کرپشن میں کمی و دیگر اقدامات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا وقت بڑی جلدی سے ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے ایسے مواقع بار بار کسی کو نصیب نہیں ہوتے۔ بعد میں پچھتانے اور افسوس کرنے سے یہ بہتر نہیں ہے کہ جو موقع ہاتھ میں ہے اس سے فائدہ اٹھا کر ایسا کچھ کر چلے کہ آنے والی حکومتیں اور نسلیں سب یاد رکھیں۔

گلگت بلتستان این ٹی ایس کی سہولت سے تاحال محروم

Posted on Updated on

Imageپاکستان کے کسی بھی یونیورسٹی میں ماسٹر ، ایم فل اور پی ایچ ڈی میں داخلے کے لئے این ٹی ایس کا ٹیسٹ پاس کرنا لازمی قرار دیا گیا ۔اس ٹیسٹ میںسو میں سے پچاس نمبر لائے بغیر کسی بھی بڑے اعلی تعلیمی ادارے میں داخلہ نہیں مل سکتی ۔اب تک پاکستان کے 26سے زائد مختلف شہروں میںاین ٹی ایس کے ٹیسٹ سنٹرز قائم کردیئے گئے ہیں مگر گلگت بلتستان اس سہولت سے تاحال یکسر محروم تھے ۔جب اخبار میں اعلانات ہورہے ہیں کہ خطے کو صوبہ بنایا گیا ہے سکردو اور گلگت کو بگ سٹی کا درجہ دیا گیا اس سے اچھا یہ نہ ہوتا کہ صرف نام کے اعلانات کے بجائے کچھ ایسا کیا جاتا جو عملی طور پر یہاں کے عوام کی بہتری میں ہو ۔جب ملک کے 26چھوٹے بڑے شہروں میں سینکڑوں کے تعداد میں سنٹرز رکھے جاتے ہیں تو اب تک گلگت بلتستان کو اس اہم سہولت سے کیوں محروم رکھا جارہا ہے ۔دیگرحصوں کے طلباء کی طرح گلگت بلتستان کے طلباء بھی اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اعلی تعلیمی اداروں میں داخلے کے لئے این ٹی ایس ٹیسٹ کو پاس کرنا لازمی قرار دیا ہے لہذا صوبائی حکومت سے گزارش ہے کہ طلباء کے مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے گلگت اور سکردو میں این ٹی ایس سنٹر کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ گلگت بلتستان کے طلباء کو ٹیسٹ کے لئے ہر تین چار ماہ بعد ایبٹ آباد اور اسلام آباد جانے کے ساتھ ساتھ ہزاروں کے اخراجات برداشت کرنا نہ پڑے۔